بڑے اہداف کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا میرا وژن ہم آہستہ مگر بتدر یج تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں: عمران خان

بڑے اہداف کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا میرا ...

  



ڈیووس (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کامیابی کیلئے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، نظریات کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، اکثر لوگ مشکل میں ہمت ہارجاتے ہیں، کرکٹ ٹیم سے نکالنے پر واپسی میں تین سال لگے، انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں بھی پرامید رہنا ہے۔ بریک فاسٹ میٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا عمران خان نے کہا کہ کرپٹ سٹیٹس کو پاکستان کا بھی مسئلہ ہے، کرپٹ افراد اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں، ہم آہستہ لیکن بتدریج تبدیلی کی جانب بڑھ رہے ہیں، 40 سال سے تنقید کا سامنا کر رہا ہوں، پاکستان کی ترقی کیلئے بہتر نظام حکومت ہونا نا گزیر ہے، سابقہ حکومتوں نے افرادی قوت، تعلیم و صحت کیلئے کچھ خرچ نہیں کیا۔عمران خان کا کہنا تھا، کامیابی حاصل کرنے کیلئے کوئی پلان بی نہیں ہوتا، 60 کی دہائی میں پاکستان بھرپور ترقی کر رہا تھا اور ہم رول ماڈل تھے، ہماری ڈگریوں کی پذیرائی ہوتی تھی، میرا یقین ہے گڈ گورننس کے باعث پاکستان ترقی کرے گا۔وزیراعظم نے کہا بھارت پاکستان کے مقابلے میں 7 گنا بڑا ہے، ہم نے کئی بار اسے شکست دی، بڑے ہدف کو پانے کیلئے آپ کو اپنی کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، ہم تعلیم اور انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کرتے، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا میرا وڑن ہے، ہم صنعتکاری کو فروغ دے رہے ہیں، غربت میں کمی کیلئے ا حساس پروگرام شروع کر رہے ہیں، حکومت سرمایہ کاروں کو سہولتیں دے رہی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف عالمی قیادت تک پہنچا دیا،سب سے بڑا چیلنج کرپشن کا خاتمہ ہے،ترقی صرف گڈگورننس سے ممکن ہے،اداروں کا غیر مستحکم ہونا ملک کیلئے نقصان دہ ہے،پا کستان کی ترقی کیلئے نظام حکومت بہتر ہو نا نا گزیر ہے،پہلے سال خسارے میں 75 فیصد کمی کی،صرف سیاحت کے ذریعے ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامز ن کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیووس میں دنیا کی اہم شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا ہے، انہوں نے ڈیووس میں پاکستان کا مؤقف عالمی قیادت تک پہنچایا، ڈیووس میں قیام بہت ہی مہنگا ہے، میں حکومت کا پیسا اپنے قیام پر خرچ نہیں کرنا چاہ رہا تھا ڈیووس میں میرے قیام کو اکرام سہگل اور محمد عمران اٹھارہے ہیں ڈیووس آنے والے وزرائے اعظم میں سب سے سستا دورہ میرا ہوگا۔انہو ں نے کہا کہ جب کرکٹ شروع کی تو پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی مجھے ڈراپ کر دیا گیا تھا مجھے ٹیم میں واپس آنے کے لئے 3سال لگے،انسان کی اصل کامیابی مشکل حالات میں پرامید رہنا ہے، آگے بڑھنے کے لیے مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے، اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیا کرتے ہیں، میں نے وقت سے سیکھا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، جب میری والدہ کو کینسر ہوا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں کینسر اسپتال ہی نہیں۔ والدہ کی تکلیف دیکھ کر فیصلہ کیا پاکستان میں کینسر اسپتال بناوَں گا کینسر ہسپتال کی تعمیر کے وقت 20بہترین ڈاکٹروں سے مشاورت کی 20میں سے 19ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ پاکستان میں کینسر ہسپتال نہیں بنا سکتے آج شوکت خانم میں 75 فیصد غریب لوگوں کا علاج ہورہا ہے اور اسپتال پر سالانہ 10ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میں سیا ست میں آیا تب بھی سب میر امذاق اڑاتے تھے جب سیاست میں آیا تو اس وقت سیا سی جما عتیں باری باری اقتدار میں آتی تھیں 2جما عتوں نے ہی باریاں لگائی ہو ئی تھیں انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق ہے ترقی کر نے کے لئے پہلے آپ کو بڑئے خواب دیکھنے ہو تے ہیں بڑے اہداف کو پا نے کے لئے آپ کواپنی کشتیا ں جلا نی پڑتی ہیں پا کستان میں ترقی کرنے کی بہت صلا حیت مو جو د ہے 60کی دہا ئی میں ہم نے دیکھا پا کستان ترقی کی دوڑ میں سب سئے آگے تھا پا کستان کی ترقی کیلئے بہتر نظام حکومت ہو نا نا گزیر ہے پا کستان ایک نظریے کے تحت وجو د میں آیا ہمیں وہ کبھی فرامو ش نہیں کر نا چاہیے قائد اعظم پاکستان کو اسلا می فلا حی ریا ست بنا نا چاہتے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ کامیابی کے لیے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، کامیابی کے حصول کیلیے جدوجہد میں کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں، اس کے لیے کوئی پلان بی نہیں ہونا چاہیے، دوسری پوزیشن پر آنے والے کو کوئی انعام نہیں ملتا۔ پاکستان کی اصل طاقت ہمارے ملک کے عوام ہیں، میرا یقین ہے کہ گڈگورننس سے پاکستان ترقی کرے گا، پاکستانیوں کے پاس صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ وسائل بھی ہیں بلو چستان میں ریکو ڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کی 4کا نیں ہیں صرف 2کا نو ں کا منا فع 100ارب ڈالر سے زائد ہے پا کستا ن میں گیس اور کو ہلے کے وسیع ذخائر ہیں، ماضی میں تعلیم اور انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کیا گیا، ہم نے غربت کے خاتمے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا، حکو مت صنعتوں کی ترقی کیلئے کا م کر رہی ہے سرما یہ کا روں کے لئے ملک میں آسانیا ں پیدا کرنے کے اقدامات اٹھا ئے گئے ہیں مہا تیر محمد نے بڑی محنت سے ملا یشیا کو ترقی یا فتہ ملک بنا نے کی راہ پر گامزن کیا ہما را بڑا چیلنج کر پٹ عنا صر کا مقابلہ کر نا ہے جو ہر روز ایک نئی افواہ پھیلا تے ہیں کچھ کر پٹ عنا صر کا محاسبہ کیا جو اب جیل میں ہیں، پاکستان کے نیچے جانے کی وجہ جمہوری اداروں کا غیر مستحکم ہونا ہے، ہمارا سب سے بڑا چیلنج کرپشن کا خاتمہ ہے، کرپٹ اسٹیٹس کو پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک سوال کے جو اب میں انہو ں نے کہا کہ تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نا ہی اپنے نظریے پر سمجھوتہ کروں گا، بیمارمعیشت کواٹھانے کیلیے تکلیف دہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں، ٹیومر نکالنا ہے تو آپریشن کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑیگا، ہم نے پہلے سال خسارے میں 75 فیصد کمی کی ہے گزشتہ ایک سال میں پا کستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کا ری میں 200فیصد اضافہ ہو ا وفاقی کا بینہ کے وزراء پر غیر ضروری بیرونی دوروں پر مکمل پا بندی لگائی ہو ئی ہے۔ایک اور سوال کے جو اب میں انہو ں نے کہا کہ گزشتہ 15ما ہ میری زندگی کا مشکل ترین وقت رہا ان 15ما ہ میں مختلف محاذوں پر بڑے چیلنجز کا سامنا رہا مشکل حالا ت کے بعد اب ہم عوام کو آگے بڑھنے کا جا مع روڈ میپ دے سکتے ہیں ہما رے شما لی علاقوں میں سوئٹزلینڈ سے خوبصورت پہا ڑ ہیں صرف سیا حت کو ہی ترقی دے کر پا کستان کو بہت جلد اپنے پا ؤں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے پا کستان میں 5ہزار برس قدیم تہذیب کیاآثار مو جو د ہیں پا کستان میں 4بڑے مذاہب کے تاریخی مقدس مقاما ت موجو د ہیں سیا حت سے سوئٹزلینڈ 80ارب ڈالر سالا نہ کما رہا ہے ترکی سیا حت سے 20ارب ڈالر سالا نہ کما رہا ہے پاکستان کی مجمو عی برآمدات سے بھی زائد ہم سیا حت سے کما سکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیاکومسئلہ کشمیرکی سنجیدگی کااحساس نہیں عالمی برادری جان لے کشمیر کا مسئلہ گھمبیر ہو چکا ہے مسئلہ کشمیرکے حل کی کوشش میرے لیے سب سے اہم ہے، تین بار دہشت گرد قراردی گئی تنظیم بھارت پرحاوی ہوگئی ہے،امریکی صدرہونے کی حیثیت سے ٹرمپ مداخلت کریں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندونظریات کاغلبہ ہے جسے ہندوتواکہتے ہیں، آرایس ایس بنانیوالے نازی ازم سے متاثرتھے، آرایس ایس مسلمانوں کی نسل کشی پریقین رکھتی ہے، وزیراعظم نریندرمودی آرایس ایس کے تاحیات رکن ہیں،3باردہشت گرد قراردی گئی تنظیم بھارت میں حاوی ہوگئی ہے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 5اگست سے80لاکھ لوگوں پرکرفیونافذہے، سیاسی قیادت،ہزاروں نوجوانوں کوگرفتارکیا گیا، بھارتی آرمی چیف نے آزادکشمیرکوبھارت کاحصہ ہونے کابیان دیا۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان متنازع علاقہ ہے، سنگین معاملہ ہے کیونکہ دونوں ملک جوہری طاقت ہیں،، اقوام متحدہ،سلامتی کونسل کے پاس بھارت کوبازرکھنے کے طریقے ہیں۔بھارت سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ بھارت فاشسٹ ریاست میں تبدیل ہورہا ہے، 2متنازع قوانین کیخلاف مظاہرے ہورہے ہیں، آرایس ایس مقبوضہ کشمیرمیں آبادی کاتناسب تبدیل کرناچاہتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکا،ایران میں تصادم تباہ کن ہوگا، ایران کاتنازعہ افغانستان سے کہیں مشکل ثابت ہوگا، تنازع کے فوجی حل پرانحصارنہیں کرنا چاہیے، ایرانی قیادت سے بات چیت میں محسوس کیاوہ مذاکرات کے حق میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف نے کہاتھاافغانستان کا مسئلہ چندہفتے میں حل ہوجائیگا،جنگ مسئلے کاحل نہیں ہوتی، تنازعات بات چیت سے حل کرنا چائیں، پاکستان جیسے ترقی پذیرممالک مشکل میں آئیں گے،غربت بڑھے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پہلی بارسوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت کی، دوسری بارنائن الیون کے بعد امریکا نے مداخلت کی، پاکستان نے اس کا نقصان اٹھایا، صدرٹرمپ اور میں دونوں سمجھتے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں، امریکا اور پاکستان کے تعلقات باہمی اعتمادپرمبنی ہیں وزیراعظم عمران خان سے جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے ملاقات کرکے انھیں اپنے ملک کے دورے کی خصوصی دعوت دی ہے۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات سوئٹزلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کی سائڈ لائن پر ہوئی۔ عمران خان اور اینگلا مرکل نے باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر بھی بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ جی ایس ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل میٹس گرینارڈ کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو سمجھنے کے لئے جی ایس ایم اے کے ساتھ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جی ایس ایم اے دنیا بھر میں موبائل آپریٹرز کے مفادات کی نمائندگی کرنے والا ادارہ ہے جووسیع تر موبائل ماحولیاتی نظام میں تقریبا 400 کمپنیوں کے ساتھ 750 سے زیادہ آپریٹرز کو متحد کرتا ہے، جی ایس ایم اے کے ساتھ ہینڈسیٹ اور ڈیوائس بنانے والی کمپنیاں ، سافٹ ویئر کمپنیاں، ساز و سامان فراہم کرنے والے اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ملحقہ صنعت کے شعبوں میں تنظیمیں شامل ہیں۔وزیراعظم عمران خان سے کوکا کولا کمپنی کے سی ای او جیمز کوئنزے کی ملاقات، وزیراعظم کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار، سی ای او کوکاکولا کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کی یقین دہانی۔ جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوؤس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کی سائیڈ لائنز میں وزیراعظم عمران خان سے کوکا کولا کمپنی کے سی ای او جیمز کوئنزے نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی زلفی بخاری موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کمپنی کو پاکستان سے طویل شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کاروبار میں آسانی کیلئے ریفارمز ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، سرمایہ کاری بڑھنے سے روزگار میں اضافہ ہو گا اور غربت میں کمی آئے گی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ اس موقع پر سی ای او کوکاکولا کا پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا اور کمپنی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کار مزید بڑھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول