مسئلہ کشمیر پر پاکستان جنگ کا متحمل نہ ہی لا مٓحدود آپشنز موجود،امریکی تھنک ٹینک

مسئلہ کشمیر پر پاکستان جنگ کا متحمل نہ ہی لا مٓحدود آپشنز موجود،امریکی تھنک ...

  



واشنگٹن(آن لاین)واشنگٹن میں امریکن کانگریس کے تھنک ٹینک کانگریشنل ریسرچ سروس نے ”کشمیرکا پس منظر، حالیہ پیشرفت اور امریکی پالیسی“کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان کے پاس جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بہت کم آپشنز بچے ہیں اور پاکستان فوجی کارروائی کرنے کا متحمل نہیں ہے۔ پاکستان سفارتی مہم کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر کو عالمی اداروں میں اْٹھانے کو ترجیح دیگا۔امریکہ(بقیہ نمبر48صفحہ7پر)

کی کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھا ر تی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کے بعد پاکستان کے پاس بھارتی اقدام کا جواب دینے کیلئے محدود آپشن موجود ہیں۔چھ ماہ میں یہ سی آرایس کی دوسری رپورٹ ہے جس میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور بھارت پاکستان تعلقات پر تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔سی آر ایس امریکی کانگریس کی ایک شاخ ہے جو امریکی ایوان نمائندگان کیلئے ایسی رپورٹس تیار کرتا ہے جن میں انکی دلچسپی ہو۔ ان رپورٹس کا مقصد امریکی خارجہ پالیسی کو موثر بنانا ہوتا ہے۔رپورٹ میں تنازعہ کشمیر کا پس منظر پیش،اور 2019میں ہونیوالی کئی اہم پیشرفتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں حالیہ ترقی کا خلاصہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے ہندوستان کی جانب سے ملکی آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو منسوخ کرنے کے اقدام کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی کیونکہ مسئلہ کشمیر کی یکطرفہ تبدیلی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے انسانی حقوق کی بنیادوں پر بھارت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ انسانی حقوق کے تحفظات کو برقرار رکھتے ہوئے، پاکستان کیساتھ باہمی تعاون کیساتھ تعلقات قائم رکھنے کیساتھ ساتھ امریکہ بھارت شراکت کے حصول میں توازن قائم کرنا چاہتا ہے۔امریکی کانگریس کیلئے رپورٹ میں 2019میں کشمیر میں ہونیوالی پیشر فت سے پیدا ہونیوالے ممکنہ سوالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔کیا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے ہندوستان کے اقدامات نے علاقائی استحکام کو منفی طور پر متاثر کیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو،ر یاستہائے متحدہ امریکہ کو کیا فائدہ ہوگا اور امریکی پالیسیوں سے ممکنہ عدم استحکام کو کس حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے؟کیا ہندوستان پاکستان تنازعے میں ڈائیلاگ کیلئے امریکی حکومت کا کوئی سفارتی یا دوسرا کردار ہے؟مقبوضہ کشمیر میں بڑھتا ہوا عدم استحکام افغانستان کو کس حد تک متاثر کرے گا؟ رپورٹ میں بھارتی حکومت کے شہریت ترمیمی قانون کو تنقید کا نشانا بنایا گیا اور کہا گیا ہے کہ اس قانون سے بھارت نے عالمی سطح پر اپنے سیکولر کردار کو نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے بھارت کو کشمیر میں کیے گیے اقدامات کا دفا ع کرنا مشکل بن جائیگا۔بی جے پی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو جموں کشمیر کے خصوصی اختیارات منسوخ کرنے اور ریاست کو دو خطوں میں تقسیم کرنے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔پاکستان نے کئی بارآئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کو عالمی اداروں میں اْٹھانے کی کوشش کی تاہم بھارت کا موقف ہے کہ یہ انکا اندونی معاملہ ہے۔

امریکی تھنک ٹینک

مزید : ملتان صفحہ آخر