پی ٹی وی، نئے ٹیکس، ایک افسوسناک خبر

پی ٹی وی، نئے ٹیکس، ایک افسوسناک خبر

  



مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری کا رونا اپنی جگہ لیکن نااہلی اور اقربا پروری بھی اس معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیلی ویڑن نے ٹی وی لائسنس فیس بڑھانے اور اس طرح مہنگائی، بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان عوام پر 20ارب روپے کا مزید ناگہانی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس افسوسناک فیصلے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پی ٹی وی نے اپنا ریونیو بڑھانے کے لئے تیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہوں پر تین مارکیٹنگ منیجرز بھرتی کئے یہ منیجرز سرکاری وسائل بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوئے، میٹنگز کے نام پر بے تحاشہ رقوم خرچ کیں اور کئی ماہ پوری طرح بہتی گنگا میں اشنان کے بعد اب انہوں نے ایک انوکھا فارمولا نکالا ہے جس کے تحت پی ٹی وی ٹیکس جو 35روپے ہے اسے بڑھا کر سو روپیہ کر دیا جائے گا اور یہ ٹیکس بجلی کے بلوں میں لگ کر آتا رہے گا۔ جسے عوام نہ چاہتے ہوئے بھی ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسے کہتے ہیں مرے کو مارے شاہ مدار، عوام غربت اورمہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اشیائے صرف ان کی پہنچ سے دور بلکہ بہت دور جا چکی ہیں۔ بجلی گیس کے بل ان کی زندگی اجیرن کرنے کے لئے کافی ہیں، اس پر آٹا اور چینی کی قلت و بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب آدمی کا بھرکس نکال دیا ہے۔ رہی سہی کسر کم اہل سفارشی افسران پوری کر دیں گے۔ آج مسابقت کے دور میں جب نجی چینلز اپنے جدید نظام اور بہترنیٹ ورک کے ذریعے عوام کو مکمل طور پر اپنی جانب متوجہ کر چکے ہیں۔ پی ٹی وی اور اس کے ذمہ دار آگے بڑھ کر مقابلے کی بجائے صرف اور صرف اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ ظاہر ہے اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس بات سے کیا غرض کہ ایک غریب آدمی کے لئے سو روپے کیا معنی رکھتے ہیں یا غربت کے کیا معنی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی وی کے لئے سابق وزیراطلاعات فواد چودھری کی قربانی دی اور ایم ڈی ارشد خان کی مکمل حمایت کی لیکن افسوس ارشد خان پی ٹی وی کی بہتری کے لئے کچھ خاص نہ کر سکے۔ تازہ اضافی ٹیکس کی خبر تو انتہائی مایوس کن ہے۔ اگر یہی کرنا تھا تو تین مارکیٹنگ منیجرز رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان سفید ہاتھیوں پر سرکاری وسائل لٹائے گئے اور آخر میں انہوں نے قوم کو کیا شاندار تحفہ دیا۔ ہم وزیراعظم عمران خان سے درخواست کریں گے کہ وہ وفاقی کابینہ میں ایسی کسی سفارشات کو خاطر میں نہ لائیں اور پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اس فیصلے کو عملی شکل اختیار نہ کرنے دیں۔وزیراعظم وقت نکال کر پی ٹی وی کے دیگر معاملات کا بھی جائزہ لیں۔ ان منیجرز سے باز پرس کی جائے کہ دو سال انہوں نے قوم کے آنہ آنہ جمع کئے گئے ٹیکس پر کیا خدمات انجام دیں۔ ہم تو یہاں تک اپیل کریں گے کہ ان ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے اور عوام کو اس نئے استحصال سے چھٹکارا دلائیں۔

مزید : رائے /اداریہ