اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 83

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 83
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 83

  

ایک دفعہ جہاد میں حضرت عبداللہ بن مبارکؒ ایک کافر سے لڑرہے تھے۔ نماز کا وقت ہوا۔ تو آپ نے کافر سے اجازت لے کر نماز ادا کی اور جب کافر کی عبادت کا وقت ہوا تو وہ بھی آپ سے اجازت لے کر اپنے بت کی جانب متوجہ ہوا لیکن آپ کے دل میں اس کو قتل کردینے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اسی وقت ندائے غیبی آئی۔ ہماری اس آیت کے مطابق اپنے قصد سے باز آجاؤ۔ 

ترجمہ آیت: ’’تم سے قیامت میں عہد شکنی کی باز پرس ہوگی۔‘‘

آپ یہ ندا سنتے ہی روپڑے اور جب اس کافر نے رونے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے پورا واقعہ بیان کردیا۔ یہ سن کر اس کافر نے اپنے دل میں خیال کیا کہ جو خدا اپنے دشمن کی وجہ سے اپنے دوست پر ناراض ہو۔ اس خدا کی اطاعت نہ کرنا بزدلی اور حماقت ہے۔ اس بات کا خیال کرتے ہی وہ سچے دل سے مسلمان ہوگیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 82 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ایک دن حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے ہاں کوئی مہمان آگیا اور اس وقت آپ کے ہاں کوئی شے موجود نہیں تھی لیکن آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ مہمان خدا کا بھیجا ہوا ہوتا ہے۔ لہٰذا مہمانداری میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا۔ مگر بیوی نے آپ کے حکم کی تعمیل نہ کی۔ چنانچہ اس حکم شرعی کے مطابق کہ جو عورت شوہر کا حکم نہ مانے اس کو طلاق دے دینی چاہیے۔ آپ نے بھی مہر ادا کرکے بیوی کو طلاق دے دی۔

کچھ عرصہ کے بعد آپ کی مجلس و عظ میں کوئی امیر زادی شریک ہوئی اور وعظ سے اس درجہ متاثر ہوئی کہ اپنے والدین سے کہہ کر میرا نکاح عبداللہ بن مبارکؒ سے کردو۔ اس پر والدین نے خوش ہوکر نکاح کرکے لڑکی آپ کے ہمراہ روانہ کردی۔ اس کے علاوہ پچاس ہزار دینار بھی لڑکی کو دئیے۔ پھر نکاح کے بعد خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

’’تو نے ہماری خوشنودی میں بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ لہٰذا ہم نے اس سے بہتر تجھ کو دوسری بیوی عطا کردی تاکہ تو خود اندازہ کرسکے کہ خدا کو خوش کرنے والے کبھی نقصان میں نہیں رہتے۔‘‘

***

حضرت سفیان ثوریؒ پیدائشی متقی و پرہیز گار تھے۔ ایک مرتبہ آپ کی والدہ نے ایام حمل میں ہمسایہ کی کو ئی چیز بلا اجازت منہ میں رکھ لی تو آپ نے پیٹ میں تڑپنا شروع کردیا اور جب تک انہوں نے ہمسایہ سے معذرت طلب نہ کی آپ کی بے چینی ختم نہ ہوئی۔

حضرت سفیان ثوریؒ کے تائب ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے اُلٹا پاؤں مسجد میں رکھ دیا جس کے بعد یہ ندا آئی۔ ’’اے ثور! مسجد کے حق میں گستاخی اچھی نہیں۔‘‘ ثور کے معنی بیل کے ہیں۔

اسی دن سے آپ کا نام ثوری پڑگیا۔ بہرحال یہ ندا سن کر خوف کا ایسا غلبہ ہوا کہ آپ غش کھا کر گرپڑے اور ہوش آنے کے بعد اپنے منہ پر طمانچے لگاتے ہوئے کہنے لگے ’’بے ادبی کی ایسی سزا ملی کہ میر انام ہی دفتر انسانیت سے خارج کردیا گیا۔ لہٰذا اے نفس! اب ایسی بے ادبی کی جرأت کبھی نہ کرنا۔‘‘

***

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت بایزید بسطامیؒ کے دروازے پر آواز دی۔ آپ نے پوچھا ’’کس کی تلاش ہے؟‘‘

جواب ملا ’’بایزید کی‘‘

اس پر آپ نے فرمایا ’’میں تو تیس سال سے اس کی تلاش میں ہوں اور آج تک نہیں ملا۔‘‘

***

ایک عقیدت مند تیس سال سے حضرت بایزیدؒ کا خادم بنا ہوا تھا۔ وہ جب بھی سامنے آتا۔ آپ پوچھتے کہ تیرانام کیا ہے۔ ایک مرتبہ اس نے عرض کیا۔

’’آپ میرے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ جب بھی سامنے آتا ہوں۔ آپ میرا نام پوچھتے ہیں حالانکہ میں تیس سال سے آپ کی خدمت میں ہوں۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’میں مذاق نہیں کرتا بلکہ میرے قلب و روح میں اس طرح اللہ کا نام جاری و ساری ہے کہ اس کے نام کے سوا مجھے کسی کا نام یاد نہیں رہتا۔‘‘

***

ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوریؒ اپنے ایک ہمسایہ کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ آپ نے دیکھا اور سنا کہ تمام لوگ مرحوم کی تعریفیں کررہے ہیں لیکن آپ نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا

’’مرنے والا تو منافق تھا۔ اگر پہلے سے مجھے اس بات کا علم ہوتا تو مَیں جنازے میں کبھی شریک نہ ہوتا اور اس کی منافقت کی دلیل یہ ہے کہ اہل دنیا اس کی تعریفیں کررہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا اہل دنیا سے بہت گہرا تعلق تھا اور یہی چیز اس کی منافقت پر دلالت کرتی ہے۔‘‘

***

ایک مرتبہ حضرت بایزید بسطامیؒ نے کسی دیوانے کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے میرے اللہ! میری جانب نظر کرم فرما۔

آپ نے اس سے فرمایا ’’تو نے ایسے کون سے اعمال کئے ہیں جو اس کی نظر تیری طرف اُٹھے۔‘‘

اس نے جواب دیا۔‘‘ جب اس کی نظر مجھ پر پڑجائے گی تو میرے اعمال خود بخود اچھے ہوجائیں گے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’توسچا ہے۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 84 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے