اسلامی فلاحی ریاست اور مثالی حکمران کیسے ہوتے ہیں؟

اسلامی فلاحی ریاست اور مثالی حکمران کیسے ہوتے ہیں؟

  



 رانا شفیق پسروری

قبیلہ مخروم کی ایک عورت چوری میں پکڑی گئی۔وہ ایک معزز گھرانے کی خاتون تھی۔ سردارانِ قریش نے سفارش کے لئے حضرت اسامہؓ کو بارگاہ رسالتؐ میں بھیجا،جنہیں آپؐ بہت عزیز رکھتے تھے۔آپؐ نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور انہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”تم سے پہلی قومیں اس لئے ہلاک کی گئیں کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تھا، تو اسے چھوڑ دیتے تھے لیکن جب کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی،تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ مصر کے باشندے نے عمر وبن عاصؓ کے بیٹے کے ساتھ دوڑنے میں بازی لگائی اور آدمی عمروبن عاص ؓ کے بیٹے سے آگے نکل گیا۔عمروبن عاصؓ کا بیٹا برہم ہوگیا اور اس آدمی پر تازیانے برسانے لگا۔و اُسے پیٹتا تھا اورساتھ یہ کہتا تھا ”میں اکابر کی اولاد ہوں۔“وہ مظلوم حضرت عمرؓ کی عدالت میں پہنچا، حضرت عمرؓ نے عمروبن عاصؓ کی طرف حکم نامہ بھیجا کہ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ فوری طور پر حاضر ہوں۔عمروبن عاصؓکی موجودگی میں عمرؓ نے اس مصری سے کہا کہ ان کے بیٹے کو تازیانے سے پیٹ۔اس مصری نے امیر مصر کے بیٹے کو کوڑے لگائے۔عمرؓ نے عمر بن عاصؓ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔

”تم نے انسانوں کو کب سے غلام بنا لیا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔“

معاذبن جبلؓایک جلیل لقدر صحابی ہیں۔ رومی دربار میں سفیر بن کر گئے تھے۔رومی سردار نے قیصر کے جاہ جلال اورتزک واحتشام سے ان کو مرعوب کرنا چاہا۔معاذ بن جبلؓجن کا سینہ اللہ کے جلال کا نشیمن تھا۔اس ظاہری طمطراق سے کہاں مرعوب ہونے والے تھے۔روم کے دربار میں اسلامی خلافت کی تصویر جو معاذبن جبلؓنے کھینچی ہے وہ خلافت کے خدوخال کو نمایاں کرنے کے لئے بس کرتی ہے:

”ہمارا امیر ہم ہی میں سے ایک فرد ہوتا ہے، اگر وہ ہمارے صحیفہ دینی اور ہمارے پیغمبرؐ کی سنت کے مطابق کام کرے،تو ہم اس کی خلافت کو برقرار رکھتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو ہم اسے معزول کر دیتے ہیں۔اگر وہ سرقہ کرے تو ہم اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں۔اگر وہ زنا کرے،توہم اسے تازیانے لگائیں۔اگر وہ ہم میں سے کسی کو گالی دے،تو وہ بھی گالی دینے کا حق رکھتا ہے۔اگر وہ کسی کو زخمی کرے، تو اس کا بدلہ اس کو دینا پڑے گا۔ وہ ہم سے چھپ کر نہیں بیٹھتا اور نہ ہمارے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے اورنہ وہ اپنے آپ کو ہم پر ترجیح دیتا ہے۔“

ابو بکر صدیق ؓنے خلافت سنبھالنے کے بعد پہلی بار جب مسلمانوں کوخطاب کیا تو فرمایا:

”لوگو! میں تمہارا خلیفہ مقرر ہوا ہوں، حالانکہ میں تم سب سے بہتر نہیں ہوں۔اے لوگو! میں تو حضورؐ کی پیروی کرنے والا ہوں۔نظام حکومت کے کوئی نئے اصول اور ضوابط بنانے والا نہیں ہوں۔ اگر میں بھلائی کروں تو میری مدد کرو اگر ٹیٹرھا چلوں تومجھے سیدھا کرو اگر میں اللہ اور اس کے رسولؐ کاکہا مانوں تو تم بھی میرا کہا ماتو۔اگر میں ان کے حکم سے سرتابی کروں، تو میری اطاعت نہ کرو۔“

دور حاضر کی متمدن قوموں کی عدالت گاہیں، اعلیٰ اورادنیٰ میں اب بھی تفریق کرتی ہیں۔

متمدن ریاستوں میں کون سی ایسی ریاست ہے،جس کی عدالت گاہوں میں ایک عام شہری کے دعویٰ کی جوابد ہی کے لئے بادشاہ وقت آکر کھڑا ہوتا ہے۔یہ کیسی تابناک روایات ہیں جو ہمارے حصے میں آئی ہیں۔ہم نہ صرف مدینے کی اس سادہ عدالت کدۂ مسجد ہی میں نہیں بلکہ دمشق وبغداد کے پر شوکت عدالت خانوں میں بھی ایسا ہی دیکھ رہے ہیں۔اس متمدن دور کی ان عدالت گاہوں کی خبر دیجئے جنہوں نے چور ی کی سزا سپاہی کے لڑکے کی طرح بادشاہ کی لڑکی کو بھی دینی چاہی ہو۔وہ ریاستیں جن میں بظاہر بادشاہ کو قانون کا تابع کہا جاتا ہے یا عارضی مشورہ فرمائے حکومت کی حیثیت دی جاتی ہے۔اگر ان ریاستوں کے واقعات اورنظائر کو اکٹھا کیا جائے تو سینکڑوں ایسے واقعات پیش کیے جا سکتے ہیں۔جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس آزادی اور مدنیت کے دور میں بھی اعلیٰ وادنیٰ اوربادشاہ ورعایا کا ویسا ہی فرق قائم ہے جیسے دور مظلمہ کی ان انسانی پرمنت گاہوں میں جن کو آج تاریخ لعنت اور نفرت کے ساتھ یاد کرتی ہے۔زمانے کی رفتار جوں جوں آگے بڑھتی چلی گئی اسلام کی خصوصیتیں مٹتی چلی گئیں اورنقوش دھندلاتے چلے گئے،لیکن ان سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آج بھی مہذب ترین ممالک میں سیاہ سپید قوموں کے افراد اپنی عبادت گاہوں میں مل جل کر ایک ہی صف میں نہیں بیٹھ سکتے لیکن مسجدوں میں آج بھی ادنیٰ مسلمان سربراہ ریاست کے دوش بدوش کھڑا ہو سکتا ہے اور کوئی اسے ایسا کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔اسلامی مساوات کے جو واقعات میں نے بیان کیے ہیں۔انہیں سننے کے بعد بھی کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسلام میں عدل اجتماعی نہیں ہے اور وہ مغرب سے درس حریت لینے کا محتاج ہے۔

سید ابوبکر غزنویؒ نے مزید فرمایا: اسلامی ریاست میں عمال حکومت کا تقرر اہلیت اور استحقاق ہی کی بنا پر ہوتا ہے جیسا کہ خلفا راشدین کا طرز عمل رہا ہے۔حضرت ابو بکرؓکہتے تھے کہ میں نے رسول ؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کا حاکم مقررہو اور وہ کسی کو اہلیت واستحقاق کے بغیر کسی عہدے پر فائز کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔اللہ اس کا کوئی عذر اورفدیہ قبول نہیں کرے گا۔خلفاء راشدین حکام کی کڑی نگرانی کرتے تھے۔ان کا سخت احتساب ہوتا تھا۔ حضرت عمرؓ اپنے ہر عامل سے عہد لیتے تھے کہ وہ عیش وعشرت کی زندگی سے اجتناب کرے گا۔ریشمی لباس نہیں پہنے گا،چھنا ہوا آٹا نہیں کھائے گا اور اپنے دروازے پر دربان نہیں بٹھائے گا اور حاجت مندوں کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔امام بلاذریؒ نے ”فتوح البلدان“ میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ ہر حاکم کے مال و اسباب کی فہرست تیار کرواتے تھے اورجب کبھی کسی عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی اضافے کی خبر ان کو ملتی،تو جائزہ لے کر آدھا مال بیت المال میں داخل کرادیتے تھے۔ایک دفعہ بہت سے عمال اس بلا میں مبتلا ہوئے۔ حضرت عمر ؓ نے سب کی املاک کا جائزہ لے کر سب کے مال کا آدھا آدھا حصہ بیت المال میں جمع کرادیا۔حج کے زمانے میں اعلان عام ہوتا تھا کہ جس عامل سے کسی کو شکایت ہو وہ فوراً خلیفہ کے پاس چلا آئے۔لوگ چھوٹی چھوٹی شکایتیں بھی حضرت عمرؓ کے پاس لاتے تھے اوروہ پوری مستعدی کے ساتھ تدارک فرماتے۔

