چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواتین کے اسکرٹ سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواتین کے اسکرٹ سے متعلق بیان پر معذرت کرلی
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواتین کے اسکرٹ سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواتین کے اسکرٹ سے متعلق اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ونسٹن چرچل کے محاورے کی مثال دی تھی ، اس بیان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہے۔

ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے بیان پر معذرت کرلی، انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاہور میں کی گئی ان کی تقریر سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں ، ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین معاشرے کا پچاس فیصد حصہ ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے بیان کو ایشو بنانے کی کوشش کی گئی، انہوں نے اسکرٹ کے بارے میں سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے محاورے کی مثال دی تھی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتے لاہور میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’تقریر کی طوالت عورت کے اسکرٹ کی طرح ہونی چاہیے جو نہ اتنی لمبی ہو کہ لوگ اس میں دلچسپی کھو دیں اور نہ ہی اتنی مختصر کہ موضوع کا احاطہ نہ کر سکے۔‘

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد