خواب جو تم نے دکھائے تھے عوام کو؟

خواب جو تم نے دکھائے تھے عوام کو؟
 خواب جو تم نے دکھائے تھے عوام کو؟

  



22سال تک کرپشن سے پاک پاکستان، کشکول سے نجات، لوٹا گیا پیسہ واپس لانے، انصاف آپ کی دہلیز پر، مہنگائی سے نجات، چھت کی فراہمی، چوروں کو جیل بھیجنے کے نعرے سُن سُن کر عوام نے2018ء کے الیکشن میں تبدیلی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ تبدیلی کے نعرے سے متاثر ملک کی 60فیصد سے زائد آبادی کے حامل نوجوانوں نے تحریک انصاف کے22سال سے دیکھے جانے والے خواب کو شرمندہئ تعبیر کرنے کے لئے پاکستانی عوام کو بیدار کرتے ہوئے تحریک انصاف کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ عوام بڑے خوش تھے، پُرجوش تھے، وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان بنانے آ رہے ہیں۔ عوام کی کسمپرسی دور ہو گی، دودھ کی نہریں بہیں گی،لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملے گا،مہنگائی دم توڑ دے گی، کشکول سے ہمیشہ کے لئے پاکستان کو نجات مل جائے گی، نئے پاکستان کے سنہرے خواب عوام کو بڑے سہانے لگ رہے تھے۔وزیراعظم عمران خان نے رہی سہی کسر حلف اٹھانے کے بعد100دن کے پُرکشش پروگرام دے کر پوری کر دی، ایک کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر، چوروں سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی…… نو این آر کا اعلان کر کے عوام کو اور بے تاب کر دیا،بجلی سستی کرنے، پٹرول سستا کرنے، گیس کی قیمتوں میں کمی کرنے کی خوشخبری علیحدہ دی گئی۔عوام خوش تھے کہ اب ان کے بُرے دن گزر گئے، اچھے دِنوں کی امید کے ساتھ عمران خان کی زندگی کی دُعائیں مانگی جانے لگیں۔

پہلا ماہ دوسرا ماہ بالآخر100دن گزر گئے، نئے پاکستان میں مثبت تبدیلی کے نعرے تو آگے نہ بڑھے۔ البتہ ہر ماہ پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن گیا، پھر300گنا گیس کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور پھر گھروں میں استعمال ہونے والے پانی کی قیمت بھی سو گنا بڑھا دی گئی، پاکستانی عوام جو خوبصورت سہانے خواب دیکھنے میں مصروف تھے،میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری،مریم نواز شریف، فواد حسن فواد،سید خورشید شاہ سے لوٹے گئے اربوں روپے کی واپسی کے منتظر تھے، ایک ہی نعرہ چاروں اطراف گونج رہا تھا کہ نو این آر او،100 دن گزر گئے،200دن گزر گئے، چور چور کا کھیل جاری تھا۔بجلی، گیس، پانی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد چینی کا بحران سامنے آ گیا،55 روپے والی چینی75 روپے تک جا پہنچی،ٹماٹر200روپے کلو تک جا پہنچا،دیکھتے ہی دیکھتے100دن کا انقلاب ایک سال کی نذر ہو گیا، چور جیلوں سے باہر جانے لگے،عوام تو عوام تھے، تحریک انصاف کے ورکر بھی بلبلا اُٹھے،انہیں بے وقعت کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، روزگار دینے کا وعدہ پس پشت ڈال دیا گیا، چھتیں چھیننے کا سلسلہ شروع ہو گیا، رئیل اسٹیٹ بلڈرز، ڈویلپرز نے جو رونقیں لگا رکھی تھیں، رئیل اسٹیٹ سے وابستہ درجنوں صنعتوں میں کام جاری تھا،ان پر نیب،ایف بی آر کے سائے منڈلانے لگے۔

ایک دم پیسہ بیرون ملک سے آنا بند ہو گیا اور خفیہ انداز میں پیسہ باہر منتقل ہونے لگا۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے تسلط کا آغاز ہوا تو آئی ایم ایف کی شرائط نافذ ہونا شروع ہو گئیں۔ ڈالر کی قیمت بڑھانا مجبوری قرار دے کر روپے کو بے قدر کر دیا گیا، ڈالر مہنگا ہونے کا سارا نزلہ غریب عوام پر گرنا شروع ہو گیا۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، ڈویلپرز، بلڈرز خوف کا شکار ہو گئے، ہزاروں بے روزگار ہو گئے، ملکی معیشت کو پٹڑی پر چڑھانے کا خواب ڈراؤنا ہونا شروع ہوا۔ ایف بی آر نے تاجروں کو خوف میں مبتلا کر دیا، تاجر بھی ناراض ہو گئے، ڈویلپرز، جو غریب عوام کو چھتیں فراہم کر رہے تھے وہ بھی کام چھوڑ بیٹھے۔

حکومتی ریونیو جو روزانہ کی بنیاد پر پلاٹوں، فائلوں کی ٹرانسفر کی مد میں کروڑوں روپے حکومت کو مل رہا تھا، وہ80فیصد تک کم ہوگیا۔16ماہ کے دورِ اقتدار میں ایک بھی چور سے ریکوری نہیں ہو سکی، میاں برادران پیسہ دینے کی بجائے بھی بیماری کو جواز بنا کر باہر جا چکے ہیں، سید خورشید شاہ، رانا ثناء اللہ باہر آ چکے ہیں، سعد رفیق، خاقان عباسی کے باہر آنے کی خبریں ہیں، احتساب کا نعرہ بے توقیر ہو رہا ہے، این آر او صرف خبروں تک محدود ہو گیا ہے۔ ایک کروڑ نوکریاں،50لاکھ گھر دینے کا خواب مزید دور ہو گیا ہے، کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ چینی کا بحران کم نہیں ہوا تھاکہ آٹا بحران شروع ہو گیا ہے، سبزیاں پہلے ہی غریب کی پہنچ سے باہر تھیں،گوشت ناپید تھا، اب آٹا بھی نایاب ہو گیا ہے، مزدور کے لئے گھر کا چولہا جلانا محال ہو رہا ہے، قرضے کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ہیں، نئے پاکستان کی تبدیلی ڈراؤنا خواب نظر آنے لگی ہے، 100دن کے بعد500دن عوام کے لئے آزمائش بنے ہوئے ہیں، عوام کو دکھائے گئے خواب کا حساب عوام کس سے مانگیں؟ چینی مافیا اور آٹا مافیا وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں۔

احتساب کا نعرہ دم توڑ رہا ہے، چوروں سے پیسہ تو نہ لیا جا سکا،کروڑوں روپیہ عدالتی اخراجات کی نذر کر دیا گیا ہے، ری سہی کسر نیب کے پَر کاٹ کر کی جا رہی ہے،عوام کو اس قدر مصروف کر دیا گیا ہے کہ انہیں اب ڈیڑھ سال پہلے کئے گئے وعدے اور22سال سے سننے والے نعرے یاد دِلانے کا بھی وقت نہیں ہے۔ چینی مافیا، آٹا مافیا، قرضہ مافیا، ایجوکیشن مافیا، میڈیا مافیا، پٹرول مافیا اور دیگر مافیاز نے اقتدار کے ایوانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے، نئے پاکستان کے نام پر آنے والی تبدیلی کا نعرہ حکمرانوں سے نجات کے نعرے میں بدلنے کو تیار ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا عوام کو صبر کرنے کا اعلان بھی لبریز ہو رہا ہے۔ جناب وزیراعظم عوام آپ کے دکھائے گئے خوابوں کا جواب کس سے مانگیں، آپ ہی بتا دیں، براہِ کرم۔

مزید : رائے /کالم