توہین آمیز تقریر، نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ سے تحریری معافی مانگ لی

توہین آمیز تقریر، نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ سے تحریری معافی مانگ لی
توہین آمیز تقریر، نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ سے تحریری معافی مانگ لی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر نہال ہاشمی نے توہین آمیز تقریر پر سپریم کورٹ سے تحریری معافی مانگ لی ،عدالت نے درخواست پراعتراض اور بعد ازاں اسے دوبارہ جمع کروانے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سینیٹر نہال ہاشمی کے وکیل نے توہین عدالت کیس میں تحریری معافی پیش کی تو عدالت نے اعتراض اٹھایا کہ اس کے الفاظ درست نہیں، نوک پلک درست کرکے دوبارہ لکھ کر دی جائے۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ نہال ہاشمی کی عمر 80 سال سے زیادہ ہوتی تو کہہ سکتے تھے کہ بچپن کے دانت دوبارہ نکل آئے ہیں، درست الفاظ کا چناؤ کیا جائے تو توہین عدالت نہیں ہوتی۔

نہال ہاشمی نے دوبارہ تحریری معافی داخل کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے لئے جان بھی حاضر ہے، غیرمشروط معافی مانگ کر خود کو عدلیہ کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ تو ہماری زمین تنگ کرنے چلے تھے، ہمارے بچوں کے بارے میں بھی کیا کچھ کہہ دیا۔ عدالت نے معافی مانگنے پر فیصلہ محفوط کر لیا جو بعد میں سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، جس میں نوازشریف اور ان کے گھر والے پیش ہوئے تھے، نہال ہاشمی نے اسی دوران کراچی میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد