سناٹا، سکوت اورجمہورکی انگڑائی

سناٹا، سکوت اورجمہورکی انگڑائی
سناٹا، سکوت اورجمہورکی انگڑائی

  



میری عمر لگ بھگ چالیس سال ہوئی ہو گی، کونے والے ایک گھر میں قیام تھا۔ گھر کچھ اس طرح تھا کہ ایک طرف تو اس کی اپنی سڑک تھی، اسی طرف سے گھر میں آمدورفت تھی۔ ایک دوسرے رُخ پر ایک پتلی سی گلی تھی۔ اتنی پتلی کہ دو گاڑیاں پھر بھی گزر جاتی تھیں۔ہمارے ایک کمرے کی کھڑکی اس پتلی گلی کی جانب کھلتی تھی۔ اسی گلی میں کھڑکی کے بالمقابل کھیل کا میدان تھا، جس میں وقت اور موقع کی مناسبت سے نوجوانوں نے اپنے اپنے کھیل کے اوقات مقرر کر رکھے تھے۔

اس کمرے کی بیرونی دیوار کے ساتھ بلدیہ، یعنی سی ڈی اے نے ایک تھڑا سا بنا رکھا تھا۔ میدان میں کھیلنے والے لڑکے تھک جاتے یا اپنی باری کا انتظار کرتے تو تازہ دم ہونے کے لیے اس تھڑے پر آ کر بیٹھ جاتے، اس بات سے بے خبر کہ کھڑکی کے پیچھے لیٹا شخص ان کی ایک ایک بات سن رہا ہے۔ موسم گرما کا آغاز ہونے پر کھڑکی کھولی تو عصر کے بعد تھڑے پر بیٹھے ان نوجوانوں کی گفتگو سننے کا موقع ملاجن کی عمریں پندرہ بیس اور حد سے حد بائیس برس رہی ہوں گی۔ یہ نوجوان اس بات سے مطلقاً بے خبر گفتگو کر رہے ہوتے تھے کہ کوئی اجنبی شخص کھڑکی کے پیچھے ان کی باتیں سن رہا ہے……چالیس سال کی عمر کوئی ایسی عمر نہیں ہوتی جسے بڑھاپے پر محمول کیا جائے۔ اسے آپ ادھیڑ عمری کا دورانیہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ نوجوانی تو نہیں کہہ سکتے، لیکن بھرپور جوانی کا عہد تو اس عمر ہی کو گردانا جا سکتا ہے۔

قارئین کرام! کھڑکی کے باہر تھڑے پر اٹھارہ بیس سالہ نوجوانوں کی تین روزہ، جی ہاں صرف تین روزہ گفتگو کے موضوعات، طرز تکلم، الفاظ کے چناؤ، مجلسی آداب، بے ساختگی اور ان کے باہمی رکھ رکھاؤ نے مجھے یہ سکھا دیا کہ پروفیسر صاحب آپ جوان ہو تو اپنی جگہ، آپ پڑھے لکھے ہو تو اپنے لیے، آپ کامیاب ہو یا ناکام،لیکن آپ کا عہد بڑی حد تک گزر چکا ہے۔ بس دوسروں کے لئے جگہ خالی کرنے کے اسباب فراہم کرتے جاؤ۔ اب آنے والا عہد ان نوخیز غنچوں کا ہے۔ ابھی ان کے پھول بننے میں چند سال باقی ہیں۔ بس پروفیسر بس! نشست خالی کر کے منزل آنے سے ذرا پہلے دروازے کے قریب ہو جاؤ تاکہ گاڑی کو زیادہ دیر توقف نہ کرنا پڑے اور باقی مسافروں کا وقت ضائع نہ ہو……کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ عالمی اور مقامی مقتدر قوتوں نے کس قدر عقل مندی سے پہلی بار جب اپنا مہرہ پاکستانی میدان سیاست میں اُتارا تو ذوالفقار علی بھٹو کی عمرصرف اٹھائیس سال تھی۔ان مقتدر قوتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے جوان خون سے دو کام کرانا تھے:

بھارت سے جنگ اور قرار پکڑتے، نمو پاتے صنعتی ڈھانچے کا قومیانا۔ باقی جتنے کام جوان سے سرزد ہوئے،وہ ملک کی خاطر ہوئے اور خوب ہوئے۔

دوسری بار مقتدر قوتوں نے سیمابی نوجوان کی بجائے ٹنڈراکے سے نقطہ انجمادکے مزاج والا شخص میدان میں اُتارا تو اس وقت نواز شریف کی عمر وہی ذوالفقار علی بھٹو جتنی ہی تھی۔ ان سے بھی دو کام کرانا تھے: پہلا کام بھارت کی توانااور اُبھرتی معیشت کو مغربی دنیا سے جوڑنا تھا۔تین عشروں میں دنیا بدل چکی تھی۔ بھارتی میدان معیشت میں مغربی، بھارتی اور امریکی کمپنیوں کا کاروباری حجم نکاسی کا متلاشی تھا، چنانچہ واہگہ سے مغرب کی جانب موٹروے کی تعمیر شروع کی گئی۔

دوسرا کام دونوں ابھرتی جماعتوں ……مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی…… کو باہم لڑاتے رہنا تھا تاکہ خود پاکستانی معیشت بس لڑکھڑاتی ہی رہے۔ اس دوسرے کام پر مقامی اور عالمی مقتدرہ میں اس حد تک تو اتفاق تھا کہ یہ لڑتے رہیں تاکہ مقامی مقتدرہ کے کاروبار متاثر نہ ہوں، لیکن اپنی کم علمی اور حریص طبع کے باعث مقامی مقتدر ہ یہ اندازہ نہ کر سکی کہ ملک کو کیا نقصان پہنچے گا۔35 سالہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو لے لیں، پاکستان کو ناقابل ِ تسخیر بنانے کے خواب،امنگیں، ولولے اور ہلچل اس نابغے کی35سالہ عمر میں پیدا ہوئے اور اس مفتون و مجنون نے وہ کچھ کر دکھایا جو نسیم حجازی ہمیں اپنے ناولوں میں پڑھایا کرتے تھے۔ یہی عمر کچھ کرنے کی ہوا کرتی ہے۔ جذبے، اُمنگیں، ولولے، خواب، خون، حرکت اور سکون ہی نہیں، اس عمر میں تو اضمحلال، افسردگی، پژمردگی، آزردگی، کبیدگی،دِل گرفتگی اور ان سے ملتی جلتی جملہ منفی کیفیات بھی جوان ہوتی ہیں۔ اس عمر میں روگ لگ جائے، انسان غم و اندوہ کی کھائی میں جا گرے تو اس کا ردِعمل شدید، لیکن مثبت ہی ہوتا ہے۔مفتون و مجنون ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وہ کچھ کر دکھایا جو نسیم حجازی ہمیں اپنے ناولوں میں پڑھایا کرتے تھے:

غم جوانی کو جگا دیتا ہے لطف خواب سے

خواب یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے

ان دو سیاسی مثالوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس عرصے میں کچھ مقاصد عالمی مقتدرہ کے پورے ہوئے تو مقامی مقتدر بھی بہتی گنگا میں اشنان کرتے رہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ فطری توازن بہرحال کسی نہ کسی حد تک، قدرے کم ہی سہی، ملک کے حق ہی میں رہا۔ تمام غریب اور ترقی پذیر ممالک میں کم و بیش یہی کچھ ہوتا ہے، لیکن اس ملک، اس غریب کی جورو کے ساتھ ظلم تو اس تیسری مرتبہ ہوا جب عالمی مقتدرہ نے تو ناپ تول کرایک ایسے پینسٹھ سالہ شیخ الفانی کو منتخب کروایا، جس کی کوئی کل کسی زاویے سے سیدھی نہیں تھی۔ عائلی زندگی دیکھیں تو ہر وقت بھونچال کی زد میں، رنگ روپ (Glamour) کی زندگی پر نظر ڈالیں تو نقطہ نقطہ، شوشا شوشا ناکام، ادب آداب اور تہذیب و شائستگی تلاش کرنا چاہیں تو آبِ حیات کے مثل عنقا، اس کے حق میں رائے دہندگان یکجا کریں تو ناکامی۔ اس کے باوجودعالمی مقتدرہ نے اسے میدان میں دو ہی مقاصد کے ساتھ اتارا تھا: ملک کے دفاع کو کمزور کرنا،جس کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ ضعف کا شکار ہو۔ یہ پہلا مقصد دفاعی بجٹ کے انجماد کی شکل میں پورا ہو رہا ہے اور اس کے برگ و بار اور آسیب اب مسئلہ کشمیر کو بھی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ دوسرا مقصد ہماری ایٹمی صلاحیت ختم یا منجمد کرنا ہے۔ اس پر آئندہ کبھی گفتگو ہو گی۔

لیکن……! قارئین کرام!اب مَیں آپ کو ایک اور کوچے میں لئے چلتا ہوں!……ملک کی تینوں بڑی بہت بڑی اور باہم دست و گریبان جماعتوں نے ابھی حال ہی میں جب دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ اس فریق کے حق میں ایک قانون بنایا،جس سے یہ تینوں جماعتیں ساری زندگی بظاہر برسرپیکار رہیں تو اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر ملک بھر میں ماحول منڈی یکسر بدل چکا تھا۔مجھے سوشل میڈیا اور گلیوں بازاروں میں یہ مشاہدہ کرنے میں ذرا دِقت نہ ہوئی کہ میری کھڑکی کے باہر تھڑے پربیٹھے انہی اٹھارہ بیس سالہ نوجوانوں نے پہلے تو ایک انگڑائی لی، پھر یک لخت آن واحد میں انہوں نے کروٹ بدلی ہے، بس کسی دم وہ اُٹھنے کو ہیں۔یہ نوجوان اظہار بیان کے لئے آج کل سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ مَیں نے دیکھا کہ صبح و شام ایک دوسرے کو یوتھیا، پٹواری، جیالا اور متوالا کہہ کر لڑنے جھگڑنے والے یہ تمام جی ہاں تمام کے تمام نوجوان آج کل ایک طرف ہیں اور مذکورہ بالا ”چاروں فریق“ دوسری طرف ہیں۔سوشل میڈیا پر ہُو اور سناٹے کا یہ عالم ہے کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھنے والے ایک صاحب نے لکھا: ”لوگ بالکل چپ سادھ کر بیٹھے ہیں“۔

