قحط اور قحط الرجال

قحط اور قحط الرجال

  



رانا محمد شفیق خان پسروری

یہ دور، دور بے کسی ہے اور دنیا ہے کہ ”شہر نا پرساں“ بنتی چلی جا رہی ہے۔ مادی ترقی روبہ عروج ہے، اخلاق گراوٹ کا شکار ہیں۔ انسان کے ہاتھوں عمارتیں بلند سے بلند ترین ہو رہی ہیں، ذہنیتیں پست سے پست تر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ انسانی بستیاں پھیل رہی ہیں، سینے سکڑ رہے ہیں، بستیوں میں اژدھام بڑھ رہے ہیں اور آدمی گھٹ رہے ہیں۔ سر بے شمار ہیں، مغز مار کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ سینے گننے پر آئیں تو گنے نہ جائیں، جذبات ناپید ہیں۔ دل سبھی کے دھڑکتے ہیں، احساس سود و زیاں موجود نہیں۔

کہنے کو بنی نوع آدم کی تعداد، روز بروز افزوں تر ہے، مگر مسجود ملائیکہ، انسان دکھائی نہیں پڑتا۔

وجود ہی وجود ہیں، صفات، وہ بھی اچھی صفات کم یاب بلکہ نایاب ہو رہی ہیں۔

مغل حکمرانوں کے آخری حکمران (تاج و تخت والے تو بعد میں بھی رہے،مرضی کی حکومت کرنے والا آخری مغل حکمران) اورنگ زیب عالمگیر، اپنے بیٹے محمد معظم کے نام ایک مکتوب میں لکھتا ہے:

”اچھے انسان خالص سونے کی طرح ہوتے ہیں“

آنچہ پر جستیم کم دیدم و بسیار است و نیست

نیست جز انسان دریں عالم کہ بسیار است و نیست

جس چیز کی ہم نے انتہائی جستجو کی، لیکن بہت کم دستیاب ہوئی، یعنی کثرت سے ہونے کے باوجود جو نایاب ہے وہ اِس دُنیا میں انسان کے سوا اور کوئی چیز نہیں، جو بہت زیادہ ہونے کے باوجود موجود نہیں۔

ایک دن نواب سعد اللہ خاں ورد وظیفہ سے فراغت کے بعد دیر تک دُعا مانگتا رہا۔ یہ دیکھ کر ایک گستاخ مصاحب نے پوچھ لیا کہ آپ کو دُنیا میں بہت کچھ مل چکا ہے، اب آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے، جو یوں کافی دیر تک ہاتھ اٹھائے دُعا مانگتے رہتے ہیں؟ نواب سعد اللہ خاں نے جواب دیا: ”مجھے ایک اچھے انسان کی خواہش دُعا پرمجبور کرتی ہے……“۔

بیٹے! خدا کی قسم! سعد اللہ خاں نے بہت اچھی بات کی ہے۔ اِس دُنیا میں جس کو اچھے انسان سے واسطہ ہو گیا اُس کو دُنیا کے خزانے مل گئے“۔

یہی اورنگزیب عالمگیر، ایک اور مکتوب میں لکھتا ہے:”ماضی میں ایک شخص نے ایک بزرگ کے سامنے زمانے کی شکایت کی۔ بزرگ نے جواب دیا اس وقت تُو رب کا شکر ادا کرنا چاہے، لیکن آنے والے دور میں لوگوں کے خیالات بدل جائیں گے، انصاف اور احسان باقی نہ رہے گا، شہروں کے محافظ اور منتظم لوٹ مار کی طرف مائل ہوں گے،وقت کا حاکم بھی فریادیوں سے اغماض برتے گا، امراء ایک دوسرے کی رعایت میں ظالموں کی مدد کریں گے، سچ زائل ہو جائے گا، جھوٹ اور مبالغہ کو رواج ملے گا، عورتیں دلیر ہو جائیں گی، لڑکیاں مرتبہ وزارت تک جا پہنچیں گی، عالی مرتبہ لوگ بد دل اور بے قدر ہو کر اصلاح کے کا موں سے رُک جائیں گے، اہل اور کام کے لوگ گوشہ نشین ہو کر بھی خطرہ محسوس کریں گے، وقت پر بارشیں نہ ہوں گی۔ اقتدار والے غلہ مہنگے داموں فروخت کریں گے، مُلک حکمرانوں کی بے انصافی سے برباد ہو گا، امراء اور بادشاہوں کے گھروں میں طوائفیں رہنے لگیں گی اور مرد عورتوں کی محفلوں میں بیٹھنے اور ان کا لباس پہننے کی تمنا کریں گے“۔

اورنگزیب عالمگیر کے مکتوب سینکڑوں سال قبل لکھے گئے تھے، ان کی صداقت پر اس وقت سے کہیں زیادہ اب یقین آ رہا ہے۔ ایک دور انسان کی ”ناپیدگی و نایابی“ کا خود اورنگزیب کے فوراً بعد آ گیا تھا۔ ایک یہ دور ہے کہ جب ”صاحبان کمال“ دکھائی نہیں دے رہے اور باکمال لوگوں کی صحبتیں میسر نہیں۔ اچھے اور اچھی صفتوں والے انسان اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں یا پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ دور ”قحط الرجال“ کا دور ہے کہ ذاتیں بہت ہیں، لیکن شخصیات دکھائی نہیں پڑتیں۔

مختار مسعود نے اپنی کتاب ”آوازِ دوست“ میں بہت خوب لکھا ہے کہ ”قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی“ مرگ انبوہ کا جشن ہو تو قحط، حیات بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔

ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا۔

ایک سماں حشر کا، دوسرا حشرات الارض کا۔

زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں“۔

آج کا دور ”قحط الرجال“ کا ہی دور ہے۔ مختار مسعود نے جو کہا وہ خوب ہے۔ واقعتا اے کاش! قحط ہوتا قحط الرجال نہ ہوتا۔ مَیں مختار مسعود کے کہے پر کہتا ہوں کہ قحط ہو تو صاحبان بصیرت حل ڈھونڈ ہی لیتے ہیں، قحط الرجال ہو تو اشیاء کی فراوانی سے بھی سکون میسر نہیں آتا۔

آدمیوں کا ہجوم آج بھیڑوں کے اس ریوڑ کی مانند ہے جس کا کوئی چرواہا نہیں ہوتا۔

آج لیڈر بہت ہیں مگر قائد کوئی نہیں (لیڈر مشہور ہیں مقبول نہیں)۔ آج قیادتوں پر بے بصیرتی کا سایہ ہے کہ آج ”براٹلر لیڈر“ سامنے آتے ہیں، بنے بنائے اور باہر سے بلائے ہوئے سروں پر بٹھا دیئے جاتے ہیں۔ وہ راتوں کو سوتے ہیں، تو کانوں میں واہ واہ کی صدائیں اور بلے بلے کے نعرے گونج رہے ہوتے ہیں، صبح اٹھتے ہیں تو نیچے سے پوری پارٹی غائب ہو چکی ہوتی ہے۔

قیادتیں تو اچھے انسانوں کا حق ہوتی ہیں۔

آج اچھے انسان تو ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔

معاشی حالت سدھارنے کے پروگراموں سے ”قحط“ کی پیش بندی تو ہو سکتی ہے ”قحط الرجال“ کی نہیں۔

یہ دور قحط الرجال کا دور ہے، جہاں مردم شماری ہو تو آدمی بے شمار ہیں، مردم شناسی ہو تو نایاب ہیں۔

جسد بے روح ہو جائیں (اور کثرت سے بے روح ہو جائیں) تو قحط ہوتا ہے، لوگ بے اصول اور بے ضمیر ہو جائیں تو قحط الرجال ہوتا ہے۔

بھوک اور پیاس سے ہلاکتیں ہوں تو قحط نظیریات کی جگہ مفادات لے لیں تو قحط الرجال۔ خشک سالی کا رواج ہو تو قحط، بے وفائی و بے حمیتی کا شہرہ ہو تو ”قحط الرجال……“ انتخابات ہوں تو مُلک و قوم کے بہی خواہ بے شمار نظر آتے ہیں، بحران پیدا ہوں تو دکھائی کوئی نہیں دیتا۔ ووٹ لیتے وقت ہم درد بہت اور دُکھوں میں مداوا کہیں نہیں۔ المیہ ہے کہ اس دور بے بصیرت میں لوگ شاد باد کے ترانے گا رہے ہیں، ہاؤ ہو کا شور مچا رہے ہیں اور اہل دانش کہہ رہے ہیں کہ

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

مزید : ایڈیشن 1