ہم بالکل نہیں گھبرائیں گے!

ہم بالکل نہیں گھبرائیں گے!
ہم بالکل نہیں گھبرائیں گے!

  



بہت ہو گیا، اب بس کریں، ہم بالکل نہیں گھبراتے اور یوں بھی گھبرائے تو کر کیا لیں گے؟ اپنا ہی لہو جلائیں گے۔ بہت ہو گئی، بہت کچھ کہہ لیا، اب اگر آٹا اور چینی قابو میں نہیں تو اس میں آپ کا کیا قصور، یہ تو ایک ہاتھ دے اور دوسرے ہاتھ لے والا قصہ ہے، اگر سرمایہ کاری ہو گی تو اصل زر کے ساتھ منافع کی واپسی بھی لازم ہے، اس لئے گھبرائیے نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا کہ آٹے اور چینی سے لے کر دوسری اشیاء کے نرخ بڑھ کر ٹھہر جائیں گے تو سب کچھ کھلے بازار میں دستیاب ہو گا، ہمارا بجٹ مزید متاثر ہوتا ہے تو ہوتا رہے، کسی کو کیا ہم توجوتے کھا کھا کر ڈھیٹ ہو گئے اب تو جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، تھوڑے لکھے کو ہی سب کچھ جانیں اور سوچ لیں کہ ہمارے سردار عثمان بزدار کا کلا مضبوط ہے اور رہے گا، اللہ اللہ خیر صلا!

بہتر ہے کہ ذرا سیاست کے بارے میں ہی غور کرلیں، ایک میں چار والے بل کی منظوری کے بعد جب راوی نے چین ہی چین دیکھنا اور لکھنا شروع کر دیا ہے تو پھر غم کا ہے کا اور یوں بھی دیکھیں کہ کس سہولت کے ساتھ الیکشن کمیشن کے بلوچستان اور سندھ کے اراکین کے ساتھ ہی چیئرمین پر بھی اتفاق رائے ہو گیا، کیا فکر اور پریشانی کہ جو تین نام وزیراعظم نے دیئے انہی میں سے ایک نام قبول کر لیا گیا، البتہ یہ خوش آئند ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے پارلیمانی اور آئینی ذمہ داری پوری کی گئی اور ان کے دستخطوں سے چٹھی لکھ دی گئی جس کے ذریعے قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کو تین نام بھیج دیئے گئے تھے اب اگر فواد چودھری جیسے نوجوان یہ کہیں کہ یہ خوش آئند ہے تو پھر سب اچھا ہی کہنا چاہیے اب عوام کا کیا وہ تو بے چارے کونے میں لگ کر دہی کے ساتھ روٹی کھاتے رہیں گے، اب کم از کم پارلیمنٹ میں قانون سازی کا عمل تو شروع ہو گا، بہرحال آج ذرا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا حال ملاحظہ کر لیں اور پھر مولانا فضل الرحمن کی حالت کا اندازہ لگائیں جو پیچ و تاب کھا رہے اور انہوں نے آصف علی زرداری کی عیادت بھی کی تو اس لئے کہ کچھ تو شرمندگی ہو، بہرحال منتظر رہئے کہ اب کیا ہو گا۔

یہ سب اپنی جگہ، صورت حال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں اپنی اپنی جگہ ”بھگت“ رہے ہیں، آصف علی زرداری لاکھ کوشش کریں، استغاثہ بھی تگڑا ہے، اب یہ ہی دیکھ لیں کہ انہی کے ایک ساتھ مدعا علیہ کو گواہ بنا لیا گیا وہ بھی وعدہ معاف نہیں سرکاری گواہ یہ بھی شائد اسی لئے کہ وعدہ معاف گواہ کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے بعض ریمارکس سامنے آ گئے ہیں، اب یہ الگ بات ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی نیب کے پراسیکوشن والے حضرات اپنی طرف سے کیس بناتے ہیں لیکن عدالتی سطح پر اس کی مضبوطی کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے، اب تک تو عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ سے اچھے ریمارکس نہیں مل سکے۔ اس کے باوجود رسہ کسنے کی کوشش جاری اور اب لوگ برملا کہنے لگے ہیں کہ یہی سب مفاہمت کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ اس وقت پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) والوں کی جو حالت ہے وہ پتلی نظر آنے لگی ہے، پیپلزپارٹی اگرچہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ سندھ میں اس کی حالت بہتر ہے اور وہ صوبے میں حکمران بھی ہے،

