’میرا بیٹا ایک ہوٹل میں نوکری کرنے 2 سال پہلے سعودی عرب گیا لیکن اس کے ساتھ رہنے والے شخص نے قتل کردیا، اب 4 ماہ سے اس کی لاش۔۔۔‘ باپ نے ایسا خط لکھ دیا کہ پڑھ کر ہر آنکھ نم ہوجائے

’میرا بیٹا ایک ہوٹل میں نوکری کرنے 2 سال پہلے سعودی عرب گیا لیکن اس کے ساتھ ...
’میرا بیٹا ایک ہوٹل میں نوکری کرنے 2 سال پہلے سعودی عرب گیا لیکن اس کے ساتھ رہنے والے شخص نے قتل کردیا، اب 4 ماہ سے اس کی لاش۔۔۔‘ باپ نے ایسا خط لکھ دیا کہ پڑھ کر ہر آنکھ نم ہوجائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی(نیوز ڈیسک) کسی غریب کا بیٹا روزی کمانے کے لئے دیار غیر جائے اور پھر واپس اس کی لاش آئے تو بڑے دکھ کی بات ہے، لیکن اگر بیٹا دنیا سے چلا جائے اور غم سے نڈھال ماں باپ کو جگر گوشے کی لاش بھی نا ملے تو اس بڑھ کر المیہ کیا ہو گا؟ بھارتی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والا محمد جلال الدین اسی المیے سے دوچار ہے۔ گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے نام کی گئی ٹویٹ میں اس نے اپیل کی ہے کہ اس کے بیٹے کی لاش چار ماہ سے سعودی عرب میں پڑی ہے اور اسے واپس لانے کے لئے اس کی مدد کی جائے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جلال الدین کا 23 سالہ بیٹا محمد عامر گزشتہ سال ایک ہوٹل میں ملازمت کے لئے دمام گیا تھا۔ تیس اگست 2017ءکے روز اس کے ساتھی بھارتی نوجوان عابد نے اسے قتل کردیا۔ محمد جلال الدین کا کہنا ہے کہ وہ ان چار ماہ کے دوران وزارت خارجہ اور سفارتی حلقوں کو متعدد خطوط اور درخواستیں لکھ چکے ہیں لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کی اہلیہ ریشمہ بانو کا کہنا تھا”ہم اپنا بیٹا تو کھوچکے ہیں لیکن اب آخری بار اس کی صورت دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ ہم نے ٹویٹر کے ذریعے سشما سوراج سے رابطہ کیا ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر ہماری مدد کریں۔ ہماری درخواست ہے کہ کیس کی موجودہ کیفیت کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا جائے اور ہمارے بیٹے کی میت واپس لانے میں مدد کی جائے تاکہ ہم اس کی تدفین کرسکیں۔ مجھے میرے بیٹے کی لاش مل جائے تو میں اس کے لئے عمر بھر حکومت کی شکرگزاررہوں گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی