قومی زبان اور قومی لباس

قومی زبان اور قومی لباس
قومی زبان اور قومی لباس

  



یاد کا کیا ہے،جانے کب آ جائے، کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ آج بھی یہی ہوا کہ کالج کے زمانے کی ایک یاد آ گئی۔ 70 کا عشرہ تھا، تب کالجوں، یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین ہوتی تھی، جس کے زیر اہتمام ہر سال تقریری مقابلے، مذاکرے، مباحثے، مشاعرے ہوتے تھے۔ انفرادی انعامات کے علاوہ ٹرافیاں بھی دی جاتیں، طلبہ و طالبات بڑے جوش و خروش سے حصہ لیتے۔ ہر سال ان تقریبات کا پورا سیزن ہوتا تھا۔ تعلیمی اداروں میں گہماگہمی میلے جیسے ہوتی۔ مقررین اور شاعروں کی باقاعدہ ٹیمیں ہوتیں،جو ملک بھر کے کالجوں، یونیورسٹیوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے جاتیں۔ ان مقابلوں سے فن خطابت اور شعر و سخن کا ذوق و شوق پیدا ہوتا تھا۔ یہ سرگرمیاں اور طلبہ یونینیں مستقبل کے لیڈر اور سیاست دان پیدا کرنے کی نرسری کا کام کرتیں، پھر یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ طلبہ یونین پر پابندی کیا لگی کہ ہم نصابی سرگرمیاں ہی دم توڑ گئیں …… انہی دونوں ہمارے کالج میں قومی زبان اردو کی ترویج کے حوالے سے تقریری مقابلہ منعقد ہوا، تیس چالیس کالجوں کی ٹیمیں آئی ہوئی تھیں، زور دار دلائل کے ساتھ دھواں دھار تقاریر ہو رہی تھیں۔

قائد ایوان حسب ضابطہ میزبان کالج کا مقرر تھا۔ عام طور پر وہ ہر دوسرے تیسرے مقابلے کا انعام یافتہ ہوتا تھا…… اردو کے حق میں خطاب کرنا تھا تو وہ خاص طور پر تیار کردہ قومی لباس میں ملبوس سٹیج پر نمودار ہوا۔ اس کا استدلال تھا کہ کوئی قوم نہ تو اپنی قومی زبان اور قومی لباس کے بغیر اپنی شناخت بنا سکتی ہے، نہ ترقی کر سکتی ہے۔خوبصورت اشعار اور کاٹ دار جملوں سے مزین اس کی تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ ہمیں زندہ قوم کی طرح آگے بڑھنا ہے تو اس کی شرط اول یہ ہے کہ ہم اردو بولیں، اردو لکھیں اور اردو پڑھیں۔ انگلش میڈیم کالج کا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا، تصاویر کھینچی جا رہی تھیں، داد دی جا رہی تھی……جوش خطابت میں اس نے صدارت کی کرسی پر براجمان پرنسپل ڈاکٹر پروفیسر مقبول احمد سے مطالبہ کر دیا کہ وہ بھی آئندہ طلبہ سے اردو میں خطاب کریں اور دفتری امور میں بھی اردو زبان استعمال کریں۔ان کے تمام تحریری احکامات اور سرکاری خط و کتابت اردو میں ہونی چاہیے۔ یہی نہیں،بلکہ اس نے طلبہ و طالبات سے بھرے ہوئے ہال میں اس موضوع کی قرار داد پیش کر کے سینکڑوں، حاضرین سے ہاتھ اٹھوا کر تائید بھی حاصل کر لی۔

اچھی طرح یاد ہے کہ برطانیہ سے پی ایچ ڈی کرنے والے پرنسپل صاحب نے اس روز پہلی مرتبہ ٹوٹی پھوٹی، انگریزی ملی، اردو میں خطاب کیا اور جذبات میں آئے ہوئے نوجوانوں سے وعدہ بھی کر لیا کہ وہ آئندہ اردو کو اولیت دیں گے۔ اس ساری انقلابی صورت حال کا سہرا قائد ایوان تنویر احمد (عرف پڑی) کے سر گیا۔ اساتذہ اور طلبہ نے اس کی خطابت اور کاوش کو بہت سراہا۔ کالج کی روایت کے مطابق مقررین، خصوصاً انعام یافتگان کی بڑی بڑی تصاویر دو تین دن بعد کالج کے نوٹس بورڈ پر لگا دی گئیں تو ہم بھی دیکھنے پہنچے، خاصا رش تھا، تنویر احمد پڑی کی تصویر سب سے نمایاں اور باقیوں کے درمیان میں لگائی گئی تھی۔ اس تصویر میں تنویر نے اپنے مخصوص انداز میں ایک بازو سیدھا ہوا میں بلند کیا ہوا تھا۔ اس ہاتھ میں اس کا ”کی رنگ“ نظر آ رہا تھا،جس پر انگریزی حروف میں اس کا نام صاف پڑھا جا رہا تھا، جبکہ تصویر کے نیچے موٹا سا کیپشن بھی انگریزی حروف میں Pride of college (فخرِ کالج) لکھا ہوا تھا۔ دو دن قبل اس کی تحریک پر قومی زبان اپنانے کے حق میں ہاتھ کھڑے کرنے اور تالیاں بجانے والے آج اس کی تصویر دیکھ کر زیر لب مسکرا رہے تھے۔ تقریباً نصف صدی بعد ایک اور منظر ٹیلی ویژن کی سکرین پر نظر نواز ہوا۔ سوموار کو فیصل آباد کے صنعتی علاقے میں چین کی مدد سے ایک نئے صنعتی علاقے (زون) کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان مہمان خصوصی تھے۔

سب سے آخر میں (حسب روایت) انہوں نے خطاب کیا، شلوار کرتا اور پشاوری چپل پہنے ہوئے کپتان نے اپنا وژن (مقصد اول) کھل کر بیان کیا اور صنعت کے شعبے کی ترقی کو پہلی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ایک بار پھر تعریف کی اور کہا کہ وہ عوام کو بروقت دستیاب ہیں اور سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ وزیراعظم نے صوبائی وزیر صنعت اسلم اقبال کی کارکردگی کو بھی سراہا، نئے آئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیر کی بھی خوب پیٹھ تھپکی اور کہا کہ انہوں نے ایک ماہ میں بڑے بڑے جرائم پیشہ گروہوں اور مافیا پر ہاتھ ڈال دیا ہے اور انہیں جیل میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے نئے چیف سیکرٹری پنجاب اعظم سلمان سے بھی اسی توقع کا اظہار کیا کہ وہ صوبے میں حکمرانی (گورننس) کو بہتر بنائیں گے۔ بہت اہم بات جو انہوں نے کی،وہ اردو زبان کے حوالے سے تھی۔ بقول ان کے وہ ہر تقریر میں اس پر اظہار خیال کرنا چاہتے تھے، مگر بھول جاتے تھے، اس لئے آج آغاز ہی اس بات سے کر رہے ہیں کہ ہمیں ہر جگہ اظہار خیال اردو میں کرنا چاہئے، انگریزی میں نہیں۔ ان کا بجا طور پر کہنا تھا سرکاری تقریبات ہی نہیں، پارلیمینٹ کی کارروائی بھی انگریزی میں چلائی جاتی ہے، حالانکہ تقریبات کے شرکاء اور ارکان پارلیمینٹ کی اچھی خاصی تعداد انگریزی سے نابلد ہے، مگر ہم نے ماحول ایسا بنا دیا ہے کہ انگریزی نہ سمجھنے والے بھی یہی ظاہر کر رہے ہوتے ہیں،جیسے ان کو سمجھ آ رہی ہے۔

سیاسی و انتظامی معاملات اپنی جگہ مگر یہ حقیقت ہے،جب سے عمران خان سیاست میں آئے ہیں،انہوں نے عوامی اجتماعات میں اپنا لباس ہی پہنا ہے،پھر جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں،وہ غیر ملکی دوروں اور عالمی اداروں میں شرکت کے موقع پر بھی پاکستانی لباس شلوار قمیض ہی پہنتے ہیں۔ اپنی حلف برداری سے لے کر اب تک انہوں نے قومی لباس کو اہمیت اور وقعت دی۔ ایک ایسا شخص،جو آکسفورڈ میں پڑھا، جس کا لڑکپن اور جوانی گوروں میں گزری، جس نے گوری سے شادی کی اور جس کی ساری اولاد گوری سے ہے اور گوری کے ہی پاس ہے۔ انگریزی لباس جس پر پھبتا ہے اور انگریزی زبان جس کے منہ میں جچتی ہے۔ وہ انگریزی زبان اتنی ہی آسانی سے بولتا ہے، جتنی آسانی سے اردو یا پنجابی بولتا ہے۔ اب وہ سیاست اور دنیاوی مراتب کے جس مقام پر پہنچ گیا ہے،اس سے زیادہ کوئی کیا کامیابی سمیٹے گا؟اس لئے اس کو کوئی کمپلیکس بھی نہیں؟ قومی سوچ رکھنے والے یقیناً قومی زبان کی ترویج کی عمرانی کوشش کا خیر مقدم کریں گے۔ بات تو وزیراعظم نے بہت اچھی کی، وہ خود بھی ملک میں عموماً اردو ہی بولتے ہیں، تاہم بہتری کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے۔ اگر وہ خود بھی اپنی اردو بہتر کر لیں اور انگریزی الفاظ کی جگہ اردو تقریر میں اردو کے ہی متبادل الفاظ استعمال کریں تو ان کی بات کا وزن مزید بڑھ جائے گا۔

انہوں نے متذکرہ خطاب میں لفظ اوکیژن(Occasion) استعمال کیا، اس کی جگہ موقع بولا جا سکتا تھا۔ انہوں نے گورننس کہا تو متبادل حکمرانی موجود ہے۔ وژن کا متبادل مقصد اولین ہے، پرایئرٹی (Priorty) کی جگہ ترجیح بہت خوبصورت لفظ ہے۔ روڈ میپ کی بجائے لائحہ عمل کہا جا سکتا ہے۔ کمپوننٹ (Component) کی جگہ جزو کہا جا سکتا ہے۔ رول آف لاء کی جگہ قانون کی حکمرانی کہہ دیتے تو کیا بات تھی۔ امپورٹنٹ کی جگہ اہم بہت ہی عام ہے۔ فنکشن تو ہمارے ہاں تقریب ہوتی ہے۔ نیشنل اسمبلی کو قومی اسمبلی عموماً بولا جاتا ہے۔ اب اگر اردو کی ترویج کے لئے کی جانے والی تقریر میں حکمران وزیر اعظم خود بیسیوں الفاظ انگریزی کے استعمال کریں، جن کا متبادل بھی اردو الفاظ میں آسانی سے دستیاب ہو تو ایسی تقریر کا اثر کم اور باتوں پر عمل کی توقع کم تر رہ جائے گی…… اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تازہ خطاب سن کر نصف صدی پرانا قصہ کیوں یاد آ گیا۔اس وقت جو نوجوان اپنے ساتھی کی تقریر کی بھرپور داد دینے کے بعد تصویر میں انگریزی الفاظ دیکھ کر زیر لب مسکرائے تھے، وہ اب یہ تقریر سن کر بھی مسکراتے پائے گئے ہوں گے۔ شاید مَیں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

مزید : رائے /کالم