پولیس، انقلاب اور اسٹیبلشمنٹ

پولیس، انقلاب اور اسٹیبلشمنٹ
پولیس، انقلاب اور اسٹیبلشمنٹ

  

کیا آپ اتنے بے رحم ہوچکے ہیں، آنکھیں اقتدار کی رقاصہ کے کھنکتے گھنگھرؤں میں اتنی کھب چکیں ، کان عیش و نشاط کی دیوی کی سرگوشیوں میں اس قدر محو ہوچکے کہ ملتان سٹیڈیم میں دم توڑنے والے ان نوجوانوں کی بہنوں کے بین بھلا بیٹھے جو صرف تبدیلی کی آرزو میں جوانیاں قربان کر آئے۔ اب آپ کو حقیقی معنوں میں اس طلسم سے نکلنا ہوگا جو سراسر دھوکہ ہے۔

آپ اس نہج پر پہنچ رہے ہیں جہاں خلق خدا کے دل نفرت سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ جناب وزیراعظم ان سسکیوں پر توجہ دیں جوہزاروں سال پرانی آتما کی مانند ملک کی فضاؤں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ اگر آپ نرگسیت کے پھول میں مقید ہوچکے پھر مخاطب کرنا بے سود ۔ گذارش ان پس پردہ قوتوں سے جنہوں نے وعدوں پر یقین کیا۔

یہاں بڑے حیران کن اور خوفناک سوالات اٹھ چکے ہیں۔ بائیس سال کی گرومنگ، پچھلی ایک دہائی سے پے در پے اقتدار سونپنے کے سگنلز اور تیاری کا یہ عالم؟ جب موقع آیا تبدیلیوں پر آمادگی ہی نہیں۔ معاشرہ بڑی تبدیلیوں کے لئے ذہنی طور پر مکمل تیار ہو چکا تھا، ہر کوئی بہتر مستقبل کی خاطر عالمگیر civilization کے بدلاؤ میں حصہ ڈالنا چاہتا تھا۔

لوگ پریقین تھے اک بدلتا پاکستان نمودار ہونے کو ہے۔ دانشور تک سمجھ بیٹھے تھے ، بڑی تبدیلیوں کی خاطر، مرکزی پالیسیاں اس تھنک ٹنک کی جانب سے فراہم کی جائیں گی جس نے آج امریکہ کو پاکستان کے در پر لاکھڑا کیا۔ جی یقیناًہم براہ راست اسٹیبلشمنٹ سے مخاطب ہیں۔

لیکن آج یہ کیا دیکھنے کو مل رہا ہے۔ منہ زور، ہوس میں لتھڑے ، لوگوں کو نچوڑتے سرکاری ادارے۔ اب یہ سوال مزید سختی سے ابھر رہا ہے کیا اسٹیبلشمنٹ لگائے گئے اندازوں میں مات کھا گئی۔ توقع تھی حلف اٹھاتے ہی تبدیلیوں کا فریم ورک ڈیزائن ہو جائے گا۔

ادھر حکومت تشکیل پائے گی ادھر اس عظیم سماجی ادارہ جاتی ایجنڈے پر کام شروع ہو گاجس بارے ہندوستان، بنگلہ دیش اور عرب خطے میں صرف سوچا ہی جا سکتا ہے۔ لیکن فی الوقت پاکستانی سماج کی خود کو ڈھالنے جیسی خوبصورت ادا کو اڑا کر رکھ دیا گیا ہے۔

سماجی تبدیلی سے کون خائف ہے؟۔ موجودہ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ خود؟۔ یہ سوال پوری شدتوں سے پاکستان کے گلی کوچوں میں طوفانی بگولوں کی مانند چکرا رہا ہے۔ اگر سوال کا رخ حکومت وقت کی جانب ہوگیا تو انتہائی بدقسمتی ہوگی ۔

پی ٹی آئی کی سیکنڈ کلاس لیڈر شپ اور کارکنوں میں انتہاء درجے کی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر نجی محفلوں تک، کارکنوں کا تبدیلی بارے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ذرا یاد کریں مسلم لیگ(ن) کو بھی لوگوں نے بے پناہ پیار دیا تھا۔ فقط اس لئے کہ ان کوتاہیوں کا ازالہ کیا جائے جو طویل عرصے سے عام پاکستانیوں کی عزت نفس پر حملہ آور تھیں۔

