سندھ اسمبلی: علی مردان شاہ کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور

سندھ اسمبلی: علی مردان شاہ کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے جمعرات کو اپنے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی علی مردان شاہ کے انتقال پر ایک تعزیتی قرارداد منظور کرلی جو پیپلز پارٹی کے رکن غلام قادر چانڈیو کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔قرارداد میں مرحوم کی پارلیمانی خدمات اور پارٹی کے ساتھ وفاداری پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ایوان کی کارروائی کے دوران وقفہ سوالات ختم ہوتے ہی وزیرپارلیمانی امور مکیش کمار نے علی مردان شاہ کو خراج عقیدت کی قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کرلی جس پراپوزیشن ارکان نے کہا کہ وقفہ سوالات کے بعد انہیں اپنے توجہ دلا نوٹس پیش کرنے ہیں تاہم ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری نے ایجنڈا مکمل ہو نے سے پہلے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دیدی جس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے علی مردان شاہ کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم علی مردان شاہ ایک بہادر شخص تھے۔ان جیسے جیالوں کی محنت کے باعث اب تھرپارکر ضلع مخالفین کانہیں رہا بلکہ پیپلزپارٹی کا مضبوط قلعہ ہے،علی مردان شاہ کے انتقال کی خبر پر یقین نہیں آرہاتھا،مخالفین بھی علی مردان شاہ کا احترام کرتے تھے۔وزیر اعلی نے کہا کہ علی مردان شاہ نے اپنے بیٹے کو ہدایت کی کہ پیپلزپارٹی سے ہمیشہ وفادار رہنا۔سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ علی مردان شاہ سے چالیس سال پرانا تعلق تھا۔انہوں نے کہا کہ شہید بینظیربھٹونے مجھ سے کہا تھا کہ کسی صورت علی مردان شاہ کو پیپلزپارٹی میں لائیں۔انہوں نے کہا کہ علی مردان شاہ ہرمرحلے میں پارٹی کی جدوجہد میں ساتھ رہے۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علی مردان شاہ عوامی سیاستدان تھے انکی خدمات کو کبھی نہیں بھولا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسے وفادار شخص تھے جس پر پیپلز پارٹی فخر کرتی ہے۔پیپلز پارٹی کے عبدالباری پتافی کا کہنا تھا کہ علی مردان شاہ 6 مرتبہ منتخب ہوئے اور اصولوں کی سیاست کی،1992سے لیکر زندگی کے آخری دن تک ضلع کے صدر رہے وزیر رہے۔انہوں نے پاپولیشن، سستے گھر اور فشریز کے محکمے کے وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں وہ ایماندار اور محنتی تھے ان اور اس بات کی گواہی میرے محکمے کا ہر ملازم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحومکھاروڑو شریف کے گدی نشین رہے جہاں آج سردار شاہ گدی نشین ہیں۔انہوں نے کہا کہ روایت پرست ہونے کے باوجود انکی سیاست میں خدمات ایک ریکارڈ ہیں،انہوں نے کہا کہ علی مردان شاہ ہر شخص کو جانتے تھے ان کی خوبی تھی کہ ملنے والے سے والدین تک کا تذکرہ کرتے تھے۔مرحوم کو لوگوں کی شناخت تو تھی مگر علاقے سے گرنے والے افراد کے قدم کو بھی پہچانتے تھے،وہ قدم دیکھ کر اپنے لوگوں سے نئے شخص کی آمد کا پوچھتے تھے کون نیا شخص آیا ہے۔وہ مہمان نواز اور آنے والے مہمان کا پوچھتے تھے کہ اس مہمان کو جو آیا تھا اس نے کھانا کھایا کہ نہیں۔رزاق راہموں، نواب تیمور تالپور نے بھی ان کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب کی مسکراہٹ بھی منفرد اور مزاج کے وہ بڑے بادشاہ تھے وہ مزاج میں بڑے خوش کن تھے ہم ان سے مذاق کرتے تھے تو ناراض نہیں ہوتے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ لفظ چاچا سے چڑ تے تھے مگر ہم ان کے ساتھ اسی لفظ سے مذاق کیا کرتے تھے۔

مزید : صفحہ اول