محکمہ محنت میں گھوسٹ ملازمین کی کوئی گنجائش نہیں ہے،سعید غنی

محکمہ محنت میں گھوسٹ ملازمین کی کوئی گنجائش نہیں ہے،سعید غنی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ محکمہ محنت میں گھوسٹ ملازمین کی کوئی گنجائش نہیں ہمارے پاس ملازمین کی آمد اور روانگی کی تصدیق بایومیٹرک سے ہوتی ہے روایتی طریقہ کار پہلے ہوتا ہوگا،پہلے جو ملازمین ڈیوٹی پر نہیں آتے تھے ان کے خلاف ضابطہ کاروائی کی گئی ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو سندھ اسمبلی میں محکمہ محنت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔پی ٹی آئی کے ر کن اسمبلی خرم شیر زمان نے دریافت کیا کہ انڈسٹری میں کام کرنے والوں کے رجسٹریشن کا طریقہ کار کیا ہے۔جس پر وزیر محنت نے بتایا کہ سیپا سے سرٹیفکیٹ لیتے ہیں محنت کشوں سے متعلق دیگر معاملات چیک کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمال صدیقی نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر کالونی موجود ہے جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے مگر الاٹمنٹ کیوں نہیں دی جاتی۔جس پر وزیر محنت نے کہا کہ معزز رکن نے سوال جو تحریر کیا وہ نہیں پوچھ رہے بلکہ غیر متعلقہ سوال کررہے ہیں۔اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ مجھے اجازت ہو تو میں اردو میں سوال پڑھ لیتا ہوں کیونکہ بقول اپوزیشن لیڈر مجھے انگریزی نہیں آتی۔ سعید غنی نے کہا کہ معزز رکن نے جو جواب پوچھا ہے وہ یہ ہے کہ اسکول اور کالجز کے ملازمین کی بڑی تعداد گھر بیٹھ کر تنخواہ لے رہے ہیں۔پی ٹی آئی کی خاتون رکن سدرہ عمران نے پوچھا کہ محکمے کے کتنے اسکول اور کالجز ہیں؟ جس پر وزیر محنت نے بتایا کہ حیدرآباد میں دو کالج ہیں جبکہ کراچی میں 20 اسکول موجود ہیں جو کل ملاکر22 ہوتے ہیں اور اس وقت 560 پوسٹ خالی ہیں۔پی ٹی آئی کے ارسلان تاج نے کہا کہ جب اسکولوں کے لئے محکمہ تعلیم موجود ہے تو دیگر اداروں کے تحت اسکول کیوں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر محکمے کے ماتحت الگ اسکولز کا نظام نہیں ہوناچاہیے اورمحکمہ محنت کے اسکولز بھی تعلیم کے ماتحت ہونے چاہیں۔جس پر وزیر محنت نے جواب دیا کہ ہمیں اسکولوں کے انضمام کے لیے بڑا کام کرنا پڑے گا۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ جو محنت کش یا غریب لوگ اپنے بچوں کونہیں پڑھاسکتے محکمہ ان کو سہولت فراہم کرتا ہے اورہم یونیفارم، کتاب اور شوز بھی دیتے ہیں۔

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 10 سال بعد ملک کا ٹرانسپیرنسی انڈیکس تنرلی کا شکار ہواہے۔رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اس سال کرپشن میں اضافہ ہوا مہنگائی و بیروزگاری نے گز شتہ ایک سال میں غریب کی کمر توڑ دی۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ نے عمران خان کے دعوؤں کو بے نقاب کردیا ہے اور رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیرھ سال میں ملک ہر حوالے سے پیچھے چلا گیا۔انہوں نے کہاکہ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بھی پاکستان مزید تنرلی کی طرف گیا ہے جبکہ ایک سال میں پاکستان جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی پیچھے چلا گیا۔سعید غنی نے کہاکہ ملک میں گز شتہ ایک سال میں عدلیہ اور میڈیا پر بھی حملے بڑھ گئے، انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بھی پاکستان کا درجہ گز شتہ ایک سال میں خراب ہوا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر آج ختنی قدغنیں ہیں پہلے کبھی دیکھنے کو نہ ملیں تھیں اور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی بڑھ گئیں ہیں۔

مزید : صفحہ اول