مسلم لیگی لیڈر شپ روایتی طرز حکومت کی بنیاد پر اس عوامی خواہش کا پوری طرح ادراک نہ کرسکی۔ نتیجے کے طور پر انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ یہی پیار موجودہ حکومت کو بھی ملا۔ ویسی ہی لیت و لعل یہاں بھی شروع ہوگئی۔ عظیم تبدیلیوں کی پہلی سیڑھی، اداروں کی آزادی تو ایک طرف، کوئی اب بھولے بھٹکے سے بھی اس خواب بارے ذکر نہیں کرتا جس کے عشق میں مبتلا ہوکر کاروباروں کو تباہ کیا گیا۔یاد رکھیں اور کان کھول کر سن لیں، اگر آپ نے اداروں کی آزادی کو، اقتدار کی رقاصہ کے گھنگھرؤں کی نذر کیا، اگر لمبے اقتدار کی آرزو پر بکریاں ، کٹے پالنے والے بیوروکریٹک سڑکچر کو مجبوری قرار دیا، تو پھر تیار رہیں نہ رقاصائیں بچیں گی اور نہ دیویاں۔ آپ نے بہروں تک کو رٹا دیا تھا پولیس آزاد اور مکمل طور پر جواب دہ ہوگی۔ کہاں گیا وہ وعدہ؟۔ چند ذہنی بونے، تھانے میں کرسی پر بیٹھنے کے احساس کمتری کے مارے، ایس پی کو فون پر ہدایات دینے جیسی ازلی خوشی کے متوالے، آپ کے نظریہ انقلاب کو سر بازار ذبح کر رہے ہیں۔ پنجاب کے شہروں میں موجود قیادت پولیس اصلاحات نامی لفظ کو بلیک بورڈ پر لکھ کر کیچڑ ملنے پر تلی ہوئی ہے۔

عوام کو کوئی طالبان، بھارت ، اسرائیل سے خطرہ نہیں۔ اصل خطرہ پولیس بن چکی ہے۔ یہ بدترین اور گھٹیا مذاق نہیں تو کیا پورے ملک کو ایک محکمہ پولیس نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو دہشتگردوں سے تو پاک کر دیا، کیا اس لئے کہ پولیس ڈرے سہمے عوام پر بھوکے شیروں کی مانند حملہ آور ہو جائے۔ کہاں گیا وہ آپ کا لوگوں کو خوف سے نجات دلانے کا تصور۔ شائد دفن ہوگیا ان سمندروں کی تہوں میں جہاں کالی روشنیوں والی نابینا مچھلیاں ایک دوسرے کو شکار کر رہی ہیں۔بتائیں کہاں چھپ گے قابل ترین ڈی آئی جی حضرات؟۔ کہاں گیا وہ تھانے میں متعلقہ علاقے کے رہائشی ایس ایچ او کے تقرر جیسا خوش کن فقرہ؟ کن گھاٹیوں میں اتر گئے وہ سول خفیہ افسران جنہوں نے پولیس اہلکاروں کے بنک اکاؤنٹس، پلاٹس اور فیکٹریوں کی تفصیلات قوم کے سامنے رکھنا تھیں۔

نہیں۔۔۔آپ پولیس کے ہاتھوں ہار چکے۔ پولیس ریاست کے مقابل آن کھڑی ہوئی ہے۔ وردی اور چند چمکتے بیج، ہر روز سڑکوں ،گلیوں اور ناکوں پر کھڑے ہوکر باآواز بلند تصورتبدیلی کے پرخچے اڑا رہے ہیں۔ آج پی ٹی آئی قیادت کو ماننا ہوگا وہ لوزر بن گئے اور سٹیٹس کو کی قوتیں جیت گئیں۔ آپ وزراء اور ارکان اسمبلی سے متواتر بلیک میل ہو رہے ہیں۔ یاد آیا ایک دفعہ آپ کو سننے کا موقع ملا۔

سوال ہوا آپ جاگیرداری سمیت دیگر بڑے مسائل کو کیسے حل کریں گے؟ جواب تھا جاگیر دار فقط ایک تھانے دار کی مار ہیں!!! اگر آپ واقعی پولیس اصلاحات میں سنجیدہ ہیں تو اصلاحاتی ٹیم میں مشاورت وسیع کریں۔ شائد سانحہ ساہیوال پر لوگوں کا غم و غصہ کچھ کم ہو جائے۔ لوگ بھی وہ جو دھیرے دھیرے دوبارہ مسلم لیگ(ن) کو سراہنا شروع ہو چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -