نو مسلم سکھ لڑکی کا تحفظ، عمرکاتعین کیس، ڈائریکٹر ایف آئی اے،ڈی پی او ننکانہ آج طلب

نو مسلم سکھ لڑکی کا تحفظ، عمرکاتعین کیس، ڈائریکٹر ایف آئی اے،ڈی پی او ننکانہ ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے نو مسلم سکھ لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے اور اس کے عمرکے تعین کیلئے دائردرخواستوں پرڈائریکٹر ایف آئی اے اورڈی پی او ننکانہ صاحب کو آج 24جنوری کو طلب کر لیا۔فاضل جج نے لڑکی کے بھائی منموہن سنگھ کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ یہ بات ذہن میں رکھیں عدالت کی نظر میں سب برابر ہیں، یہ ملک جتنا ہماراہے اتنا ہی آپ کا ہے،اس ملک کی اقلیتیں بھی اسے اتنا ہی عزیز رکھتی ہیں جتنا عزیز ہم رکھتے ہیں،ننکانہ صاحب کی جگجیت کور نامی لڑکی نے اسلام قبول کرکے اپنا نام عائشہ رکھا اور حسان سے شادی کرلی،یہ معاملہ عدالت میں ہے،عدالت نے لڑکی کو دارالامان بھجوا رکھاہے۔عائشہ نے اپنے اور اپنے شوہر کے تحفظ کے لئے جبکہ اس کے بھائی منموہن سنگھ نے اس کی عمر کے تعین کے لئے عدالت سے رجوع کررکھاہے۔گزشتہ روز نومسلم لڑکی کو دارلامان سے لاکر عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے پوچھا کیا لڑکی کی والدہ آئی ہیں، لڑکی کے ایک عزیز نے عدالت کوبتایا کہ متعلقہ لوگوں نے ننکانہ صاحب میں ہمیں لڑکی سے ملاقات نہیں کرنے دی،ننکانہ صاحب گوردواہ میں انتشار پھیلا تو ہم باہر نہ نکل سکے، عدالت نے لڑکی سے پوچھا کہ آپ اپنی والدہ سے نہیں ملیں؟ کیا آپ اپنی والدہ، والدہ، بھائیوں سے ملنا چاہتی ہیں؟ لڑکی نے کہامیں کسی سے نہیں ملنا چاہتی، میں اپنی مرضی سے اپنے سسرال جانا چاہتی ہوں، جس پرفاضل جج نے درخواست گزار سے کہا کہ بتائیں جی سردار صاحب اب کیا کیا جائے؟ منموہن سنگھ نے کہا کہ ہم اقلیت ہیں ہمیں پھر یہاں سے کہیں اور منتقل کر دیا جائے، لڑکا حسان دھمکی آمیز میسجز بھیج رہا ہے، بہن جگیجت کور کا موبائل حسان کے پاس ہے اور ہمیں بلیک میل کیا جا رہا ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا آپ ایف آئی اے میں درخواست دیں،ایسے اقدام پرسائبر کرائم کا مقدمہ بنتا ہے، منموہن سنگھ نے کہا ہمیں کیا پتہ سائبر کرائم کا کیس بنتا ہے یا نہیں، ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے، جس پرفاضل جج نے کہا سب پاکستان کے شہری ہیں، یہ بات ذہن میں رکھیں عدالت کی نظر میں سب برابر ہیں، یہ ملک جتنا ہماراہے اتنا ہی آپ کا ہے،اس ملک کی اقلیتیں بھی اسے اتنا ہی عزیز رکھتی ہیں جتنا عزیز ہم رکھتے ہیں،عدالت نے لڑکی کے شوہر حسان کو روسٹرم کے سامنے بلا لیا،جس نے کہا کہ سر میں نے کوئی تصویر نہیں بھیجی،اگر بھیجی ہو تو میں مجرم ہوں، منموہن سنگھ نے تصویر کا سکرین شاٹ عدالت میں پیش کیا اور حسان کا موبائل نمبر بھی بتایا،حسان نے اپنے موبائل نمبر کی تصدیق کی تاہم کہا کہ یہ تصویر معاملہ حساس ہونے سے پہلے بھجوائی گئی تھی،عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ان کااگست 2019ء میں نکاح ہوا اور 26 نومبر کو حسان نے عائشہ کے گھر والوں کو تصویر بھجوائی، فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ عائشہ بی بی کے شوہر حسان کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ بنتا ہے، فاضل جج نے ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈی پی او ننکانہ صاحب کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔

نومسلم لڑکی

مزید : صفحہ آخر