یہ نوجوان چند نہیں،ملکی آبادی کا65 فیصد ہیں۔ یہ قطرے ہیں، دریا نہیں ہیں۔ یہ65 فیصد نوجوان ہاتھی، گینڈے، بھیڑیے اور شیر یعنی مذکورہ بالا چاروں ”پارلیمانی فریقوں“ کی طرح طاقتور نہیں ہیں، لیکن ستر سالہ تاریخ اور پارلیمنٹ کی آخری ”حرکت“ نے ان سب کو یکجا کر دیا ہے۔ پہلے یہ بکھرے قطرے تھے،چار میں تقسیم تھے، اب یہ آہستہ آہستہ دریا بن رہے ہیں۔ پہلے یہ رنگا رنگ، بھانت بھانت اور کوئی چھوٹی مکھی تو کوئی بڑی مکھی تھی، اب یہ یکجا ہو کر ایک ہی چھتے پر جمع ہو کر موقع کی تلاش میں ہیں۔ جب کبھی ان حشرات الارض کو موقع ملا تو ان کے سامنے نہ تو کوئی ”گینڈا“ قدم جما سکے گا اور نہ ”بھیڑیا“۔ حشرات الارض کے سامنے بھی کبھی ہاتھی گینڈے ٹھہر سکے؟ ٹھہرے پانی کو جوہڑ کی شکل میں کوئی قوت حاصل نہیں ہوتی اور جو ہڑ بھی جب چار چھوٹے چھوٹے گڑھوں میں منقسم ہو تو پانی کے ان بے بس قطروں کی کیا مجال کی کسی کنکر، پتھر کو للکار سکیں،چہ جائیکہ چار بوجھل چٹانیں،لیکن پارلیمنٹ کی اس آخری ”حرکت“ نے چار حصوں میں ان پھٹے، منقسم، بے بس اور بے توقیر قطروں کو ستر سال میں پہلی مرتبہ ایک راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ اب یہ قطرے باہم متحد ہیں اور ابھی یہ رہگزر کی ابتدائی منزلیں طے کر رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ اب حق حق کی صورت میں اور شیکسپیئر کے الفاظ میں ”اوہ! تم بھی“؟ (Oh! you too?) واضح ہو چکا ہے۔ چار سٹھیائے ہوئے ہاتھی، گینڈے، بھیڑیے اور شیر کسی نئے شکار کی تاک میں کب تک رہیں گے۔ اب یہ بے بس قطر ے، کھڑکی کے باہر تھڑے پر بیٹھے، یہ نوخیز غنچے دریا بن کرہاتھی،گینڈے،بھیڑیے اور شیرسے نمٹیں گے۔حشرات الارض اورمکھی مچھروں کا مقابلہ نہ گینڈا کر سکتا ہے اور نہ بھیڑیا، شیر کی مجال ہے نہ ہاتھی میں سکت۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ بے توقیرقطرے چار ”پارلیمانی فریقوں“ میں منقسم اور جنگل کے ان چارپارلیمانی فریقوں کے کمی کمین تھے۔ اب انہیں احساس ہو چکا ہے کہ ہم چاروں کی اپنی قوت الگ سے ایک قوت ہے۔ساٹھ ستر سالہ مقتدر شیخ الفانی ہاتھی، گینڈے، بھیڑیے اور شیر کیا وقت کی نبض پہچاننے کی کوشش کریں گے یا ملک کو نوچنے کا عمل جاری رکھیں گے؟ جمہور تو انگڑائی اور کروٹ لے چکے ہیں، آنکھیں کھول چکے ہیں اور خوابیدگی کے عالم میں بڑ بڑا رہے ہیں: ”ارے یہ چاروں ”پارلیمانی فریق“ تو ایک ہیں“!……اب آنے والا عہد ان نوخیز غنچوں کا ہے۔ ابھی ان کے پھول بننے میں چند سال باقی ہیں۔ بس پروفیسر بس! نشست خالی کر کے منزل آنے سے ذرا پہلے دروازے کے قریب ہو جاؤ تاکہ گاڑی کو زیادہ دیر توقف نہ کرنا پڑے اور باقی مسافروں کا وقت ضائع نہ ہو۔ بس پروفیسر بس!

مزید : رائے /کالم