وہ بھارتی شہری جو ابوظہبی میں 40 سال رہنے کے بعد ملک واپس جانے لگا تو ولی عہد اس کو خدا حافظ کہنے خود میدان میں آگئے، یہ کیا کرتا تھا؟ جان کر آپ بھی شاہی خاندان کی تعریف پر مجبور ہوجائیں گے

وہ بھارتی شہری جو ابوظہبی میں 40 سال رہنے کے بعد ملک واپس جانے لگا تو ولی عہد ...
وہ بھارتی شہری جو ابوظہبی میں 40 سال رہنے کے بعد ملک واپس جانے لگا تو ولی عہد اس کو خدا حافظ کہنے خود میدان میں آگئے، یہ کیا کرتا تھا؟ جان کر آپ بھی شاہی خاندان کی تعریف پر مجبور ہوجائیں گے

  

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) کتنے ہی غیر ملکی ہوں گے جو متحدہ عرب امارات میں محنت مزدوری کے بعد اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں لیکن بھارتی شہری کنجی محی الدین کی رخصتی جس شاہانہ انداز میں ہوئی ہے اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے 63 سالہ کنجی محی الدین کو ناصرف اعلیٰ ترین حکام نے الوداع کہا بلکہ ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات آرمڈ فورسز کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زائد النہیان نے بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر ان کے اچھے کاموں کو سراہتے ہوئے انہیں الوداع کہا۔ محی الدین نے ولی عہد کے دربار میں 40 سال تک فرائض سرانجام دئیے تھے۔

خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے محی الدین کا کہنا تھا ”یہ سب خواب کی طرح لگ رہا ہے بلکہ یہ خواب سے بھی اچھا ہے۔ اس تمام توجہ نے میرے دل کو چھولیا ہے۔“ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں شیخ محمد کو محی الدین کے ساتھ ہاتھ ملاتے اور انہیں گلے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے محی الدین کی تعریف کرتے ہوئے انہیں محنت اور لگن کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔ محی الدین کا کہنا تھا ”مجھے اس کی توقع نہیں تھی، یہ میری زندگی میں پہلا موقع ہے کہ مجھے اتنا بڑا اعزاز ملا ہے۔ شیخ محمد نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں متحدہ عرب امارات میں خوش ہوں اور یہ کہ میں واپس بھارت کیوں جارہا ہوں۔ انہوں نے میرے خاندان اور بچوں کے بارے میں بھی استفسار کیا۔ یہ جذباتی کردینے والا لمحہ تھا۔ اگرچہ میں نے شیخ محمد کو اس سے پہلے بھی کچھ فاصلے سے دیکھا تھا لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ مجھے ان کے قریب جانے اور ان سے ملنے کا موقع ملا۔ میرے لئے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ “

محی الدین 1977ءمیں متحدہ عرب امارات گئے اور کراﺅن پرنس کورٹ میں آفس بوائے کے طور پر کام شروع کیا۔ بعدازاں وہ ترقی پاکر آفس اسسٹنٹ مقرر ہوئے اور کئی دہائیوں تک اسی پوزیشن پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے ایک اچھی زندگی کے لئے متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ”میں دسویں جماعت بھی پاس نہیں کرپایا تھا۔ یہ میری پہلی اور آخری ملازمت تھی ۔اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو جانتا ہوں کہ ہمیشہ خوش رہا۔“

مزید : عرب دنیا