وزیراعظم نے مخصوص دوستوں کونوازنے کیلئے آٹے کا بحران پیداکیا‘ سلیم بھٹی

وزیراعظم نے مخصوص دوستوں کونوازنے کیلئے آٹے کا بحران پیداکیا‘ سلیم بھٹی

  



بہاول پور(بیورورپورٹ)نااہل خان نے اپنے مخصوص دوستوں کو نوازنے کے لیے آٹے کا بحران پیدا کیا، حکومت کے گودام آٹے سے بھرے ہوئے ہیں مگر عام آدمی کو سپلائی نہیں دی جارہی-پی ٹی آئی کی حکومت گندم کے بحران کی ذمہ دار (بقیہ نمبر51صفحہ7پر)

ہے۔ سلیم بھٹی ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب نے موجودہ مصنوعی آٹا بحران کا ذمہ دار حکمرانوں کو گردانتے ہوئے کہا ہے کہ 15 ستمبر 2018 کو عمران خان کے حکم پر طورخم بارڈر پرپاکستان نے تحفے میں دیئے گئے 280 ٹن گندم کی پہلی کھیپ افغان حکام کے حوالے کردی-پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر افغانستان کو 40 ہزار ٹن گندم عطیہ کی۔ 280 ٹن گندم کی پہلی کھیپ کو چار ٹرکوں میں بارڈر تک پہنچایا گیا۔29 نومبر 2018 کو جمعہ کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے افغانستان کو40 ہزارمیٹرک ٹن گندم بطور تحفہ فراہم کرنے کی منظوری دی۔عوام سوال کرتی ہے کہ کیا گندم درآمدی اشیاء میں شامل ہے؟ کیا حکومت نے کسی قسم کا کوئی نیا ٹیکس لگا دیا ہے؟ یا پھر گندم کی قیمت اچانک بڑھ گئی ہے؟ گندم کا سرکاری نرخ گزشتہ برس بھی 1300روپے فی من تھا اور اس سال بھی یہی ریٹ مقرر کیا گیا تھا تو آٹے کے نرخ کیسے بڑھ گئے؟ کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ ایک بری خبر یہ ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران آٹے کی قیمتوں میں نہ صرف مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ گندم اور آٹے کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر