بھارتی ریاست آسام میں ہاتھیوں اور انسانوں کا جنگلات کی ملکیت پر جھگڑا،سینکڑوں شہری ہلاک

بھارتی ریاست آسام میں ہاتھیوں اور انسانوں کا جنگلات کی ملکیت پر ...
بھارتی ریاست آسام میں ہاتھیوں اور انسانوں کا جنگلات کی ملکیت پر جھگڑا،سینکڑوں شہری ہلاک

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ریاست آسام میں ہاتھیوں اورانسانوں کے درمیان جھگڑے پر سینکڑوں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ انتقامی کارروائی کرکے 225ہاتھیوں کو بھی مار دیاگیا۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق حکومت کی ایک تحقیق میں بتایاگیا کہ چائے کے باغات کے مالکان جنگلوں میں آگے بڑھ رہے ہیں جبکہ چائے کے کاشتکاروں کی تنظیم نے کاشتکاروں کے جنگلات میں گھسنے کی سختی سے تردید کی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں چائے کے باغات کو بڑھانے کی کوششوں کی وجہ سے جنگلات کا رقبہ سکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے ہاتھیوں کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہیں اور وہ انسانی بستیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کا آئے روز انسانوں کے ساتھ جھگڑا ہو جاتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2006 سے 2016 کے دوران ہاتھیوں اور انسانوں کے ٹکراؤ میں 800 افراد ہلاک ہو ئے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر روز ایک شخص ہاتھیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔2014 اور 2015 کے دوران انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان تصادم کے سب سے زیادہ واقعات پیش آئے جن میں 54 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بھارت کی ماحولیاتی ایجنسی کا کہناہے کہ 2013 اور 2014 میں 72 ہاتھی مارے گئے جبکہ 2012میں 100 ہاتھی انسانوں کے ساتھ جھگڑے میں مارے گئے۔ 2001 سے 2014 تک 225 ہاتھی انسانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ انسانوں نے ہاتھیوں کو مارنے کے لیے بندوق، زہر اور بجلی کے کرنٹ کا استعمال کیا ہے۔ایشیائی نسل کے ہاتھیوں کی60 فیصد تعداد انڈیا میں پائی جاتی ہے۔ انڈیا میں ہاتھیوں کی سب سے زیادہ تعداد ریاست کرناٹک میں پائی جاتی ہے جس کے بعد آسام کا نمبر ہے جہاں 5700 ہاتھی موجود ہیں۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...