محکمہ صحت کی تقسیم اور لمبے لمبے نام فضول خرچی قرار

محکمہ صحت کی تقسیم اور لمبے لمبے نام فضول خرچی قرار

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے محکمہ صحت کی تقسیم اور لمبے لمبے نام رکھنے کو فضول خرچی قراردے دیا،فاضل جج نے ہسپتالوں کے فضلہ کے کیس میں اس حوالے سے ریمارکس دیئے کہ یہ پرائمری،سیکنڈری،سپیشلائیزڈ ہیلتھ کیا نام ہیں؟ محکمہ صحت نے کئی ادارے بناکرلمبے لمبے نام کیوں رکھے ہیں،اتنے لمبے نام رکھنے کا مقصد کیا ہے،اتنے لمبے نام لکھنے سے سٹیشنری اوروقت ضائع ہوتا ہے،ایک تو محکموں کو تقسیم کر دیا اور پھر لمبے لمبے نام رکھ دیئے، محکموں کے چھوٹے نام رکھیں، میرے جیسے ناخواندہ شخص کو کیا سمجھ آئے گی؟ اتنے لمبے نام رکھنے سے زیادہ سٹیشنری استعمال ہوتی ہے، محکموں کے چھوٹے نام رکھنے سے وقت بچتا ہے، اتنے لمبے ناموں کو دوبارہ سے لکھنے اور بولنے میں مشکل ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ انگریز کے دور میں ریلوے بڑا محکمہ تھا،ریلوے کی تمام گاڑیوں کی بوگیوں پر نام واضح لکھے جاتے، انگریز نے برصغیر میں ریلوے کے بل بوتے پر راج کیا، جب ریلوے کا خرچہ بڑھ گیا تو برطانیہ سے خصوصی ٹیم بلوائی گئی کہ اخرجات کم کئے جائیں، اس ٹیم نے ریلوے کی بوگیوں اور انجنوں پر نارتھ ویسٹ ریلوے کے مکمل لفظ کو کم کر کے صرف نارتھ ویسٹ لکھ دیا، انگریز نے ریلوے کے انجنوں سے ریلوے کا لفظ ختم کروایا کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ یہ انجن ریلوے کے ہی ہیں، نام چھوٹا کرنے سے سیاہی، لیبر، وقت بچا اور اخراجات بھی کم آئے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ سے کہا کہ اپنے بڑوں کو سمجھائیں کہ اتنے لمبے نام نہ رکھیں،کنونشنل ویزڈم بہت جگہ کام کرجاتی ہے آپ بھی اپنے بڑوں کو بتادیں۔

فضول خرچی قرار

مزید : صفحہ آخر