پنجاب یونیورسٹی ہنگامہ ’’ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ‘‘ تصویر کا یہ رخ بھی دیکھنا ضروری ہے ۔۔۔

پنجاب یونیورسٹی ہنگامہ ’’ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ‘‘ تصویر کا یہ رخ بھی ...
پنجاب یونیورسٹی ہنگامہ ’’ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ‘‘ تصویر کا یہ رخ بھی دیکھنا ضروری ہے ۔۔۔

 تحریر:راؤ انعام الرحمن

’’ بدسے بدنام برا‘‘  کی کہاوت بڑی مشہور ہے، گزشتہ دس ماہ سے اسلامی جمعیت طلبا بھی اسی کہاوت کی بھینٹ چڑھتی نظر آتی ہے ، گزشتہ برس 21 مارچ کوپنجاب یونیورسٹی آڈیٹوریم میں پشتون کلچر ڈے کے حوالے سے منعقد کی گئی تقریب ہنگامے کی نذر ہوئی تو اس کا الزام پلک جھپکتے ہی جمعیت کے کارکنوں کے پر لگا دیا گیا ، سوشل میڈیا پر پشتون طلبہ کی ویڈیوز وائر ل ہوئیں تو ہر کوئی تنقید کے نشتر جمعیت کے کارکنوں پر چلاتا نظر آیا لیکن کسی نے یہ زحمت گوارا نہیں کہ یونیورسٹی سے چند گز فاصلے پر موجود جناح ہسپتال جا کر دیکھ لے کہ وہاں کون سٹریچر پر پڑا ہے ؟۔ پشتون طلبہ کے ساتھ ہمددریاں جتانے والوں کو لہولہان جمعیت کے کارکن نظر نہ آئے ۔ابھی دس ماہ قبل خالصتاً لسانیت کی بنیاد پر لگائی گئی یہ آگ بجھی نہیں تھی کہ تعصب کی عینک چہرے پر سجائے حقائق کو جانے بغیر یہی لوگ پنجاب یونیورسٹی میں دوروز قبل پیش آنے والے دلدوز واقعہ پر آئی جے ٹی پر دشنام طرازی کرنے میں مصروف ہوگئے ، یہ لوگ جمیعت کے کارکنوں غنڈوں سے تشبیہ دیتے ہیں جبکہ باقی تیظیموں میں موجود کارکنوں کو  معصوم اور دودھ کے دھلے قرار دینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاتے ۔

قبل اس کہ اس بحث میں الجھا جائے کہ دو روزقبل پیش آنے والے واقعہ کا ذمہ دار کون تھا؟ اس واقعہ کے حقائق پر بات کرلی جائے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ میں پوائنیر فیسٹیول کی تقریب منعقد کرنے جارہی تھی جس کے لیے اس نے سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین اور میڈیا نمائندوں کو دعوت دی ہوئی تھی ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمعیت کے کارکن خود سے چاہیں گے جو تقریب وہ سجانےجارہے ہیں وہ ہنگامےکی نذر ہوجائے ؟ کیا کوئی طلبہ تنظیم تقریب میں مہمانوں کو بلا کر اور میڈیا کو دعوت دے کر ان کے سامنے ڈنڈے سوٹے چلانے کا مظاہر ہ پیش کرنا چاہے گی ؟ کیا یونیورسٹی میں غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد منع ہے ؟ ایونٹ منسوخ ہونے کا فائدہ کس کو ہوا؟ تنقید کا نشانہ کونسی تنظیم بنی جس نے حملہ کیا تھا وہ یا جس پر حملہ ہوا تھا وہ؟ کیا جمیعت کے کارکنوں نے تقریب کا انعقاد کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف گروپ پر دھاوا بولا تاکہ اس کی جگ ہنسائی ہو؟اگران سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو یقیناً پھر جمعیت جس نے پوائنیر فیسٹیول کی تقریب منعقد کی تھی تھی وہ قصور وار ہے اور اگر ان سوالوں کا جواب ناں میں ہے تو پھر ان محرکات پر غور کرنا چاہیے جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا ۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ جمعیت کی جانب سے ہونے والے پوائینر فیسٹیول کو سبوتاژ کرنے کیلئے لسانی گروہ(پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ نے سوشل میڈیا پر پلاننگ کی۔ پنجاب یونیورسٹی میں سرگرم اس لسانی گروہ کے کچھ ارکان کی سوشل میڈیا پر ہونے والی چیٹ(بات چیت) منظر عام پر آئی ہے جس کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ جمعیت کا ایونٹ سبوتاژ کرنے کیلئے پوری منصوبہ بندی کی گئی تھی۔عزیزطوری اوراشرف خان نامی طلبا کے درمیان چیٹ میں ایک طالبعلم نے دوسرے سے کہا کہ جمعیت کچھ نہیں کرے گی ،22 جنوری کوان کاپروگرام ہے، 22 جنوری کاپروگرام کسی صورت نہیں کرنے دیں گے ۔ دوسرے طالبعلم نے کہاآپ کابینہ ممبرہو،فیصلہ کرو 22 جنوری کاپروگرام نہیں ہونے دینا، 50 ،60 لوگوں کی ڈیفنس فورس تیاری رکھی جائے۔

خیا ل رہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں دوسرے صوبے سے آنے والے طالب علموں کو کوٹے کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہے پشتون طلبہ بھی اسی کوٹہ سسٹم کی بناء پر جامعہ پنجاب کا حصہ ہیں ۔ ان پشتون طلبہ نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن حاصل کرنے کے بعد ایک تنظیم بنا لی ۔ پی ایس ایف کے نام سے بنی یہ تنظیم پشاور یونیورسٹی میں بھی موجود ہے۔جامعہ پشاور کے طالب علم اس تنظیم کے کارناموں سے بخوبی واقف ہیں ۔ پی ایس ایف جو کہ ابتدا میں ایک آزاد طلبا تنظیم تھی، کی بنیاد 8 اپریل 1968ء کو رکھی گئی۔ پی ایس ایف کا نظریہ جیسا کہ اس کے نام سے بھی واضح ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں پشتون طلبا کے حق کے لئے آواز بلند کرنا، ان کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور مستقبل کے لئے پشتون رہنما تیار کرناہے۔ باچاخان کی تعلیمات ہی اس تنظیم کی بنیاد اور کارکنان کے لئے مشعل راہ ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ رہنما یا لیڈر بنانے کا کوئی میکینزم اس تنظیم میں موجود نہیں۔ پی ایس ایف کا نظریاتی تعلق بائیں بازو کی جماعتوں سے ہر وقت ہی رہا ہے اسی وجہ سے اس تنظیم میں مختلف نظریوں والے لوگ شامل رہے ہیں اور اب  وہی لوگ عوامی نیشنل پارٹی میں بھی بڑا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔

جبکہ دوسری طرف 23 دسمبر 1974 کو معرض وجود میں آنے والی اسلامی جمعیت طلباء گو کہ نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے متاثر ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ جماعت سے بالکل الگ ہے۔ جمعیت نے اگر ایک طرف اچھے اچھے مقرر اور جماعت اسلامی کے لئے لیڈرشپ مہیا کی ہے تو دوسری طرف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی جمعیت کے تربیت کئے ہوئے لوگ پائے جاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنظیم مارپیٹ، مبینہ بدمعاشی اور تعلیمی اداروں میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی کام بھی کررہی ہے۔

دونوں طلبہ تنظیموں کا موازنہ کیا جائے "پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن "یعنی تنظیم کے نام میں ہی لسانیت کا عنصر پایا جاتا ہے جبکہ دوسری تنظیم" اسلامی جمعیت طلبہ " میں لسانیت ، عصبیت یا علاقایت کی کوئی تفریق نظر نہیں آتی اور اس کی سب سے بڑی مثال جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق ہیں جو کہ ماضی میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہ چکے ہیں ان کا تعلق پشتون گھرانے سے ہے ۔ جمعیت کے کارکنوں پر لازم نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاست کریں ، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال ماضی میں جمعیت کے کارکن رہ چکے ہیں آج یہ مسلم لیگ ن میں ہیں اور دو اہم وزراتیں سنبھالیں ہوئے ہیں ۔ اسی طرح محمود الرشید اور اعجاز چوہدری تحریک انصاف کا حصہ ہیں یہ بھی زمانہ طالب علمی میں جمعیت میں سے منسلک رہے ہیں ۔ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن پر جب نظر دوڑائی جائے تو آپ کو ایسا کوئی لیڈر نظر نہیں آئے گا جو عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ کسی دوسری پارٹی کا حصہ بنا ہو۔ پشتون طالب علموں نے لسانیت کے نام پر تنظیم بنا کر لسانی تفریق کو جنم دیا ۔ پنجاب یونیورسٹی میں میرٹ نہیں کوٹے کی بنیاد پر ایڈمیشن لینے والے پشتون طلبہ نے تنظیم بنا کر پنجابی پشتون تفریق پیدا کی ۔

مندرجہ بالاحقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے گزشتہ دس ماہ پیش آنے والے دو واقعات علمی نہیں لسانی ایشوز تھے ۔ پشتون کیونکہ پنجاب یونیورسٹی میں اقلیت میں ہیں تو ہر مسئلے میں ہمدردیاں ہمیشہ کمزور فریق سمیٹ لیتا ہے ۔ پشتون ڈنڈ ا اٹھاتا ہے ، جمعیت کے کارکنوں کی جانب سے سجائی گئی تقریب پر حملہ کرتا ہے ، آئی جے ٹی والے مار کھاتے ہیں اور آخر میں مظلوم بھی پشتون طالب علم بن جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ جمعیت کا ماضی بھی لڑائی جھگڑوں سے  تابناک رہا ہے مگر ضروری نہیں ہر لڑائی کی پہل جمعیت ہی نے کی ہو ۔ جامعہ پنجاب میں طلبہ تنظیم کے نام پر لسانیت، صوبائیت اور علاقایت کو ہو ا دی جارہی ہے ۔ جمعیت صبر کررہی ہے ، صبر کا یہ پیمانہ لبریز ہو گیا تو یونیورسٹی کی حدود سے نکل کر لسانیت کی یہ ہوا پنجاب کے گلی کوچے تک پہنچ جائے گی ۔ حکام بالا کو آنکھیں بند کر کے جمعیت کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے ترجیحی اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...