پیشگی اطلاع تھی کی پولیس حکومتی شخصیات کیخلاف جھوٹے کیس بنائیگی: وزیراعلٰی سند ھ

پیشگی اطلاع تھی کی پولیس حکومتی شخصیات کیخلاف جھوٹے کیس بنائیگی: وزیراعلٰی ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہیں کئی ماہ قبل یہ پیشگی اطلاع مل گئی تھی کہ پولیس سندھ حکومت کی شخصیات کے خلاف جھوٹے کیس بنائے گی اس معاملے کی تحقیقات ایک اچھے پولیس افسر سے کرائی گئی لیکن آئی جی سندھ نے یہ رپورٹ ہی دبالی۔ سندھ حکومت آئی جی پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے لیکن وہ اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان کی جانب سے آئی جی سندھ کے تبادلے سے متعلق ایک توجہ دلا نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ الزام ت وسب سے پہلے مجھ پر لگا کہ میں ایک دہشت گرد سے ملا ہوں۔ کچھ عرصے قبل ایک دہشت گرد کے پاس اخباری نمائندے کو رسائی بھی دی گئی جس کا مقصد مجھے بدنام کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر میں کسی دہشت گرد سے ملا ہوں تو کارروائی کرو۔انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون کے مطابق وزیراعلی اور آئی جی کی مشاورت سے ایس ایس پی لگتا ہے ہمیں بلا وجہ الزام نہ دیا جائے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شکارپور کے ایس ایس پی رضوان کی آئی جی نے سفارش کی تھی لیکن یہ اچھے افسر نہیں ہیں،اس ایس ایس پی کے خلاف اسکے ایڈیشنل آئی جی نے رپورٹ دی۔انہوں نے بتایا کہ میرے پاس اکتوبر میں ایک ڈاک آئی کہ پولیس نے ہمارے خلاف من گھڑت کیس بنائے گی،میں نے ایک اچھے افسر سے انکوائری کروائی مگر وہ انکوائری رپورٹ مجھے آج تک نہیں ملی،کیونکہ وہ رپورٹ آئی جی پولیس نے دبا لی ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس میں کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ امتیازشیخ نے دس دفعہ آئی جی کو شکارپور پولیس کے بارے میں بتایا لیکن ایس ایس پی چونکہ آئی جی کا چہیتا تھا اس لئے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی نے جن آٹھ لوگوں کیخلاف ایف آئی آر درج کی وہ ملک میں ہی موجود نہیں ہیں ایک نااہل پولیس افسر کو شکارپورمیں لگایاگیا۔شکار پور میں 22غریب گاوں والوں کو اے ٹی سی دفعات پر چالان کیاگیا لیکن اب آئی جی پولیس کو تبادلہ کردیاگیاہے۔سندھ کے عوام آئی جی کومسترد کرچکے ہیں،سندھ کابینہ نے بھی ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آئی جی پولیس اب اوچھی حرکتوں پر اترآئے ہیں۔وزیراعلی مرادعلی شاہ نے کہا کہ میڈیا میں رپورٹس چلیں اورڈاکٹررضوان کی طرف سے صوبائی وزرا پر سنگین الزامات لگائے گئے۔اگر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ غلط ہیں تو ان کو ا وراگرایس ایس ایس پی غلط ہیں تو اس کو سزادی جائے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ایک نالائق پولیس افسر نے منتخب رکن اسمبلی کیخلاف بھونڈی رپورٹ بنائی ہے سعید غنی پردوسال پرانی رپورٹ ڈال دی گئی،اگر امتیازشیخ کرمنل ہے تو پولیس نے گرفتارکیوں نہیں کیا؟کیاوزیراعلی نے گرفتاری سے روکا تھا۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ آئی جی نے چیف سیکریٹری کو خط لکھا کہ مجھ سے پوچھے بغیر افسران کی خدمات واپس کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی ہوشیاری سے آئی جی کا خط میڈیا میں لیک کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چار بار آئی جی تبدیل ہوگئے اور وہاں امن وامان کی صورتحال بھی خراب ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے بارے میں یکطرفہ کام نہیں چلے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے جس کی تفصیل میں اپوزیشن لیڈر کو بتانے کاپابند نہیں ہوں،وزیراعظم سے اس حوالے سے تین بار بات ہوئی ہے اوروزیراعظم نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی جی پولیس کو چلانے کی کوشش کی مگر وہ اس قابل نہیں کہ انہیں سندھ میں مزید رکھاجائے،آئی جی کو کرسی سے چمٹے رہناکاشوق ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ آئی جی کی تبدیلی کا معاملہ وفاقی وصوبائی حکومت کے درمیان ہے،ہم آئین قانون کیمطابق چلیں گے،ہمیں اپنی ٹیم منتخب کرنیکا حق ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کیامجھے پتہ نہیں چلتاکہ وہ افسر کس سے فون پر بات کررہاہے آئی جی پولیس اب پارٹی بن چکے ہیں ہم افسران کو سیاست میں حصہ نہیں لینے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کہاگیاہے کہ وزیراعظم وطن واپس آتے ہی فیصلہ کرلیں گے اور آئی جی سندھ کو تبدیل کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کوئی ناکام افسر نہیں چل سکے گا،سناہے کہ پنجاب میں چیف سیکریٹری تبدیل ہورہاہے اس صوبے میں وہ ہی افسر چلے گا جو ہماری پالیسی پرچلے گا،اس صوبے کے لوگوں نے پیپلزپارٹی کو منتخب کیاہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی ایک پولیس افسر کی بھی کوئی سفارش نہیں کی۔

مزید : صفحہ اول