برطانوی ڈاکٹر نے 3 پاکستانی خواتین کی زندگی بدل دی، ایسا کام کردکھایا کہ ہر پاکستانی شہری داد دینے پر مجبور ہوجائے

برطانوی ڈاکٹر نے 3 پاکستانی خواتین کی زندگی بدل دی، ایسا کام کردکھایا کہ ہر ...
برطانوی ڈاکٹر نے 3 پاکستانی خواتین کی زندگی بدل دی، ایسا کام کردکھایا کہ ہر پاکستانی شہری داد دینے پر مجبور ہوجائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) تیزاب گردی دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اب ایک برطانوی ڈاکٹر نے تیزاب گردی کا شکار ہونے والی تین پاکستانی خواتین کے لیے ایسا کام کر دکھایا ہے کہ ان کی زندگی ہی بدل دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عاصم شاہ ملک بھی پاکستانی نژاد ہیں۔ وہ کچھ عرصہ قبل برطانیہ سے خاص طور پر پاکستان آئے اور 45سالہ فاطمہ منیر، 53سالہ نازیہ بانو اور 24سالہ زاہدہ پروین کی سرجری کرکے ان کے چہرے دیکھنے لائق بنا دیئے، جو تیزاب پھینکے جانے اور سلنڈر پھٹنے کے باعث بری طرح مسخ ہو گئے تھے۔

فاطمہ منیر کا رقم پر فیملی میں ہی جھگڑا ہوا جس پر اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ نازیہ بانو بھی تیزاب گردی کا شکار ہوئی جبکہ زاہدہ پروین کچن میں کام کر رہی تھی کہ گیس کا سلنڈر پھٹنے سے بری طرح جھلس گئی۔ ڈاکٹر عاصم نے ان کے چہروں کے کئی آپریشن کیے اور عوارض کو درست کیا۔ انہوں نے سرجری کرکے ان کی بھنویں بھی لگائیں جن کے بغیر ان کی شکل انتہائی خوفناک ہو چکی تھی۔نازیہ کا کہنا تھا کہ ”میں ڈاکٹر عاصم کی شکر گزار ہوں۔ ان کی وجہ سے میرا چہرہ دیکھنے کے قابل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم تیزاب گردی کا شکار ہونے والی خواتین کے علاج کے لیے باقاعدگی سے پاکستان آتے رہتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