پی ٹی وی کی لائسنس فیس میں 100فیصد اضافہ ظلم ہے: شوبز شخصیات

پی ٹی وی کی لائسنس فیس میں 100فیصد اضافہ ظلم ہے: شوبز شخصیات

  



لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی کارکردگی دن بدن مایوس کن ہورہی ہے اس پر یہ خبر سننے میں آگئی ہے کہ قومی چینل کی لائسنس فیس میں 100فیصد سے بھی زیادہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔پی ٹی وی کے غیر معیاری پروگرام دیکھنے کو کوئی تیار نہیں اس پر عوام کے ساتھ یہ ظلم انتہائی افسوسناک ہے۔شوبز شخصیا ت کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں یہ خبر سب پر بجلی بن کر گری ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو اس فیصلے کے حوالے سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔پی ٹی وی اس طرح کے کاموں سے نہیں بلکہ اعلیٰ اور معیاری کام کی وجہ سے بحران سے نکلے گا اور اس کے لئے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح سے پاکستان ٹیلی ویژن اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوسکتا ہے یہ ہمارا قومی چینل ہے اور محنت سے اس میں کام کرنے والوں کو چاہئیے کہ اپنا کردار ادا کریں۔اس چینل کو مفاد پرست اور کرپٹ لوگوں کے چنگل سے آزاد کرنا ہوگا۔خرم شیراز ریاض،شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافروکی سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم، نجیبہ بی جی ندا یاسر،جویریہ عباسی،ثناء،فرزانہ تھیم،صاحبہ،جویریہ سعود،عینی رباب،حمیرا،عروج اورماریہ واسطی نے کہا کہ فنکار برادری سمیت ٹی وی کی لائسنس فیس میں اضافہ کسی کو قبول نہیں ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور امید ہے کہ اس حوالے سے حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

مزید : کلچر