پاکستان میں اس وقت 2کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، عامر گمریانی

پاکستان میں اس وقت 2کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، عامر گمریانی

  



پبی (نمائندہ پاکستان)پاکستان کا شمار بدقسمتی سے دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کروڑوں بچے سکول سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پرائیویٹ سکولوں میں بچوں سے ابھی سے پیسے لئے جا رہے ہیں جس سے امتحانات میٹرک امتحان میں نقل کے زریعے پوزیشن حا صل کرنے کیلئے کو شان ان خیا لات کا اظہار سباوون ایجوکیشن اکیڈمی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور ممتاز شاعر و ادیب عامر گمریانی نے تعلیم کا عالمی دن منا نے کے موقع پر پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس کے تعاون سے پبی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہآج پاکستان سمیت پوری دنیا میں تعلیم کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اور پاکستان میں اس وقت پانچ سے سولہ سال عمر کے دو کروڑ چھبیس لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ جس میں ایک کروڑ تیس لاکھ لڑکیاں ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ دنیا بھر میں سکول سے باہر بچوں میں سے ہر دسواں بچہ پاکستانی ہے۔ نہ صرف یہ کہ بچوں کی کثیر تعداد کبھی سکول کا منہ ہی دیکھ نہیں پاتی بلکہ سکول میں داخل ہونے والے بچوں کی ایک کثیر تعداد دسویں جماعت تک پہنچنے سے قبل ہی سکول سے نکل جاتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ صرف ستاون فیصد بچے ہی پرائمری سکول میں داخل ہو پاتے ہیں گویا تریالیس فیصد بچے اولین مرحلے میں تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سکول میں داخل ہو پانے والے بچوں کی قسمت جلد ہی ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور ستاون فیصد بچوں میں سے پینتیس فیصد بچے مڈل اور تریالیس فیصد بچے ہائی سکول پہنچنے سے قبل ہی تعلم کی دوڑ سے نکل جاتے ہیں گویا ہائی سکول تک تعلیم تمام بچوں کا صرف چودہ فیصد بچے ہی حاصل کر پاتے ہیں۔ پاکستان میں انچاس فیصد خواتین نے زندگی بھر کوئی سکول اندر سے نہیں دیکھا۔ دنیا میں سکول سے باہر لڑکیوں کے حوالے سے پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستانی دیہات میں سڑسٹھ فیصد خواتین کو کبھی کوئی کلاس روم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوتا۔ سکول میں داخل ہونے والی لڑکیوں میں صرف اٹھاون فیصد پرائمری تعلیم مکمل کر پاتی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو پانچ سے پندرہ سال کی عمر کی لڑکیوں میں صرف تیس فیصد لڑکیاں ہی پانچویں جماعت پاس ہیں جبکہ سو میں سے صرف اکیس بچیاں مڈل اور چودہ بچیاں دسویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہیں اس بھیانک صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم حکومت سے انقلابی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ پختونخوا میں سکولوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ حکومت کو صحیح معنوں میں آرٹیکل 25 کا اطلاق کرنا چاہئے اور کم سے کم بارہ جماعتوں تک مفت تعلیم فراہم کرنی چاہئے۔ تعلیمی بجٹ کو نہ صرف بڑھانا چاہئے بلکہ اس کا موثر استعمال بھی یقینی بنائے انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیم کی فراہمی بھی حکومت کی زمہ داری ہے۔ بورڈز کے امتحانات کے لئے پرائیویٹ سکولوں میں بچوں سے ابھی سے پیسے لئے جا رہے ہیں جو امتحا نات میں غلط طریقے سے پاس کر نے اور پوزیشن حا صل کر نے کے لئے یہ غلط طر یقہ اختیار کیا ہے انہوں وزیر تعلیم سے گزارش کی کہ وہ امتحانات کو ہر طرح کی بدعنوانیوں سے پاک کرے تاکہ ہمارے بچے دھوکے اور فریب سے کامیابی حاصل کرنے سے بچیں کیونکہ یہی بچے بڑے ہوکر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے۔یہ نئے وزیر اتعلیم کے لئے بڑا چیلنج بھی ہے

مزید : پشاورصفحہ آخر