کراچی کے مدرسے میں 10 سالہ بچے کی قاری کے تشدد سے موت ہو گئی ،لیکن پھر اس کے ماں باپ نے کیا کہہ کر قاری کو معاف کر دیا ؟ جان کر آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ رکیں گے

کراچی کے مدرسے میں 10 سالہ بچے کی قاری کے تشدد سے موت ہو گئی ،لیکن پھر اس کے ماں ...

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )قوم کے دل پر ابھی معصوم کلی زینب کا زخم مدھم نہ ہوا تھا کہ عاصمہ کی لاش نے ہلا کر رکھ دیا لیکن اب کراچی سے ایک اور کیس سامنے آ گیا جس کے بارے میں جان کر آپ کیلئے آنسو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف کالم نگار ’وسعت اللہ خان ‘نے کراچی میں حال ہی میں پیش آنے والے واقعے سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ کراچی کے ساحلی علاقے بن قاسم تھانے کی حدود میں مدرسے میں ایک قاری صاحب نے تشدد کر کے 10 سالہ بچے محمد حسین کو ہلاک کر دیاہے ۔

وسعت اللہ خان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 10 سالہ بچہ محمد حسین مدرسے سختیوں سے تنگ آ کر کئی مرتبہ بھاگنے کی کوشش کر چکا تھا لیکن اس کے گھر والے اسے پکڑ پکڑ کر لاتے اور مدرسے کے قاری انجم الدین کے حوالے کر دیتے تاہم آخری بار اس بچے نے اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر بھاگنے کی کوشش کی اور اس کا اعلاج قاری صاحب نے اسے مار مار کر ہلاک کر کے کیا ۔قاری صاحب کا اپنے بیان میں کہناتھا کہ بچہ بھاگنے کی کوشش کرتا تھا اور اس کے گھر والے کہتے تھے کہ اسے سزا دیں اور اتوار کو بھی ایسا ہی ہوا اور اس کے والد نے کہا اسے سزا دیں ۔

جب بچے کی ہلاکت کا معاملہ منظر عام پر آیا تو اس کے والد نے قاری صاحب کے خلاف مقدمہ درج کروانے اور بچے کا پوسٹ مارٹم کروانے سے صاف انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ’ہم قاری صاحب کو معاف کرتے ہیں کیونکہ ہم نے بچے کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے اور اب ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘۔والدین کی جانب سے یہ موقف سامنے آنے پر پولیس حرکت میں آئی اور بن قاسم کے ایس ایچ او دھنی بخش مری نے ریاست کی مدعیت میں دفع 322پی پی سی کے تحت مقدمہ در ج کر کے بچے کا پوسٹ مارٹم کروایا اور قاری کے خلاف مقدمہ در ج کر کے اسے گرفتار کرتے ہوئے ریمانڈ حاصل کیا ۔

مزید : قومی /جرم و انصاف

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...