مقبوضہ کشمیر میں حالات بگڑے تو خطے کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے: شاہ محمود

  مقبوضہ کشمیر میں حالات بگڑے تو خطے کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے: شاہ ...

  



اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اگر کشمیر میں حالات بگڑتے ہیں تو خطے کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اپنے بیان میں کہاکہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ہم اپنا نکتہ نظر دنیا کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر کشمیر میں حالات بگڑتے ہیں یا جنوبی ایشیا میں کوئی چپقلش جنم لیتی ہے تو خطے کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان سارے مسائل کو اجاگر کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے دورہ پاکستان پر آمادگی کا اظہار کیا ہے وہ جلد پاکستان جانے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور امریکی صدرپاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔علاوہ ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئیشاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور ان کیساتھ دوٹوک بات کی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور دنیا کے ہر فورم پر کشمیر مسئلے پر آواز اٹھائی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی واضح پالیسی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حق میں دیانتداری، سیاسی، اخلاقی اور سفارتی طور پر آواز بلند کرتے رہیں گے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھا رہی ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنے کیلئے خصوصی مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 25 جنوری سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر اجاگر کریں گے۔ 27 جنوری کو اسلام آباد میں ایک کلچرل شو منعقد کیا جائے گا جس کا کشمیر پر فوکس ہوگا۔اس کے علاوہ 28 جنوری کو پورے پاکستان میں کشمیری مجاہدین اور قربانیاں دینے والوں کی تصاویری نمائش منعقد ہونگی۔ 30 جنوری کو اسلام آباد میں کشمیر کے حوالے سے سیمینار منعقد کرایا جائے گا۔ 31 جنوری کو کشمیر کمیٹی کے سربراہ پریس کانفرنس کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ تین فروری کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں نوجوانوں کی تقریب ہوگی جس میں کشمیر کے حوالے سے زمینی حقائق سامنے رکھے جائینگے جبکہ کشمیر کے رفیوجی کیمپ میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔چار فروری کو کشمیر ڈے کے حوالے سے ایوان صدر میں تقریب ہوگی جس میں پوری ڈپلومیٹک کور کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اس تقریب میں سفیروں کو کشمیر کے حوالے سے ڈاکیومینٹری دکھائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مظفر آباد کشمیر اسمبلی اور میرپور میں عوامی جلسے سے خطاب بھی کرینگے۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں کشمیر کے حوالے سے ریلیاں نکالی جائیں گی۔ آزاد جموں وکشمیرم یں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام سفیر کشمیر کے حوالے سے تقاریب منعقد کریں گے۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ نے تمام پاکستانی سفیروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔سوال وجواب کے سیشن میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کے بہت سے مفادات ہیں، امریکا خطے میں اپنے مفادات کو دیکھتا ہے۔ خطے میں کچھ قوتیں ابھر رہی ہیں جو امریکا کو چبھتی ہیں۔ امریکا نے اگر مدد نہیں کی تو رکاوٹ بھی نہیں ڈال رہا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کا مقدمہ موثر طریقے سے لڑ رہا ہے۔ جب یہ مسئلہ عروج پر تھا تو ہم سے غفلت ہوئی، کیمرے کی آنکھ دھرنے کی طرف موڑ دی گئی۔ ہم نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر پہنچا دیا تھا تو پاکستان کے اندر ہمارا بیانیہ دھرنے کی وجہ سے دھندلا سا گیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے بالاخر سچ کی فتح ہوگی۔ بھارت میں متنازع قانون کے خلاف 11 ریاستیں سراپا احتجاج ہیں۔ بھارت کے طالبعلم، دانشور اور شوبز سٹار بھی بھارتی مظالم پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی طاقتیں مصلحتوں کا شکار ہیں لیکن پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ پاکستان کشمیریوں کو مایوس نہیں کرے گا۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول