عالمی فورم پر وزیراعظم نے اپنے ویژن کا اظہار کر دیا!

عالمی فورم پر وزیراعظم نے اپنے ویژن کا اظہار کر دیا!

  



وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ سے حکومتوں اور فوج میں اختلافات پیدا ہوئے، ماضی کی حکومتوں نے دولت باہر لے جانے کے لئے ادارے کمزور کئے، بڑے بڑے منصوبوں میں کمیشن لیا،ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی وجہ سے ان حکومتوں کو جانا پڑا، عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر انٹرنیشنل میڈیا کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو عسکری سمیت تمام اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے، فوج اور حکومت کے درمیان مکمل اعتماد اور ایک دوسرے کا تعاون حاصل ہے، جبکہ ماضی میں ایسا نہیں تھا، بلکہ جب حکومتیں کرپشن کرتیں تو سیکیورٹی ادارے ان پر سوال اٹھاتے، جس کے سبب دونوں کے درمیان کھچاؤ رہتا۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ حکومتیں فوجی اداروں پر مکمل کنٹرول کی کوشش کرتیں، کیونکہ فوج ان کی کرپشن سے مکمل آگاہ تھی،اِس لئے یہ لیڈر شپ خوف کا شکار رہتی،اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر انٹرنیشنل فورم پر بلاشبہ اعتماد کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے اور اپنے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔انہوں نے برملا کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے امریکہ سے غلط وعدے کئے، تاہم اب حکومت ایسا نہیں کرے گی۔کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک واضح ویژن رکھنے والے لیڈر ہیں اور جس اعتماد کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی موقف کی نمائندگی کرتے ہیں وہ پوری قوم کے لئے قابل ِ فخر ہو سکتا ہے،لیکن یہاں ہم یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ انٹرنیشنل فورمز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ احتیاط کا دامن تھامے رکھیں تو زیادہ بہتر ہے۔گھر کے مسائل اگر گھر میں زیر بحث آئیں تو زیادہ اچھا ہے۔ ماضی کی حکومتوں اور فوج کے درمیان کیسے تعلقات تھے یا ہیں یہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے اس پر بیچ چوراہے باتیں کرنا کچھ اچھا نہیں لگتا۔اس بارے میں ہر شخص کا اپنا نقطہ ء نظر ہے۔وزیراعظم کے استدلال سے اختلاف کرنے والے بھی بھاری تعداد میں موجود ہیں۔ ان کی بات میں جزوی صداقت ہو سکتی ہے لیکن اسے حقیقت کے طور پر پاکستانی سماج تسلیم نہیں کرتا۔خود وزیراعظم عمران خان کے خطاب نے کئی سوالوں کو بھی جنم دیا کہ کیاپاکستان میں دو ریاستیں ہیں اور کیا سیاسی و عسکری قیادت دو الگ الگ قسم کی اشیاء ہیں؟ آئین ِ پاکستان تو یہ کہتا ہے کہ تمام ادارے ریاست کے تابع ہیں اور منتخب حکومت ریاست کے امور چلانے کی مکمل ذمہ دار ہوتی ہے۔ہم یہاں کسی قسم کی کرپشن کے سخت خلاف ہیں اور کسی بھی کرپٹ عنصر کی تائید و حمایت نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ معاملات عدالتوں اور احتسابی طور پرطے کئے جانے چاہئیں۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے تو انہیں اس طرح اظہار کی ضرورت کیوں پیش آئی۔دوسرا سیاسی عسکری قیادت میں ہم آہنگی اور تال میل ہونا ایک فطری بات ہے،پوری دُنیا کی کامیاب ریاستوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہاں اس کے اظہار کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ماضی میں حکومتوں کو کرپشن پر فارغ کیا گیا،لیکن اس کا جواز بنا کر مارشل لا کا نفاذ کیسے آئینی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم نے تو یہی دیکھا کہ کرپشن کے الزام میں فارغ ہونے والی حکومتوں کو عدلیہ نے بحال بھی کیا، جس سے ان پر کرپشن کا الزام بے وزن ہو گیا۔ پاکستان اس وقت ایک بحران سے گزر رہا ہے ایسے تمام اداروں کا ایک پیج پر ہونا ہی ملکی مفاد کا تقاضہ ہے، لیکن ایک پیچ پر ہونے کا اعلان تو ماضی کی تمام حکومتیں بھی کرتی رہیں،ان کے انجام سے قطع نظر سب کو ساتھ لے کر چلنے کا وعدہ تو وہ بھی کرتی رہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کرپشن کے خلاف کردار نہایت قابل ِ تعریف ہے اور ماضی میں ہونے والی لوٹ مار کے خلاف ان کا عزم پوری قوم کی آواز ہے،لیکن آج ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنے سروے میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ یہ ایک الارمنگ بات ہے اور اس رپورٹ سے پی ٹی آئی حکومت کا بیانیہ پٹتا نظر آ رہا ہے۔بہتر ہو گا وزیراعظم عمران خان اس رپورٹ کا بھی جائزہ لیں اور ان اسباب کی تحقیق کریں، جن کے سبب کرپشن کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔ یہ خود ان کی ساکھ کو بھی شدت سے متاثر کر سکتا ہے۔

حکومت کے مخالفین آج ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں اور حکومت پر پھبتیاں بھی کس رہے ہیں۔ ظاہر ہے جب کرپشن کے نام پر سیاست کی جائے تو پھر ایک دوسرے کے لتے لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاسکتا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے جس صورت حال کی عکاسی کی ہے اس کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو بہرحال حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔

مزید : رائے /اداریہ