حضرت عثمانؓ کا مزاج اگرچہ دھیما تھا اور حلم ان کے ضمیر میں گندھا ہوا تھا،لیکن ان کے مزاج کا دھیما پن قومی اور ملی معاملات میں انہیں احتساب سے باز نہیں رکھتا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓنے بیت المال سے ایک خطیر رقم لی جسے وہ ادا نہ کرسکے۔ حضرت عثمانؓنے نہایت سختی سے باز پرس کی اور معزول کردیا۔ولید بن عتبہ نے بادہ نوشی کی،تو معزول کرکے اعلانیہ حد باری کی۔خلفائے راشدین عمال کی کڑی نگرانی کرتے تھے۔حتیٰ کے کسی عامل کو رشوت ستانی،ذخیرہ اندوزی اوربددیانتی کی جرات نہ ہوتی تھی اورسب سے سخت محاسبہ وہ اپنی ذات کاکرتے تھے۔

کسی ریاست کے لئے اس سے گھناؤنی اور کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ اس میں چند افراد کے لئے تمام اسباب تعیش مہیا ہوں اور آرام وآسائش کے تمام وسائل اور ذرائع میسر ہوں۔جب کہ اس ریاست کے ہزاروں باشندوں کو پیٹ بھرنے کے لئے خشک روٹی اورتن ڈھانپنے کے لئے موٹا جھوٹا لباس بھی میسر نہ ہو۔اس سے زیادہ مکرو بات اورکیا ہو سکتی ہے؟کہ عمال حکومت عالیشان بنگلوں میں رہیں،جب کہ ہزاوں بندگان الٰہی کو سر چھپانے کے لئے جھونپڑی بھی میسر نہ ہو۔یہ شرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ اس نے مصارف کے لحاظ سے عام رعایا اوروالئی ملک کو ہم پلہ قرار دیا۔مدینہ کا وہ قدوس فرمانرواؐ چٹائی پر سوتا تھا اوراس کے جسم مبارک پر داغ پڑ جاتے تھے۔صحابہؓپھٹے ہوئے کمبلوں سے اپنا جسم ڈھانپے ہوتے تھے اورپتوں کی جھونپڑی کے نیچے سوتے تھے۔

حضرت عمرؓنے ایک موقع پر خود ہی اپنے مصارف بتلائے تھے۔

”میں خود تمہیں بتاتا ہوں کہ بیت المال سے مجھے کس قدر لینا جائز ہے۔

دو جوڑے کپڑے ایک موسم سرما میں اور ایک موسم گرما میں ایک سواری جس پر حج اور عمرہ ادا کروں اور قریش کے ایک متوسط الحال آدمی کے اخراجات اپنے لئے اوراپنے اہل وعیال کے لئے لے سکتا ہوں۔اس کے بعد میں عامتہ المسلمین میں سے ایک فرد ہوں۔جن حالات سے انہیں سابقہ پڑے گا انہیں حالات سے میں بھی دوچار ہوں گا۔“

جیسا کہ ”منتخب الکنز“میں ہے عتبہ بن فرقہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس مٹھائی کا ٹوکرالایا اور میں نے عرض کیا کہ یہ ٹوکرا آپ کے پاس اس لئے لایا ہوں کہ آپ دن بھر لوگوں کے کام میں لگے رہتے ہیں اورتھک کر نڈھال ہو جاتے ہیں،جب آپ کام سے واپس آئیں تو اس میں سے کچھ مٹھائی کھا لیا کیجئے۔ٹوکرا حضرت عمرؓنے واپس کردیا اورکہا مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔

اسلامی ریاست کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ خلافت کے لئے یا حکومت کے کسی اور منصب کے لئے وہ لوگ سب سے زیادہ غیر موزوں خیال کیے جاتے ہیں جو خود عہدے حاصل کرنے کے طالب ہوں اوراس کیلئے تگ ودو کریں۔ارشاد الٰہی ہے۔

”وہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کیلئے مخصوص کریں گے جو زمین پر اپنی بڑائی کے آرزو مند نہیں ہیں اورنہ فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔“ (القصص83:)

”اللہ کی قسم ہم حکومت کا کوئی منصب کسی ایسے شخص کو نہیں دیتے جو اس کا طلبگار یا حریص ہو۔“

اسی طرح سنن ابی داؤد میں ہے:

”تم میں سے بڑا خائن ہمارے نزدیک وہ ہے جو منصب کو خود طلب کرتا ہے۔“

عبدالرحمن بن ثمرہ ؓ کو آپ ؐ نے نصیحت فرمائی:

”امارت،عہدے اورمنصب کا سوال نہ کرو کیونکہ اگر تجھے سوال کرنے سے عہدہ مل گیا۔تو توُ اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر بغیر سوال کے دیا گیا تو تیر ی مدد بھی کی جائے گی۔“(خطباتِ غزنوی ؒ)

مزید : ایڈیشن 1