واہ! قدرت کے کھیل!

واہ! قدرت کے کھیل!

  



وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچاتا ہے!

یوسف کو بادشاہی کا خواب دکھایا،، باپ کو بھی پتہ چل گیا، ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا!

خواب خوشی کا تھا،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا!

یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ہے،،خوشبو نہیں آنے دی!

اگر خوشبو آ گئی تو باپ رہ نہیں سکے گا،، جا کر نکلوا لے گا! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا!

سمجھا دوں گا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ہے

کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رہا ہے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ہے یا نہیں! لہذا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا !

اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو!

یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ، ان مع العسرِ یسراً،

جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔

یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا

اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں: این آر او " کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ: انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین،،،

وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا،، وہی قحط سوالی کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بیبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا،

فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ،، اللہ کے حکم سے کھوئی ھوئی بینائی واپس آئے گی!

اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ہے تو: کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب چیخ پڑے ھیں: انی لَاَجِدْ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔

تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ھے:

سبحان اللہ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی!

واللہ غالب علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون!

اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی!

یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں!

(منقول)

مزید : ایڈیشن 1