اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور حکومتی مشکلات

اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور حکومتی مشکلات
اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور حکومتی مشکلات

  

وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی اتحادی حکومت مرکز اور پنجاب دونوں جگہ مشکلات اور دباؤکا شکار ہے۔ حکومت کو معاشی حالت کی بہتری کے لئے وقت دینے اور اپنی کوششیں کر لینے کا پورا موقع فراہم کیا جانا چاہئے، بلکہ اس میں سب کو حکومت کی حمایت اور مدد کرنی چاہئے۔

وزیراعظم عمران خان اس ضمن میں دوست ممالک کے دورے کر کے امدادی پیکیج کے سہارے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،لیکن معاشی بحران کے بطن سے ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

معمولی اکثریت پر قائم مشکل اور دباؤ میں گھری وفاقی اور پنجاب کی مخلوط حکومتوں کو اپنے اتحادیوں کی طرف سے نئے چیلنج درپیش ہیں۔ حکومت اور اتحادیوں میں سرد مہری اور کھینچا تانی تو مخلوط حکومت کے قیام کے بعد ہی سے محسوس کی جا رہی تھی،مگر گزشتہ دو ماہ سے اس میں شدت آ گئی،جس کا نتیجہ مجسّم صورت میں اس روز سامنے آیا جب مسلم لیگ (ق) کے صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر نے یہ کہتے ہوئے استعفا دے دیا کہ جس دن سے وزارت سنبھالی ہے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ انہوں نے اپنا استعفامسلم لیگ(ق)کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو بھیجا ہے۔

یہ ایک ’’سیاسی استعفا‘‘ہے، جس کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اس استعفا کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سپیکر چودھری پرویز الٰہی کو منانے کے لئے ملاقات کی، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔مسلم لیگ(ق) کی قیادت نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور چودھری پرویز الٰہی سخت ناراض ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سپیکر کو یقین دھانی کرائی کہ پوسٹنگ ٹرانسفر اور انتظامی کام فوری ہوں گے، لیکن چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کوئی ایشو نہیں ہے۔ جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل ہونا چاہئے، لیکن اب ق لیگ کا ایشو مرکز اور پنجاب میں مزید وزارتیں بھی نہیں ہے۔

پیر کو پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے پر چار اہم مسودات قانون منظوری کے لئے رکھے گئے تھے، مگر وزیراعلیٰ کی اسمبلی میں موجودگی کے باوجود حکومت کورم پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اجلاس بغیر قانون سازی منگل تک کے لئے ملتوی کرنا پڑا،جبکہ سپیکر چودھری پرویز الٰہی اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے کے بجائے اسلام آباد میں چودھری شجاعت حسین کی زیر صدارت مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے،جس میں بطور اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) اور حکومت کے درمیان معاملات پر غور کیا گیا۔

اس کے بعد چودھری شجاعت حسین کو مسلم لیگ(ق) کی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے مکمل اختیار دیا گیا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی قطر کے دورے سے واپسی پر ان سے ملاقات کر کے معاملات ان کے سامنے رکھیں گے۔ اب ملاقات ہو گی تو سارے امور سامنے آئیں گے۔

یہ تو مسلم لیگ(ق) کی بات ہے، مگر دوسری اتحادی جماعتوں نے بھی اب مشکلات کے گرداب میں پھنسی حکومت کو آ نکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) بھی وزارتوں میں زیادہ حصہ مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،وفاقی وزیر زبیدہ جلال، سرفراز بگٹی سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس کے بعد حکومت سے بات چیت کے لئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا،جو حکومت کو تحفظات سے آگاہ کرے گی۔

یوں تو ایم کیو ایم سے بھی آئے روز مخالفانہ آوازیں سنائی دیتی ہیں، مگر اتحادیوں میں سب سے توجہ طلب اور حساس نوعیت کے مطالبات اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی کے ہیں اور اب وہ اپنے ساتھ کئے گئے وعدوں کی پاسداری چاہتے ہیں ،جو شاید حکومت کے لئے آ سان نہ ہو۔ اتحادیوں کو رام کرنے کی کوشش کے ساتھ ہی حکومت کو اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کے اندر وزرا اور رہنماؤں کے باہمی اختلاف،رنجشیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ناکام بنانے کا طرزِ عمل حکومتی کارکردگی اور پرفارمنس کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ حکومتی مشینری میں تال میل کی اسی کمی کی وجہ سے حکومت ایک ٹیم کی طرح کام کرتی نظر نہیں آتی۔ وزراء ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔

وزیر خزانہ اسد عمر سے تحریک انصاف اور پاکستانی عوام کو بہت امیدیں وابستہ تھیں، مگر سیاسی حلقوں میں یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ پارٹی کے اندر ہی ایک لابی انھیں ناکام بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

بطور وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے دورۂ لاہور کے دوران اعلان کیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کا نیا مسودہ قانون آئندہ 48گھنٹوں میں پیش کر دیا جائے گا۔ آج اس بات کو پانچ ماہ ہونے والے ہیں یہ قانون سازی دو وزراء کے درمیان اختلافات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔ ایک گروپ ہاؤسنگ، ایل ڈی اے اور واسا کو ایک محکمے کے ماتحت لانا چاہتا ہے تو دوسرا دھڑا مخالفت کر رہا ہے۔

مرکز اور پنجاب میں قائمہ کمیٹیاں ابھی تک تشکیل نہیں دی جا سکیں۔ ایک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنی بھی تو حکومت کے اندر سے اس کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔اس کے سامنے پیش نہ ہونے کے بیانات دیئے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ابھی تک کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب حکومت مخالف مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے اتحاد بنا لیا ہے،جو آ گے چل کر حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

تحریک انصاف نے پنجاب میں طویل حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ(ن)کی جگہ لی ہے اور اس کے دِل میں خواہش بھی تھی کہ وہ پنجاب کو اپنا ’’بیس کیمپ‘‘ بنائے،مگر اس میں کامیاب نظر نہیں آتی ۔

حکومت اپنے اتحادیوں کو منانے اور ساتھ رکھنے کی کوشش کرے گی۔اس میں سب سے مشکل اور سخت سودے بازی کا سامنا اسے ق لیگ سے معاملہ کرتے ہوئے کرنا پڑے گا۔ اس کی بڑی وجہ ان کی مضبوط سیاسی جڑیں اور پس منظر ہے۔

ممکن ہے چودھری پرویز الٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی بنانا تحریک انصاف کی کوئی مجبوری رہی ہو۔ بالکل اسی طرح پرویز الٰہی کی بھی اس وقت سپیکر بننا مجبوری تھا، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔چودھری برادران ایک بار پھر پنجاب کی سیاست میں پوری طرح حاوی ہیں اور وہ اس وقت دس نشستوں کی پارٹی نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر بھی ان معاملات کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ’’وسیم اکرم پلس’’کے چکر میں تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنے انتہائی قیمتی پانچ ماہ ضائع کر دیئے، جس کی وہ قطعاً متحمل نہ تھی، کیونکہ اس عرصے میں حکومت پنجاب کم از کم ’’ٹیک آ ف‘‘ کی پوزیشن میں ہی آ جاتی،جس کے ابھی بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ سیاست میں درست وقت پر درست فیصلہ ہی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے اور غلط فیصلہ ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔

آج اگر تحریک انصاف پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا بھی چاہے گی تو اسے اپنا فیصلہ کرنے میں پہلے والی آزادی اور آپشن حاصل نہیں ہوں گے، کیونکہ اب ان فیصلوں میں چودھری برادران کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -