ہرات کا وہ رئیس جو غلاموں کو اپنے بیٹوں کی طرح رکھتا تھا ،ایک روز ایک مفلس شخص نے انہیں دیکھا تو اللہ سے شکوہ کیا کہ .. .. بندہ پروری کی حقیقت پر ایسا واقعہ جو اللہ سے شکوہ کرنے والوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے

ہرات کا وہ رئیس جو غلاموں کو اپنے بیٹوں کی طرح رکھتا تھا ،ایک روز ایک مفلس شخص ...
ہرات کا وہ رئیس جو غلاموں کو اپنے بیٹوں کی طرح رکھتا تھا ،ایک روز ایک مفلس شخص نے انہیں دیکھا تو اللہ سے شکوہ کیا کہ .. .. بندہ پروری کی حقیقت پر ایسا واقعہ جو اللہ سے شکوہ کرنے والوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے

انسان اللہ تعالیٰ کی حقیقت سے کبھی بھی واقف نہیں ہوسکتا، لہٰذا انسان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کبھی گستاخی کے الفاظ ادا نہیں کرنے چاہئیں۔لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ ذرا سی تکلیف پہنچی نہیں انسان نے بندگی چھوڑ دی اور لگا شکوے کرنے ۔ایسے لوگوں کو انسانوں سے ہی وفا سیکھنی چاہئے ۔

ہرات کا ایک رئیس بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ بادشاہ اس پر مکمل اعتماد کرتا تھا۔ اس نواب کے خاصی تعداد میں غلام تھے جن کو وہ بیٹوں کی طرح آرام اور زیب و زینت سے رکھتا تھا۔ ان شاندار زیب و زینت سے آراستہ غلاموں کی ٹولیاں بازار میں گشت کررہی تھیں۔

ایک غریب، مفلس، تلاش شخص جو بھوکا اور ننگا تھا، ان کو دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا۔

”یہ رئیس زادے کون ہیں؟“

جواب دینے والے نے کہا ” یہ ہمارے اس علاقے کے نواب کے چاکر ہیں۔“

وہ یہ سن کر حیران رہ گیاا ورآسمان کی طرف منہ کرکے کہنے لگا”اے اللہ! اپنے ا س بندے کو دیکھ کہ سردی کے مارے اس کے دانت بج رہے ہیں اور بھوک سے اس کا برا حال ہوگیا ہے اور اس علاقے کے نواب بندوں کو دیکھ کہ ا س کے غلام کتنے موٹے تازے، بے فکری اور فارغ البالی سے ادھر اُدھر اتراتے پھررہے ہیں۔“

تقدیر الہٰی سے نواب رئیس کے عروج کا ستارہ زوال پذیر ہوگیا۔ بادشاہ نے بعض وجوہات کی بنا پر اس کو قید کروادیا۔ اس کے اموال و املاک کو ضبط کرلیا اور اس کے وفادار ساتھیوں کو شکنجوں میں پھنسا کر رئیس کے ذاتی معاملات کے متعلق پوچھنے لگا۔ اتنی تکلیف کے باوجود رئیس کے کسی غلام نے بھی کوئی بات نہ بتائی۔ یہ سب کچھ اس منہ پھٹ بے نواکے سامنے ہورہا تھا۔

بادشاہ نے کہا ”میں تمہاری زبان اور ہاتھ کٹوادوں گا۔“

تم غلام خاموش رہو۔ اس پر بادشاہ کے غضب کی آگ اور بھڑک اٹھی اور مسلسل کئی دن تک ان پر بے جا سختیاں کرواتا رہا لیکن کیا مجال کسی کی ز بان نے اپنے مالک کے متعلق کوئی شکوہ شکایت یا بھید ظاہر کیا ہو۔

یہ دردناک منظر دیکھ کر وہ بے نوا شخص بے ہوش ہوگیا اور عالم بے ہوشی میں اس نے یہ آواز سنی”اللہ تعالیٰ کو بندہ پروری کا سبق دینے والے ان غلاموں کی وفاداری دیکھ اور بندہ بننے کا سبق بھی ان غلاموں سے سیکھ۔“

مزید : روشن کرنیں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...