زینب قتل کیس ، سینٹ میں قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی تجویز پیش، حکومت قانون سازی کرے: رحمان ملک

زینب قتل کیس ، سینٹ میں قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی تجویز پیش، حکومت قانون ...
زینب قتل کیس ، سینٹ میں قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی تجویز پیش، حکومت قانون سازی کرے: رحمان ملک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قصور کی ننھی کلی زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے عمران علی کو سرعام پھانسی دینے کی تجویز پیش کردی ہے، تجویز کمیٹی کے سربراہ سینٹر رحمان ملک کی جانب سے پیش کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق قصور کی ننھی  زینب کے قاتل کو نشان عبرت بنانے کے لئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا کی تجویز پیش کردی ہے۔ تجویز پیش کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بچوں سے زیادتی میں ملوث درندوں کوسرعام پھانسی دی جائے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے تجویزکیاتھاکہ قاتل کوسرعام پھانسی دی جائے اور حکومت کوچاہیے کہ وہ اس سلسلے میں ترمیمی بل لائے۔تجویز کمیٹی میں پیش ہونے کے بعد حاصل بزنجو نے سرعام پھانسی کی سزادینے کے لیے قانون میں تبدیلی کی مخالفت کی جبکہ پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر نے بھی سر عام پھانسی کی سزا کی مخالفت کردی۔سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ضیا ءدور میں بھی زیادتی کے ایک مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دی گئی تھی مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑا،تاریخ بتاتی ہے کہ مجرم سزاؤں سے خو فزدہ نہیں ہوتے ۔ مجرم کو سر عام پھانسی کی سزا کی مخالفت کرتے ہوئے سینیٹر میر حاصل بزنجوکا کہنا تھا کہ کسی بھی مجرم کو سر عام سزائے موت دینے کی سزا کی معاشرے میں گنجائش نہیں ،مجرم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے کیوں کہ ایسی ترمیم کے معاشرے میں انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ اغوا،زیادتی اورقتل کے بعدگندگی کے ڈھیرپرپھینکناایک ساتھ4جرم ہیں،زینب کے قتل پرقوت برداشت جواب دے گئی ہے، ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور رحمان ملک نے جو سزاتجویزکی اس سے میں مکمل متفق ہوں۔ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹرسعودمجیدکا کہنا تھا کہ یہ تصوردرست نہیں کہ جوسزاضیاءالحق نےدی ہم نہیں دے سکتے،ہمیں اسلامی قوانین کے مطابق سزا دینی چاہئے کیوں کہ جن ممالک میں سرعام سخت سزائیں دی جاتی ہیں وہاں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سینیٹر تاج حید ر نے سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر قانون کا غلط استعمال ہو سکتا ہے ، کیاملزم کوجیل کے بجائے چوک میں سزادینے سے نظام کی خرابیاں دورہوجائیں گی؟اس پر چیئرمین سینٹ نے ان سے سوال کیا کہ سرعام سزائے موت کاقانون غلط استعمال ہوسکتاہے یانہیں؟ تاج حیدر کا کہنا تھا کہ مجرم کو جیل میں پھانسی دیں یا چوک میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ریاست کوایسے سنگین جرائم روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے،ملزم عمران ہی نہیں اس کوتحفظ فراہم کرنے والے بھی مجرم ہیں،اگرپہلے ہی جرم پرریاست اپنافرض پورا کرتی تو باقی بچیاں بچ جاتیں،ہم دولائنوں کاقانون منظورکرکے آسان راستہ اختیارکرناچاہتے ہیں ، تاج حیدر کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی ملی بھگت کے بغیرکوئی سیریل کلر نہیں بن سکتا ۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینٹر جہانزیب جمالدینی کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات پرعمل ہونا چاہیے اور مجرم کو سرعام سزائے موت دی جائے، جن اسلامی ممالک میں سخت قوانین ہیں وہاں ایسے جرائم نہیں ہیں۔ سینٹر شاہی سید کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے زینب کے قتل پر تاخیرسے ایکشن لیا۔سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ ہربیٹی کاباپ آج کرب واذیت میں ہےاس کاتدارک ہونا چاہیے اور ہمیں یورپ کی تقلید میں اپنا معاشرہ تباہ نہیں کرنا ہے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی