’مجھے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد۔۔۔‘ ریپ کا نشانہ بننے والی دربدر کی ٹھوکریں کھاتی لڑکی نے اپنے خون سے خط لکھ ڈالا، ہر کسی کو ہلا کر رکھ دیا

’مجھے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد۔۔۔‘ ریپ کا نشانہ بننے والی دربدر ...
’مجھے ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد۔۔۔‘ ریپ کا نشانہ بننے والی دربدر کی ٹھوکریں کھاتی لڑکی نے اپنے خون سے خط لکھ ڈالا، ہر کسی کو ہلا کر رکھ دیا

  

نئی دلی(نیوز ڈیسک)بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم تو قابو سے باہر ہیں ہی، اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ جنسی درندوں کا نشانہ بننے والی خواتین کی بات تک کوئی نہیں سنتا۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے خون سے خط لکھنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس لڑکی نے نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے ”میرے ساتھ ظلم کرنے والے طاقتور لوگ ہیں اور پولیس ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کررہی۔ وہ مجھ پر دباﺅ ڈال رہے ہیں کہ میں کیس واپس لے لوں۔ مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلوں گی۔“

رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی، جو کہ انجینئرنگ کی طالبہ ہے، نے یہ خط 20 جنوری کے روز لکھا۔ جب میڈیا نے اس کیس کی تفصیلات لینے کے لئے اے ایس پی شیکھر سنگھ سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ لڑکی نے اپنی ایف آئی آر گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں کٹوائی تھی۔ اس ایف آئی آر میں دویا پانڈے اور انکیت ورما کو ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ اس ایف آئی آر کو تقریباً ایک سال کا عرصہ ہونے کو آیا لیکن تاحال ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود پولیس کا ڈھٹائی سے کہنا ہے کہ کیس پر کام جاری ہے ، جبکہ وزیراعظم کو خون سے لکھے گئے خط کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں اس کے بارے میں پتہ نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی