امریکہ کی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی

امریکہ کی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی

  



کراچی (اکنامک رپورٹر)امریکی محکمہ تجارت کے کمرشل چیف ناتھن سیفرٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کے تیسرے دورہ امریکا کے موقع پردوطرفہ تجارت تعلقات پر دوبار غور کیا گیا جو دونوں رہنماؤں کے لیے انتہائی اہم ہے۔دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو دیکھ کو بہت مسرت ہوئی جنہوں نے انتہائی خوشگوار ماحول میں باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے کام کیا جاسکتا ہے جو دونوں ملکوں کے کاروباری افراد کے لیے بہت اہم ہے لہٰذا امریکا کے کاروباری افراد پاکستان میں پیدا ہونے والے مواقعوں کو دیکھ رہے ہیں۔امریکا تجارتی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہاہے اور ہم تجارت کو بڑھانے کے لیے اچھی پیش رفت کررہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ نڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پربی ایم جی کے سیکریٹری جنرل اے کیو خلیل، قائمقام صدر ارشد اسلام، نائب صدر شاہد اسماعیل، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز و ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی شمعون ذکی، سابق صدر کے سی سی آئی ہارون اگر، کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے سینئر کمرشل اسسٹنٹ تاشفین مہدی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔امریکی کمرشل چیف نے کے سی سی آئی کے دورے کے مقصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ مقصد امریکااور پاکستان کے مابین تجارت کو بڑھانا ہے۔ہم پاکستان میں کاروبار کو آسان بنانے اور یہاں سازگار ماحول کو دیکھ کر بہت خوش ہیں جو یقینی طور پر امریکا سے لوگوں کو یہاں آنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے اور پاکستان میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ تجارت ایک ایسی چیز ہے جسے ہم کرنا چاہتے ہیں اوراس سلسلے میں ہم کام کررہے ہیں لیکن اس دوران ہمیں کئی چینلجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سے نمٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں کاروبار کو آسان بنانے میں بہت بہتری آئی ہے لیکن اس بھی زیادہ کام کیا جاسکتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایسا ممکن ہے۔کمرشل چیف ناتھن سیفرٹ نے کہاکہ پاکستان امریکا کو اعلیٰ معیار کی مصنوعات برآمد کررہاہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ہم پاکستانی مصنوعات کی امریکا کے لیے برآمدات میں بھی سہولت فراہم کررہے ہیں لیکن ہمارے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں قائم دفاتر کی ذیادہ توجہ امریکی کمپنیوں کو یہاں لانا ہے اور انہیں صحیح شراکت دار تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے جو تقسیم کار شراکت دار یا مشترکہ شراکت دار ہوسکتے ہیں۔ہم امریکی تجارتی میلوں اور بعض علاقائی تجارتی پروگرامز میں پاکستانی وفود کو بھی مدعو کرتے ہیں جو ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ہم امریکا میں مختلف تجارتی میلوں میں شرکت کے لیے ہر سال تقریباً10وفود یہاں سے مدعو کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان سے ایک وفد اس ماہ کے آخر میں اٹلانٹا میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی پولٹری اور پروسیسنگ نمائش میں شرکت کرے گا۔انہوں نے کہاکہ ورلڈ آف کنکریٹ 2020 ایونٹ میں شرکت کے لیے پاکستان کے ایک اور وفد کی شرکت کے حوالے سے درخواستوں کا جائزہ لیا جارہاہے جو فروری2020کے آغاز پر لاس ویگاس میں شروع ہوگی۔ محکمہ تجارت کے ذریعے ان تقریبات میں پاکستانی وفد کا تعارف کروایا جائے گا اور ہم بی ٹو بی میٹنگز کے لیے بھی جگہ مہیا کریں گے۔مزید برآں کاروبار کو بڑھانے میں دلچسپی رکھنے والی پاکستان کی بڑی کمپنیوں کو بھی جون 2020میں منعقد ہونے والی سلیکٹ یوایس اے میں شرکت کے لیے امریکا مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ امریکا میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اپنا آفس قائم کرنے یا فیکٹری لگانے کے حوالے سے آگاہی حاصل کرسکیں۔کمرشل چیف بذات خود واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے سلیکٹ یو ایس اے میں پاکستانی وفد ان کی سربراہی کریں گے۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے قائمقام صدر ارشد اسلام نے کمرشل چیف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ امریکا پاکستان کا ایک بڑا برآمدی شراکت دار ہے اور امریکا سے درآمدات میں بھی اضافہ ہورہاہے۔مالی سال 2017کی 3.76ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں مالی سال2018میں پاکستان کی برآمدات 3.89ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو کہ 3.5فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے جبکہ2018 میں امریکا سے درآمدات 2.85فیصد رہیں جو کہ 2017میں 2.81ارب ڈالر تھیں۔اس طرح درآمدات میں 1.43فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہاکہ کے سی سی آئی امریکا کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے اور تجارت کی نئی راہیں تلاش کرنے کے امکانات کے حوالے سے متحرک رہاہے۔اس ضمن میں کے سی سی آئی کئی بار تجارتی وفود امریکا لے کر گیا۔ پہلا وفد اگست2007میں پھر مئی2012میں اورمئی2016میں امریکہ گیا تھا۔ ان دوروں کے دوران کے سی سی آئی کے رہنماؤں نے یہ مؤقف برقرار رکھا گیا کہ ہم امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں حائل رکاوٹوں کو کم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ کے سی سی آئی نے پاک امریکا تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر زور دیا جبکہ امداد کو تجارتی ترقی میں تبدیل کرنے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور سرمایہ کاری میں اضافے میں توجہ دینے پر بھی زور دیا۔ کے سی سی آئی کا یقین ہے کہ صرف تجارت و اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے کر ہی پاکستان اور امریکا باہمی تعلقات کو مستحکم بناکر لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

مزید : کامرس