وفاقی محتسب کا سرکاری اداروں کو پنشن کیس ایک ماہ میں مکمل کرنیکا حکم

  وفاقی محتسب کا سرکاری اداروں کو پنشن کیس ایک ماہ میں مکمل کرنیکا حکم

  



اسلام آباد(این این آئی)وفاقی محتسب طاہر شہباز نے کہاہے وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن کیس ایک ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاانکاکہنا تھ وفاقی محتسب نے 2019 میں 74689 شکایات کے فیصلے کیے، تا ر یخ میں ابتک کسی ایک سال میں یہ سب سے زیادہ فیصلے ہیں،شکایت کنندگان کی سہولت کیلئے سکائپ اور موبائل پر شکایت وصولی کا سلسلہ شروع کیا گیا، جیلوں کی اصلاح کیلئے سپریم کورٹ کو عملدرآمد کی چار رپورٹس پیش کی گئیں، 2019 میں 73059 شکایات درج ہوئیں، 2018 کے مقابلے میں شکایات 7.69 فیصد زیادہ ہیں، فیصلوں پر نظرثانی اور صدر مملکت کو اپیلوں کی شرح ایک فیصد رہی۔ سب سے زیادہ بجلی سپلائی کرنیوالی کمپنیوں کیخلاف 32421شکایات درج ہوئیں۔ جن میں سے 32277کے فیصلے کیے گئے، سوئی گیس کیخلاف 8598 شکایات موصول ہوئیں، نادرا کیخلاف3948, پاکستان پوسٹ آفس 3321 اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کیخلاف 1263شکایات مو صو ل ہوئیں۔ پاکستان بیت المال کیخلاف 1093، ریلوے 965 اور آئی بی کیخلاف 892 شکایات موصول ہوئیں، بینظیر انکم سپورٹ پرو گر ام کیخلاف 627 اور ای او بی آئی کیخلاف 705 شکایات موصول ہوئیں، 2019 میں وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عملدرآمد کی شرح 87.2 فیصد رہی، اکثر شکایات پر فریقین کی رضا مندی سے عملدرآمد ہوگیا۔وفاقی محتسب نے 23281 شکایات پر وفاقی اداروں کو سفار شا ت اور ہدایات جاری کیں، جن میں سے 20658 پر عملدرآمد ہوچکا ہے جبکہ 1092 فیصلوں پر عملدرآمد ہونا باقی ہے، 420 شکایات پر عملدرآمد کی مدت گزر چکی ہے جس ہر کاروائی جاری ہے۔طاہر شہباز نے کہا دو ہزار انیس میں آگاہی کیلئے ایوان صدر اور گورنر ہاؤسز میں سیمینار منعقد کیے گئے، وفاقی محتسب نے او سی آر کے نام سے پائلٹ پروگرام شروع کیا۔ وفاقی محتسب کی کاوشوں سے جیلوں میں کافی بہتر ی آئی ہے، قیدیوں کو علاج اور مفت تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ذہنی مریض قیدیوں کو عام قیدیوں سے الگ رکھنے کی ہدایت کی گئی، تعلیمی اداروں میں جاکر ہمارے آفیسرز نے لیکچرز دئیے، ہم نے ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر ون ونڈو ڈیسک قائم کیے، جہاں بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلق چودہ اداروں کے ذمہ داران چوبیس گھنٹے شاکایات کا ازالہ کرتے ہیں۔

وفاقی محتسب

مزید : صفحہ آخر