زینب کا قاتل پکڑنے سے پہلے پولیس حراست میں 13 لوگوں نے قاتل ہونے کا اعتراف کیا، پھر کس نے مداخلت کر کے کیس کو سلجھادیا؟ انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

زینب کا قاتل پکڑنے سے پہلے پولیس حراست میں 13 لوگوں نے قاتل ہونے کا اعتراف ...
زینب کا قاتل پکڑنے سے پہلے پولیس حراست میں 13 لوگوں نے قاتل ہونے کا اعتراف کیا، پھر کس نے مداخلت کر کے کیس کو سلجھادیا؟ انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

  

لاہور (ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کی گرفتاری کے حوالے سے یہ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، ملزم عمران کی گرفتاری سے پہلے 13 زیر حراست افراد نے پولیس کی انویسٹی گیشن میں زینب کے قتل کا اعتراف کیا تھا اور پولیس کی نظر میں وہی قاتل تھے، مگر حساس اداروں کی بروقت مداخلت اور خود کیس کو دیکھنے پر کسی بے گناہ کے سر پر یہ قتل نہ ڈالا گیا۔

روزنامہ 92 کے مطابق ملزم عمران جو کہ آٹھ بچیوں کے قتل میں ملوث ہے اس کے حوالے سے انویسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمران ہر واردات کے بعد دو سے تین شہروں میں وقت گزار کر آتا تھا جن میں شیخوپورہ، لاہور، پاکپتن اور ساہیوال شامل ہیں۔ ملزم نے تمام وارداتیں زیر تعمیر گھروں میں کیں اور ہر واردات کرنے سے پہلے اس علاقہ کے قریب ترین زیر تعمیر کسی بھی مکان میں جاتا اور دو روز تک وہاں جگہ بناتا اور اس کے بعد بچی کو اغوا کرکے درندگی کا نشانہ بناتا اور بچی کو مارنے کے بعد کئی گھنٹوں تک وہیں پر رکھتا اور صبح فجر سے پہلے بچی کی لاش کسی مقام پر پھینک دیتا۔ ملزم عمران کا ڈی این اے ٹیسٹ جب 14 تاریخ کو لیا گیا تو ٹیسٹ لینے والی ٹیم نے شناختی کارڈ سے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس کے پاس شناختی کارڈ نہیں اور اپنا نام عمران علی لکھوایا، اس وقت 100 سے زائد افراد وہاں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے موجود تھے۔ عمران وہاں شور مچاتا رہا کہ پولیس جان بوجھ کر محلہ داروں کو تنگ کررہی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ محلہ داروں کی ترجمانی کررہا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ 14تاریخ سے پہلے جب شک کی بنا پر اس کو پولیس نے پکڑا تو صرف چار گھنٹے بعد ی یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یہ بیمار آدمی ہے، دوبارہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب 14 تاریخ اور 20 تاریخ کو لئے گئے ٹیسٹوں سے متعلق تفتیشی ٹیم کو بتایا گیا کہ عمران نامی شخص کا ڈی این اے مل گیا ہے۔ فوری طور پر حساس اداروں اور پولیس کی ایک ٹیم نے عمران کا ریکارڈ چیک کیا اور اس کے گھر سے اس کو گرفتار کیا گیا۔ عمران کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس کے گھر میں موجود دیگر افراد کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ملزم عمران کے حوالے سے تفتیشی عمل چار گھنٹوں میں ہی مکمل ہوگیا تھا۔ عمران کے انکشافات پر تفتیشی ٹیم نے ثبوت جمع کرکے میڈیا کو بتایا۔ جے آئی ٹی میں سب سے زیادہ اہم کام آئی ایس آئی اور ایم آئی نے کیا۔

دونوں حساس اداروں نے عمران کے ڈی این اے ٹیسٹ سے قبل ہی اس کی نگرانی شروع کررکھی تھی اور کافی حد تک وہ ایسے شواہد بھی اکٹھے کرچکے تھے جن سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ ملزم یہی ہے، صرف اس کے ڈی این اے ٹیسٹ کے رزلٹ کا انتظار تھا۔ زینب کی جس جگہ سے لاش ملی ہے اس سے کچھ فاصلہ پر واقع زیر تعمیر گھر کے اندر اس کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس بات کی بھی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس پوری کارروائی میں اب تک کی تفتیش میں صرف عمران ہی ملوث ہے، اس کے خاندان اور دوستوں میں سے جرم میں کوئی ملوث نہیں نکلا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور