تبدیلی سرکار سے اِن ہاؤس تبدیلی تک

تبدیلی سرکار سے اِن ہاؤس تبدیلی تک

  



عوام پوچھتے ہیں وجوہات کیا ہیں، کدھر گیا گندم کا سٹاک، اچانک آٹے کا اس قدر بحران اور قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب فرماتی ہیں کہ نئے پاکستان میں آٹا ختم، تندور بند اور عوام احساس لنگر خانے سے روٹی کھا لیا کریں …… عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا اس ضمن میں فرمان ِ ذیشان ہے کہ نومبر دسمبر میں لوگ زیادہ روٹی کھاتے ہیں، اس لئے آٹا مہنگا ہے۔ آج جیسے جالب کی روح رو رہی ہے کہ:

70 روپے کلو آٹا

ہر سو، سونامی، سناٹا

عمران نیازی زندہ باد

بلاول بھٹو زرداری کا کہناہے کہ عمران خان نے اپنے مخصوص دوستوں کو نوازنے کے لئے آٹا بحران پیدا کیا، حکومت کے گودام آٹے سے بھرے پڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بھی وفاقی حکومت کو آٹے کے بحران کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اپنے کپتان وزیراعظم عمران خان کی عمرانیات کہ عہدِ عمرانی میں غریب عوام روٹی کو روتے، آٹے کو ترستے ہیں۔ کدھر گئے وہ لارے و نعرے؟بتائیں کس مرض کی دوا ہیں ہمارے بڑے بڑے نامی گرامی ماہرینِ معیشت؟ روحی کنجاہی کے الفاظ میں:

ہمارے وطن میں اُگاتے ہیں غربت

کہاں سے خدا جانے لاتے ہیں غربت!

ہمارے یہاں بہتی ہے اُلٹی گنگا

معیشت کے ماہر بڑھاتے ہیں غربت

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوااکرم خان درانی جو کبھی متحدہ اپوزیشن کے اجلاسوں کی صدارت فرمایا کرتے تھے اور کسی ”رہبر“ نامی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہوا کرتے تھے،حال ہی میں اپنے ہونے کا پھر احساس دلایا ہے اور ایک اہم انکشاف فرمایا ہے کہ ”اِن ہاؤس تبدیلی کی بات پکی ہے، تین مہینوں کے لئے عبوری حکومت قائم ہو گی اور انتخابی اصلاحات لا کر انتخابات ہوں گے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایک نااہل شخص کو قوم پر مسلط کر کے بڑی زیادتی کی ہے۔ اب تو اتحادیوں سمیت حکومتی وزراء بھی عمران خان کی نااہلی کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آزادی مارچ کے دوران ذمہ دار لوگوں نے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ وعدے وعید کئے تھے، ان کے مطابق تین مہینے کے اندر اندر ان ہاؤس تبدیلی لا کر عبوری حکومت قائم کی جائے گی، جس میں اپوزیشن بھی شامل ہوگی“…… محترم درانی جی کی خدمت میں عرض ہے کہ دل بہلانے کے لئے یہ خیال اچھا اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی بھی تو نہیں ہے۔ حضور یہ تو فرمائیں کہ نظر نہیں آ رہی وہ اپوزیشن ہے کہاں؟ جسے آپ کبھی متحدہ اپوزیشن گردانا کرتے تھے:

ہم کو ان سے وفا کی ہے اُمید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

یہا ں پتا ہی نہیں چلتا کہ اچانک ہی پہیہ اُلٹے پاؤں چلنے لگتا ہے، کیونکہ یہاں ریت ہی اُلٹی ہے، کسی بھی وقت، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ ہی جانے اندر ہی اندر کیا کیا کھچڑیاں اور کھچڑے پک رہے ہیں، اللہ ہی جانے کون بشر ہے؟ ……مرکز میں تبدیلی یا ان ہاؤس تبدیلی کی بات کچی ہے یا پکی، کچھ پتا نہیں کہ کیا پیشن گوئیاں ہیں اور کیا سلسلے ہیں۔ ہاں البتہ یہ بات پکی ہے کہ عثمان بزدار ایسے سردار،، وزیراعلیٰ کے ساتھ پنج دریاؤں کی دھرتی پنجاب میں پی ٹی آئی کبھی بھی پانچ سال پورے نہیں کر پائے گی۔ خدا جانے کیوں وزیراعظم عمران خان ضد کی حد تک چلے گئے ہیں، ان کی سوئی کیوں سردار عثمان بزدار پر ہی اٹک گئی ہے، حالانکہ ان کے پاس اور بھی بڑے راستے موجود ہیں۔ اپنے پرائے سبھی بول رہے ہیں کہ بزدار کو بدلو، اس کے علاوہ زمینی حقائق بھی یہی ہیں اور وقت کا تقاضا بھی، لیکن کپتان اپنے وسیم اکرم پیس پر پھر بھی ڈٹے ہوئے ہیں کہ ”مَیں نہ مانوں“۔ پاک دھرتی کے پردھان اور ادب نگر کے جوان شاعر جناب جون ایلیا کے الفاظ میں:

جو دیکھتا ہوں وہ بولنے کا عادی ہوں

مَیں اس دیس کا سب سے بڑا فسادی ہوں

سوچتا ہوں کہ راجہ بشارت ایسے وزارتوں، امارتوں کے ماہر اور سیاسی حکومتوں کے کیڑے کیسے قبولتے ہوں گے کپتان کے ایسے وسیم اکرم کو جو خود فرماتے ہیں کہ ”جی مَیں تو ابھی سیکھ رہا ہوں جی“ ……راجہ بشارت جیسا سینئر اور تجربہ کار بندہ عثمان بزدار جیسے وزیر اعلیٰ کا وزیر جچتا ہے، نہ سجتا ہے، لیکن ”منزل یہاں انہیں ہی ملتی ہے جو شریک سفر ہی نہیں ہوتے“…… وزیر ِ اعظم عمران خان کے لئے یہ نیک مشورہ ہے کہ ہوش کے ناخن لیں، ورنہ چڑیاں کھیت چُگ جائیں گی اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ بھلا چودھری پرویز الہٰی کی موجودگی میں پنجاب میں کسی اور وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں، پنجاب میں پرویز الہٰی جیسا کوئی اور وزیر اعلیٰ نہیں ملے گا۔

پڑھا لکھا پنجاب، پرائمری تعلیم مفت، کتابیں مفت، وارڈنز لا کر ٹریفک کے نظام میں بھر پور بہتری، 1122، پٹرولنگ پولیس کا نظام، بے شمار میگا منصوبے، پُل، انڈر پاسز، گلیوں سڑکوں کے جال، الغرض ہر حوالے، ہر لحاظ سے چودھری پرویز الہٰی کا پنج سالہ دور سنہری تھا اور مثالی بھی…… لوگ آج بھی اس دور کی مثالیں دیتے ہیں اور چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہٰی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خدمت میں عرض ہے کہ چودھری پرویز الہٰی پنجاب میں بحیثیت وزیر اعلیٰ آپ کی ضرورت بن چکے ہیں، صرف اسی صورت میں پی ٹی آئی پنجاب میں اپنی مدت پوری کر سکتی ہے، کیونکہ پرویز الہٰی پنجاب کے عوام کی آواز ہیں۔ اگر آپ سوچتے رہے اور اپنے بزدار پر ہی ڈٹے رہے تو یہ کام کوئی اور کر دکھائے گا، پہچان والے پرویز الہٰی کو پہچان لیں گے اور اپنا لیں گے، پھر آپ کے پاس پچھتاوے ہی بچیں گے کہ:

جو تھے شناور بحر کی تہہ سے سارے موتی چن کر لے گئے

ہم کنارے سوچتے رہ گئے کہ پانی کتنا گہرا ہے

مزید : رائے /کالم