فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر339

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر339
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر339

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دوسرے روز علی الصبح پہلے تو ڈاکٹر ولیم کمرے میں داخل ہوئے اور پھر ان کے پیچھے پیچھے وہی سانولی سلونی نرس نمودار ہوئیں۔ ڈاکٹر ولیم نے حسب معمول نرس کے ہاتھ سے ہمارا چارٹ لے کر دیکھا۔ پھر ہمارا حال چال پوچھا۔ ہم نے اپنا بازو آگے بڑھا دیا۔ نرس کا رنگ اُڑ گیا۔ ڈاکٹر ولیم نے کہا ’’اوہو۔ کیا رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی؟‘‘

ہم نے کہا ’’جی ہاں‘‘ یہ کہہ کر نرس کی طرف دیکھا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید ہم اب ان کی شکایت کریں گے۔ ڈاکٹر ولیم کے علاوہ سینئر نرس بھی ہمراہ تھیں اور وہ بہت ہٹلر قسم کی خاتون تھیں۔ تمام نرسوں کی ان سے جان جاتی تھی۔ معمولی سی غلطی کو بھی معاف نہیں کرتی تھیں۔

ہم نے مسکرا کر بے پروائی سے کہا ’’ڈاکٹر۔ ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ بیماری میں تو یہی کچھ ہوتا ہے۔‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر338 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ڈاکٹر ولیم مسکرائے اور بولے ’’گُڈشو۔ مریضوں کو ایسا ہی بہادر ہونا چاہیے‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے ہمارے چارٹ کے کاغذات نرس کے حوالے کیے اور کمرے سے باہر نکل گئے۔ نرس کوہماری طرف توجہ دینے یا ہم سے بات کرنے کی مہلت نہیں تھی۔ پھربھی وہ کمرے سے رُخصت ہوتے وقت پلٹ کر ممنون نظروں سے ہمیں دیکھنا نہ بھولیں۔ ہمیں ان کا یہ انداز بہت بھلا لگا۔

کچھ دیر بعد وہی نرس دوبارہ افتاں و خیزاں کمرے میں داخل ہوئیں۔ خدا جانے کتنی دور سے بھاگی ہوئی آئی تھیں۔ ان کی سانس پھولی ہوئی تھی۔

ہمارے بیڈ کے پاس آکر پہلے تو چند لمحے وہ اپنی سانس درست کرتی رہیں پھر بولیں ’’مسٹر آفاقی۔ میں آپ کی بے حد شکرگزار ہوں۔‘‘

’’کس لیے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’یہی کہ آپ نے ڈاکٹر اور ہیڈ نرس سے میری شکایت نہیں کی۔‘‘

ہم نے بے پروائی سے کہا ’’کوئی بات نہیں۔ بیماری میں تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔‘‘

وہ بولیں ’’پھر بھی شکریہ۔ میری ڈیوٹی ختم ہورہی ہے۔ میں نے سوچا کہ پہلے آپ کا شکریہ ادا کرتی چلوں‘‘ یہ کہہ کر وہ رُخصت ہونے لگیں مگر دروازے کے پاس جاکر پھر رُک گئیں اور پلٹ کر بولیں ’’میرا نام لیلیٰ ہے‘‘ یہ کہا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئیں۔

ہم نے سوچا کہ واقعی نام تو بہت موزوں ہے۔ بالکل اسم بامسمٰی ہیں۔

ان کے بعد جن صاحبہ کی ڈیوٹی تھی وہ نسبتاً کم عمر بلکہ نوعمر تھیں اور نرسنگ میں ابھی ان کا پہلا ہی سال تھا۔ یہ بات وہ ہمیں خود بتا چکی تھیں۔ دستوریہ تھا کہ صبح کمرے کی صفائی اور بستر کی چادر بدلنے کے لیے بیک وقت دو نرسیں کمرے میں آیا کرتی تھیں جن میں سے ایک سینئر ہوتی تھی اور دوسری جونیئر۔ اتفاق سے یہ دونوں ہنس مُکھ اور خوش مزاج تھیں اس لیے دوچار باتیں بھی کرلیا کرتی تھیں اور ہماری بات کا جواب بھی دے دیتی تھیں۔ ایک دن ہم نے ان سے بھی نام پوچھا تھا۔ دراصل سسٹر سسٹر کہہ کر مخاطب کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا تھا۔ ویسے بھی ہم جاننا چاہتے تھے کہ جن نرسوں نے اتنے خلوص اور ہمدردی سے ہماری خدمت کی ہے کم از کم ہم ان کے نام تو یاد رکھیں۔

ہمارے سوال کے جواب میں سینئر نرس نے کہا ’’دیکھئے مسٹر۔ ہمیں اپنے نام بتانے کا آرڈر نہیں ہے۔‘‘

’’اس میں حرج ہی کیا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

کہنے لگیں ’’دنیا میں ہر طرح کے لوگ پھرتے ہیں۔ مریض بھی ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض لوگ نام جاننے کے بعد اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں‘‘ پھر ذرا رک کر بولیں ’’ویسے میرا نام (ہم مصلحتاً صرف ابتدائی حرف لکھ رہے ہیں) پی ہے مگر اس کا نام میں نہیں بتاؤں گی۔‘‘

’’مگر کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ میں تو شادی شدہ ہوں مگر یہ ابھی کم عمر لڑکی ہے۔‘‘

یہ سُن کر وہ کم عمر نرس معصومیت سے مسکرائی۔ اس کا قد چھوٹا‘ جسم متناسب اور رنگ گورا تھا۔ ناک نقشہ مناسب تھا مگر سب سے نمایاں چیز اس کی بھوری مسکراتی ہوئی آنکھیں تھیں جو اس کے ہر دم مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ساتھ مسکراتی رہتی تھیں۔ وہ ایک شوخ اور چُلبلی لڑکی تھی۔ بولتی کچھ نہیں تھی مگر شوخی اور بے چینی اس کے انگ انگ سے ٹپکی پڑتی تھی۔

دو چار دن بعد خون دینے کا سلسلہ ختم ہوگیا اور ہم اٹھ کر چہل قدمی کرنے لگے۔ کبھی اپنے کمرے سے نکل کر اِدھر اُدھر اور ہسپتال کے ٹیرس پر بھی چلے جاتے تھے۔ ہمارا کمرہ ایک دائرے کے اندر تھا جس میں چاروں طرف کمرے تھے۔ درمیان میں تھوڑی خالی جگہ تھی۔ اس کے باہر جاؤ تو سامنے ہی نرسنگ کا اسٹاف روم تھا اور اس کے دونوں جانب پھر پرائیویٹ کمروں کی قطاریں تھیں۔

اب ہمارے پاس تیمار داروں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی تھی۔ یوں تو وقت مقررہ کے سوا کسی اور وقت ملاقاتیوں کی آمد پر پابندی تھی مگر فلم والے پھر بھی کسی نہ کسی طرح پہنچ جایا کرتے تھے اور ہسپتال کا سٹاف بھی انہیں خصوصی رعایت دے دیا کرتا تھا۔ ہمارے بہن بھائیوں میں سے کسی ایک کو ہر وقت آنے کی اجازت مل گئی تھی اس لیے ہمارے لیے تھیلی بھر بھر کر آئس کریم لائی جاتی تھی۔ ہم خود بھی کھاتے اور آنے جانے والوں اور نرسوں کو بھی پیش کردیا کرتے تھے۔ یہ نرسیں آغاز میں تو بہت محتاط رہیں مگر پھررفتہ رفتہ قدرے بے تکلّف ہوگئیں۔

آئس کریم کی ہمارے پاس ہر وقت کافی مقدار موجود رہتی تھی۔ جو مزاج پُرسی کے لیے آنے والوں کو کھلانے کے بعد بھی بچ رہتی تھی اس لیے ہم نے نرسوں کو بھی اس میں شریک کرلیا۔ شروع میں تو انہوں نے بہت انکار کیا اور کہا کہ ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے سخت ممانعت ہے مگر پھر ہمارے اصرار پر رضامند ہوگئیں۔

ہم اپنے چھوٹے بھائی یا کسی اور آنے والے سے کہتے ’’بھئی دیکھتے کیا ہو۔ سسٹر کو آئس کریم نکال کر دو۔‘‘

وہ ’’نہ نہ‘‘ کرتی رہتیں مگر آئس کریم ان کے ہاتھ میں تھما دی جاتی تھی۔ وہ پریشانی سے دیکھتیں تو ہم کہتے۔

’’جلدی سے کھا لیجئے۔ اگر کوئی آگیا تو ہم ذمّہ داری نہیں لیں گے۔‘‘

ایک دن بہت پُرلطف فلمی سین ہوگیا۔ ہمارا چھوٹا بھائی علی عمران الصبح ناشتا اور آئس کریم لے کر آیا تو اس وقت کمرے میں دو نرسیں موجود تھیں جن میں سے ایک پہلی مرتبہ ہمارے کمرے میں آئی تھیں۔

ہم نے اپنے بھائی سے کہا ’’بھئی سسٹر کو آئس کریم دو نا۔‘‘

سسٹر کا رنگ فق ہوگیا۔ اس نے اشارے سے دوسری نرس کی طرف دیکھا۔

ہم نے کہا ’’کوئی حرج نہیں ہے۔ نئی نرس کو بھی آئس کریم دے دو۔ بہت اچھّی اور مزیدار ہے۔‘‘

دوسری نرس نے کہا ’’سوری مسٹر آفاقی۔ میں ڈیوٹی پر ہوں اس لیے آئس کریم نہیں کھاؤں گی۔‘‘

ہم نے کہا ’’اس میں کیا برائی ہے سسٹر۔ آئس کریم ہی تو ہے ایک منٹ میں گھل جائے گی۔ لیجئے۔ پلیز۔ ہماری خاطر۔‘‘

انہوں نے جھجکتے ہوئے دروازے کی دیکھا۔

ہم نے علی عمران سے کہا ’’تم دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوجاؤ۔ اگر ہیڈنرس یا کوئی ڈاکٹر اس طرف آنے لگے تو ہمیں بتا دینا۔‘‘

دونوں نرسوں نے فوراً آئس کریم لے لی اور اس سے لطف اندوز ہونے لگیں۔ یکایک عمران نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور کہا ’’سینئر نرس اس طرف آرہی ہیں۔‘‘

دونوں نرسوں کے چہرے ایک دم سفید ہوگئے۔

ہم نے کہا ’’تم دونوں باتھ روم میں چلی جاؤ۔ جلدی کرو۔‘‘ وہ دونوں فوراً باتھ روم کے اندر غائب ہوگئیں۔ سینئر نرس مسز پی اندر آئیں تو انہوں نے حسب معمول کھڑے کھڑے ہماری مزاج پُرسی کی۔ پھر کہا ’’اوہو۔ آئس کریم کھائی جارہی ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’عمران۔ سسٹر کو بھی آئس کریم دو۔‘‘

وہ بولیں ’’اوہ نو۔ میں ڈیوٹی پر ہوں۔ اس وقت آئس کریم نہیں کھا سکتی‘‘

ہم نے کہا ’’سسٹر۔ مشکل یہ ہے کہ ڈیوٹی کے بغیر آپ ہمارے کمرے میں نہیں آتی ہیں۔ تو پھر ہم آپ کو آئس کریم کس وقت کھلائیں؟‘‘

وہ مسکرانے لگیں ’’آئس کریم کھلانا کوئی ضروری تو نہیں ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’دیکھئے۔ بیمار کا دل رکھنا بھی نرسوں کا فرض ہوتا ہے۔ ہماری خاطر ایک آئس کریم کھا لیں گی تو قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ عمران‘ سسٹر کو آئس کریم دو۔‘‘

سسٹر نے بہت مجبوری سے ہمیں دیکھا اور پھر آئس کریم لے لی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور اچھّی خاتون تھیں۔ کبھی کبھار ہم سے اِدھر اُدھر کی باتیں بھی کرلیتی تھیں۔ سیاست اور فلم ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔

انہوں نے آئس کریم لے تو لی مگر پریشان تھیں ’’آپ بہت ضد کرتے ہیں۔ بلاوجہ مجبور کرتے ہیں۔ آج آپ نے مجھ سے اصولوں کی خلاف ورزی کرائی ہے مگر یاد رکھئے۔ اس کے بعد میں ہرگز آپ کی دعوت قبول نہیں کروں گی۔‘‘

ہم نے کہا ’’وعدہ رہا۔ ہم پھر کبھی آپ کو مجبور نہیں کریں گے۔‘‘

وہ آئس کریم کھانے میں مصروف ہوگئیں۔ ہم بھی آئس کریم کھارہے تھے۔ عمران بھی آئس کریم کھا رہے تھے اس لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر340 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