قیدیوں سے رقم کی مبینہ وصولی‘ تشدد کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل 29جنوری کو طلب

قیدیوں سے رقم کی مبینہ وصولی‘ تشدد کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل ...

  



ملتان (خبر نگار خصوصی)سپرنٹینڈنٹ جیل کی جانب سے مبینہ طور پر ملزمان سے تین کروڑ روپے کی رقم نہ دینے پر تشدد کا نشانہ بننے والے (بقیہ نمبر5صفحہ7پر)

قیدیوں نے جیل کی اندرونی کہانی سے پردہ اٹھاتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کردی درخواست کے مطابق جیل میں ہر نئے قیدی سے 3 ہزار اور بال کٹوانے کے لیے بھی ڈیڑھ ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ڈپٹی سپریٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل شیخ عارف امتیاز کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے دو قیدیوں شہزاد اور مقصود نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ قیدی فیصل کو تشدد کا نشانہ بننے سے بچانے پر ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل دشمن بن گیا ہے اور مقدمہ کے مدعیوں سے ساز باز کرکے انھیں اپنے کمرے میں بلاکر صلح کے لیے مبینہ طور پر 3 کروڑ کی رقم طلب کررہا ہے اور نہ دینے پر انکا جیل ٹرائل کرانے کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ انکی ملاقات اور گھر کا کھانا بھی بند کردیا ہے،ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ شیخ عارف امتیاز نے جیل میں بدمعاشوں کے ذریعے دہشت قائم کررکھی ہے، اور بھتہ وصول کرتا ہے،ہر نئے قیدی سے 3 ہزار اور یہاں تک کہ بال کٹوانے کے ڈیڑھ ہزار وصول کیے جاتے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ جیل حکام کو دائرہ قانون میں رہنے کا حکم دیا جائے،جس پر ایڈیشنل سیشن جج ملتان محمد نواز بھٹی نے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل سے 29 جنوری کو جواب طلب کرلیا ہے۔

ڈسٹرکٹ جیل

مزید : ملتان صفحہ آخر