لیکن حالت یہ ہے کہ اس صوبے میں اب پولیس خود مختار ہے اور حکومت اے ڈی خواجہ کے بعد اب کلیم امام سے بھی پیچھا نہیں چھڑا پا رہی کہ 2002ء کا پولیس آرڈر راہ میں مزاحم ہے اور عدالت سے بھی مثبت فیصلہ نہیں ملتا، ویسے قابل غور بات ہے کہ یہ کیسا پولیس آرڈر ہے کہ منتخب وزیراعلیٰ کے پاس کسی پولیس آفیسر کے خلاف کارروائی کا کوئی اختیار ہی نہیں اور عدالت کے مطابق پولیس آرڈر کہتا ہے کہ آئی جی کی تعیناتی تین سال کے لئے ہوتی ہے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی بے بسی ظاہر ہے کہ پولیس افسران کی کابینہ والوں کے خلاف کھلی رپورٹیں بنا کر تشہیر بھی کر رہے ہیں اور وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتے، ہمیں تو سعید غنی پر بہت ترس آیا۔ ہماری اطلاع کے مطابق وہ بہت بہتر ہیں، اور اپنا کام بھی فرض جان کر کرتے ہیں، مگر وہ بھی مجبور اور بے بس ہیں، اپنے صاحبزادے کے حوالے سے کہتے ہیں، عدالتی تحقیقات کرالیں اگر الزام ثابت ہو گیا تو میں سیاست چھوڑ دوں گا، انہی حالات میں بلاول بھٹو کہتے ہیں، سندھ کا حق نہیں چھیننے دیں گے، پنجاب میں اشارے سے آئی جی تبدیل ہو جاتے ہیں تو سندھ میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح اگر مسلم لیگ ن کو دیکھ لیں تو ابھی تک یہی طے نہیں ہو سکا کہ اب قائد جماعت کا بیانیہ چلے گا یا مرکزی صدر جو کہتے تھے اور کہتے ہیں، وہی ہو گا کہ تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ بڑے بھائی کو بچا کرلے گئے ہیں، لیکن ہم تو ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ بیماری پر سیاست نہیں وہ واقعی بیمار ہیں، تاہم ابہام تو یہ ہے کہ ابھی تک ان کے مرض کی تشخیص نہیں ہو پا رہی اور اب یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے دل کا نازک آپریشن ہوگا، اس کے لئے بھی وہ ابھی تک ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے، اب تو گھر پر ہی ہوتے ہیں، ٹیسٹوں کے لئے بھی نہیں جا رہے، بہرحال مان لیجئے کہ محمد شہبازشریف فروری میں واپس آ جائیں گے کہ انہی کا بیانیہ جیت گیا ہے۔

ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے ساتھ قومی اتفاق رائے کی حمایت کی اور آج سرحدوں کے پار اور اندر جو حالات ہیں، ان کا تقاضا اور بھی شدید ہو گیا ہے،

اس کے باوجود بھی کپتان ہیں کہ مانتے نہیں، حالانکہ ان کے مشیر سیاست اور دیرینہ ساتھی نعیم الحق نے بہت واضح طور پر کہا کہ عمران خان حزب اختلاف کے ساتھ ملنے اور مذاکرات کے لئے تیار ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ یہ شرط بھی عائد کرتے ہیں کہ حزب اختلاف کو آگے بڑھنا ہو گا، چلیں آپ کے منہ میں گھی، شکر اگر یہ ہو جائے تو ”جمہوریت“ کے لئے بہتر ہی ہو گا لیکن جو خطاب ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں وزیراعظم نے کیا اس میں تو الٹ اشارہ ملتا ہے۔

قارئین! معذرت خواہ کہ خیالات بھٹک بھٹک جا رہے ہیں اور یہ سب اسی لئے کہ بھوکے کے لئے دو اور دوچار روٹیاں ہوتا ہے، آج جو طوفان بازار میں آیا اور جس طرح اشیاء خوردنی اور ضرورت کے نرخ بڑھا کر لوٹ مار مچی ہے، وہ خودکشیوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کافی ہے، ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے اور راوی چین لکھ رہا ہے۔ موسم کی خرابی نے دنیا بھر کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی نافرمانی سے باز آ جاؤ، ورنہ اگر قوم ثمود و عاد پر ابتلا آ سکتی ہے تو تم بھی انسان ہی ہو۔

مزید : رائے /کالم