پانی آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے ایل ڈی اے سے رپورٹ طلب

  پانی آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے ایل ڈی اے سے رپورٹ طلب

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے پانی کو آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے دائردرخواست پرواٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کے حوالے سے ایل ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے محکمہ ماحولیات کو لاہور کی نہر کی پانی میں مٹی چیک کرکے اس بابت رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے لاہور میں چار کول پاور پلانٹس کی تنصیب روکنے کا بروقت حکم دے دیاتھا،ورنہ چار پاور پلانٹ لگ جاتے تو لاہور میں ہر شخص آکسیجن ساتھ اٹھائے پھرتا، فاضل جج نے یہ ریمارکس بھی دیئے کہ ایل ڈی اے کا بس چلے تولاہور کو امرتسر تک لے جائے،ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں بی آر بی نہر کے پانی کی صفائی کے لئے راوی سائفن پر لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے نام سے پراجیکٹ کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے، ایشیئن ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے یہ پراجیکٹ لگایا جارہا ہے، بینک نے آسان قرضہ دیا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا کہ آپ جہاں یہ پلانٹ لگارہے ہیں وہ علاقے تو کسی دور میں لاہور کا حصہ نہیں تھے، اس پر ایل ڈی اے کے وکیل نے کہا اب تو لاہور کافی پھیل چکا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ لوگوں کا بس چلے تو لاہور کو امرتسر تک لے جائیں،عدالت میں ایل ڈی اے کی طرف سے رپورٹ پیش کی گئی کہ لبرٹی مارکیٹ میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اربن فارسٹ لگایا جا رہا ہے، اس پراجیکٹ میں 40 مختلف اقسام کے درخت لگائے جائیں گے،لاہور کے ماسٹر پلان میں تبدیلی کرکے اقدامات کیے جارہے ہیں، عدالت نے کیس کی سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی۔

رپورٹ طلب

مزید : صفحہ آخر