سگریٹ فروخت کرنیوالے دکانداروں کے پروفیشنل ٹیکس سرٹیفکیٹ بنانے کا فیصلہ

سگریٹ فروخت کرنیوالے دکانداروں کے پروفیشنل ٹیکس سرٹیفکیٹ بنانے کا فیصلہ

  



ملتان (نیوز رپورٹر) ملتان میں سگریٹ فروخت کرنے والے دکاندار ہوجائیں تیار حکومت پاکستان کے وینڈر ایکٹ 1958 کے تحت ملتان میں سگریٹ فروخت کرنے والے دکانداروں کے پروفیشنل ٹیکس سرٹیفکیٹ بنائے جائیں گے یہ بات فیڈ منیجر سپارک نعیم احمد نے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن محمد عبداللہ سے ملاقات کے دوران کہی ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن عبداللہ نے مزید بتایا کے پروفیشنل ٹیکس سی ٹکٹ کی کم ازکم فیس 4 ہزار روپے ہوگئی ٹیکس سرٹیفکیٹ بنانے کا مقصد سگریٹ فروخت کرنے والے (بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے تاکہ سگریٹ فروخت کرنے والے دکاندار 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ کی فروخت نہ کریں اس موقع پر انہوں نے مزید کہا ٹیکسٹ فیلڈ بنانے کے لیے ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں ایف بی ا?ر نے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع کردیا ہے پیپر یا ڈسٹریبیوٹر دکاندار غیر قانونی سگریٹ کی فروخت مکمل طور پر بند کر دیں سگریٹ کے پیکٹ پر تصاویر تحریر اور ہیلتھ وارننگ شائع کرنا ضروری ہے 63 فیصد سے کم قیمت پر سگریٹ فروخت کرنے والے دکاندار کو جرمانہ ہوگا اس موقع پر سپارک کے فیلڈ منیجر نعیم احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا پارک میں جنوری 2019 میں سگریٹ نوشی کے حوالے سے ملتان میں ریسرچ کی تھی اس ریسرچ کے مطابق ملتان میں سگریٹ بیچنے والے کسی بھی دکاندار کے پاس سگریٹ بیچنے کے لئے پروفیشنل ٹیکسسرٹیفکیٹ نہیں تھا انہوں نے مزید کہا کہ پروفیشنل ٹیکس لاگو ہونے کے بعد ملتان میں قانون کی بالادستی ہوگی اور بچوں کو سگریٹ نوشی جیسے موذی مرض سے چھٹکارا ملے گا تنظیم سپارک اس مقصد میں پہلے بھی ا?پ کے ساتھ تھی اور ا?ئندہ بھی ا?پ کے ساتھ رہے گی

سگریٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر