عراق میں تیل کے کنویں جلنے سے زہریلی دھاتیں ماحول کا حصہ بن گئیں

عراق میں تیل کے کنویں جلنے سے زہریلی دھاتیں ماحول کا حصہ بن گئیں
عراق میں تیل کے کنویں جلنے سے زہریلی دھاتیں ماحول کا حصہ بن گئیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیروبی(آن لائن) ماہرینِ ماحولیات نے کہا ہے کہ عراق میں داعش کے ہاتھوں تیل کے کنویں جلانے اور دیگر ماحولیاتی تباہیوں سے ہولناک آلودگی پیدا ہوئی ہے جس کے منفی اثرات برسوں تک موجود رہیں گے۔

برطانوی ویب سائٹ ’’سائنس اینڈ ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک‘‘کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگ ’’ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں تیل کے کنویں کی آتشزدگی، تیل کے بہنے سے زمین کی تباہی، زیرِ زمین پانی میں زہریلے مرکبات کی منتقلی اور فصلوں تک میں ان کے زہریلے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔نیروبی میں منعقدہ اجلاس میں عراق سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جسے ’سیاہ آسمان تلے رہائش‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اس ضمن میں فوری طور پر ڈیٹا جمع کرنے اور عوام کی مدد کرنے کی ضرورت ہے جہاں لوگ جنگ کے زہریلے اور مضر اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ داعش نے تیل کے مراکز کو آگ لگائی اور اس سے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، پولی سائیکلک ایرومیٹک ہائیڈروکاربنز (پی اے ایچ ایس) اور سیسہ سمیت وینیڈیم اور جست جیسی دھاتیں بھی اب ماحول کا حصہ بن چکی ہیں،اس آلودگی سے سانس کے امراض، جگر اور گردے کے مسائل سمیت کینسر اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں جبکہ ان سے کم آمدنی والے خاندان شدید متاثر ہورہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ حیرت انگیز بات بھی کی گئی ہے کہ عراق کے شمال مشرق میں کوہِ ہیمرن میں تیل کے 2 کنوؤں کو آگ لگائی گئی جو 2سال تک بھڑکتی رہی، اس سے نکلنے والے گاڑھے سیاہ دھوئیں نے سیکڑوں کلومیٹر علاقے کو لپیٹ میں لے لیا اور اس کے کاربن نے وسیع علاقے کو ڈھانپ لیا۔اس آگ سے مکانات کی دیواریں سیاہ ہوگئیں اور لوگوں کی رنگت بھی بدلنے لگی ، اس بنا پر عراقیوں نے اسے ’’آئی ایس آئی ایس وِنٹر‘‘ یعنی ’’داعشی سرما‘‘ کا نام دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف موصل میں ہی 18 سے زائد تیل کے کنویں خاکستر کردیئے گئے تھے۔اور اب یہ حال ہے کہ خام تیل جلنے کا زہر ہر جگہ گھل چکا ہے ۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : بین الاقوامی