زینب کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی نہیں دی جا سکتی

زینب کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی نہیں دی جا سکتی
زینب کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی نہیں دی جا سکتی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(سعید چودھری )قصور کی کم سن زینب کی بے حرمتی کے بعد اسے قتل کرنے کے مجرم کو سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی ۔پاکستان کا آئین ،فوجداری قوانین اور سپریم کورٹ کا فیصلہ سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتا۔1994ءمیںسپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس نسیم حسن شاہ ،جسٹس شفیع الرحمن ، جسٹس سعد سعود جان ،جسٹس عبدالقدیر چودھری اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل لارجر بنچ بھی سرعام پھانسیوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس میںقراردے چکا ہے کہ کسی مجرم کو سرعام پھانسی دینا آئین کے آرٹیکل 14(1) کے منافی ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت ہرانسان کی حرمت اوروقار کی ضمانت دی گئی ہے ،1990ءکی دہائی میںاس وقت کے چیف جسٹس پاکستان نے سپیڈی ٹرائل کی خصوصی عدالتوں کے قانون مجریہ1992ءکے تحت سرعام پھانسیوں کے معاملے پر از خود نوٹس لیا تھا اور 6فروری 1994ءکو مذکورہ لارجر بنچ نے اس پر اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔اس وقت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ممتاز علی مرزا نے عدالت کو حکومت کی طرف سے یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ کسی شخص کو سرعام پھانسی نہیں دی جائے گی،جس پر یہ از خود نوٹس کیس نمٹا دیا گیا تھا ۔سپیڈی ٹرائل کی خصوصی عدالتوں کا ایکٹ مجریہ1992ءملکی تاریخ کا واحد قانون تھا جس کے سیکشن10میں واضح کیا گیا تھا کہ حکومت کسی شخص کو پھانسی دینے کے لئے جگہ کا تعین کرسکتی ہے ۔اس قانون کے تحت حکومت کو اختیار تھا کہ مجرم کو پھانسی دینے کے لئے جیل سے باہرکسی بھی چوراہے یا میدان کا تعین کرسکتی تھی ،اب یہ قانون بھی تحلیل ہوچکا ہے ،سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے بعد اس قانون کے تحت بھی سرعام پھانسیاں روک دی گئی تھیں۔ملک میں اس وقت کوئی ایسا قانون رائج نہیں جو سرعام پھانسی کی اجازت دیتا ہو جبکہ سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کیس میں دیا گیا فیصلہ ابھی تک نافذالعمل ہے ۔اس بابت 1994ءایس سی ایم آر 1028کو حوالہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔پاکستان بارکونسل کے رکن اور سینئر قانون دان اعظم نذیر تارڑ سے اس معاملہ کی قانونی حیثیت کے حوالے سے رائے لی گئی تو انہوں نے سرعام پھانسی کے ممانعت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کسی قانون کے تحت کسی مجرم کو سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی ۔انہوں نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کسی ملزم کا 30روز کے اندر ٹرائل مکمل ہونا ضروری ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل پرہائی کورٹس کو 15دن میں فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے ،اگر معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے تووہاں وقت کی کوئی قید نہیں ہے تاہم عدالت چاہے تو اس معاملے کو10دن میں نمٹا سکتی ہے ،عدالتیںتیز رفتاری سے اور قانون کی مقرر کردہ مدت کے اندر زینب قتل کیس کا فیصلہ کریں تو مجرم کو 2ماہ کے اندر کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ماضی میں 100بچوں کے قاتل جاوید اقبال کو ٹرائل کورٹ نے مینار پاکستان پر پھانسی دینے اور اس کے 100ٹکڑے کرکے تیزاب میں ڈالنے کا جو حکم دیا تھا اس پر بھی اعلیٰ عدالتوں نے عمل درآمد روک دیا تھا جبکہ سرعام پھانسی اور قاتل کے ٹکڑے کرکے تیزاب میں ڈالنے کے عدالتی فیصلے کو غیر منطقی قراردینے کی آبزرویشن دی تھی تاہم جاوید اقبال نے اپنی اپیل کے حتمی فیصلے سے قبل ہی اپنے ساتھی مجرم کے ساتھ جیل میں خودکشی کرلی تھی۔زینب کے والد اور مختلف حلقوں کی طرف سے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے تاہم پاکستان کا آئین ،سپریم کورٹ اور مروجہ قوانین سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے

مزید : اہم خبریں /قومی