"عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے"

"عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے"

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایف اے ٹی ایف یعنی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور امریکی شہریوں کے پاکستان کے سفر سے متعلق ہدایت نامے میں تبدیلی لانے جیسے اہم معاملات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے ’اردو نیوز‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں ہونے والی ملاقات میں امریکی صدرنے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو ٹھوس قرار دیتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

شاہ محمود کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزیر خزانہ اور باقی 20 افراد کی موجودگی میں کہا’پاکستان کی موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے اور امریکا کو پاکستان کی حمایت کرنی چاہیے۔‘

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مال معاونت کے نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کو امید ہے کہ امریکا، پاکستان کی آئندہ ماہ بیجنگ میں اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف کی فہرست سے نکلنے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے میں ناکام رہے ہیں اور جہاں دہشت گرد اپنی سرگرمیوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرسکتے ہیں۔اگر پاکستان اپریل تک گرے لسٹ سے باہر نہیں آیا تو شاید پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا جائے گا جس کے تحت ملک کو متعدد معاشی پابندیوں کا سامنا ہوگا، جیسے ایران کو معاشی پابندیوں کا سامنا ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید بتایاکہ ’سفری ہدایت نامے کے معاملے پر امریکی صدر نے اپنے مشیر قومی سلامتی رابرٹ اوبرائن کا نام لے کر کہا کہ آپ محکمہ خارجہ سے ٹریول ایڈوائزری تبدیل کرنے سے متعلق بات کریں۔'ان کا کہنا تھا کہ ’دورہ امریکا کے دوران امریکی ہم منصب کو پاکستان سے متعلق امریکی ٹریول ایڈوائزری کے بارے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے، 2006 کے مقابلے میں 2019 کی سیکیورٹی صورت حال کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو 2019 پرامن ترین سال رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اقوام متحدہ نے پاکستان کو 'نان فیملی اسٹیشن' سے 'فیملی اسٹیشن' میں تبدیل کر دیا ہے، جاپان اور پرتگال نے اپنی ٹریول ایڈوائزری پر نظرثانی کی ہے، جبکہ جرمنی اور فرانس سمیت کئی دیگر یورپی ممالک بھی ٹریول ایڈوائزری تبدیل کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'امریکا کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری میں تبدیلی سے لوگوں کی آمد و رفت میں آسانی ہوگی، باہمی تجارت میں اضافے کے لیے تاجروں کی آمد و رفت ہوگی تو ہی تجارت بڑھ سکے گی جبکہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے امریکا کی ٹریول ایڈوائزری میں تبدیلی لازمی ہے لہٰذا واشنگٹن ہمارے حق میں تبدیلی کرکے ہماری مدد کرے۔‘

خیال رہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کی سائیڈ لائن پروزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہوئی۔

باضابطہ ملاقات سے قبل دونوں رہنماوں نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی، اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہاڈونلڈ ٹرمپ سے دوبارہ مل کر خوشی ہوئی، امریکی صدر کے ساتھ افغان امن عمل پر بھی بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر امریکا اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں جبکہ افغانستان میں قیام امن، طالبان اور حکومت کے معاملات کا مذاکرات سے حل چاہتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ بھارت کے ساتھ معاملات ہیں، امید ہے کہ امریکا اس معاملے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا کیونکہ بھارت کے ساتھ معاملات کوئی دوسرا ملک حل نہیں کر سکتا۔

اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان میرے دوست ہیں، ان سے دوبارہ ملاقات پر خوشی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اچھے تعلقات ہیں جبکہ دونوں ممالک آج سے پہلے اتنے قریب کبھی نہ تھے۔ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان سے ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر بات کریں گے، پاکستان اور بھارت کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے اس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جبکہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کردار ادا کرسکتا ہوں۔

مزید : اہم خبریں /قومی