’پروڈیوسر نے فلیٹ میں گھس کربے دردی سے ریپ کیا‘،نامور اداکارہ نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرادیا

’پروڈیوسر نے فلیٹ میں گھس کربے دردی سے ریپ کیا‘،نامور اداکارہ نے عدالت میں ...
’پروڈیوسر نے فلیٹ میں گھس کربے دردی سے ریپ کیا‘،نامور اداکارہ نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرادیا

  



نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیویارک میں ہالی ووڈ پروڈیوسر ہاروی ونسٹن کے خلاف جنسی زیادتیوں کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔اس دوران امریکا کی نامور اداکارہ اینابیلا شیورہ نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطاق اداکارہ نے عدالت کو بتایاکہ پروڈیوسر نے 25 سال قبل ان کے گھر میں گھس کر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔اینابیلا شیورہ کے مطابق ہاروی نے ان پر حملہ کیااور بے دردی سے ریپ کیا۔انہوں نے مزاحمت کی، مکے مارے اور لاتیں بھی ماریں ۔

بی بی سی کے مطابق اپنے ساتھ ہوئے ناخوشگوار واقعے کو یاد کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایاکہ '1993سے 1994کے دوران وہ ہولی وڈ پروڈیوسر سے ملیں،وہ ملتے اور ساتھ رات کا کھانا بھی کھاتے تھے، ایک رات ہاروی نے انہیںفلیٹ تک لفٹ دینے کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کرلیا،اینابیلا کے مطابق جیسے ہی وہ اپنے گھر میں داخل ہوئیں، تو تھوڑی دیر میں ہی محسوس ہوا کہ دروازے پر کوئی ہے، دروازہ کھولتے ہی سامنے ہاروی کھڑے تھے جنہوں نے انہیں دھکا دیا، زبردستی کمرے میں لےکر گئے اور جنسی ہراساں کیا۔اینابیلا شیورہ کے مطابق وہ اس دوران خود کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں البتہ ہاروی وائنسٹن نے ان کا ریپ کیا۔اداکارہ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 'میں نے بہت کوشش کی کہ خود کو بچالوں تاہم میں ہاروی وائنسٹن کے آگے کافی کمزور تھی، اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے تھے'۔

اینابیلا شیورہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ اس وقت اس حد تک خوفزدہ ہوچکی تھی کہ ان کا پورا جسم کانپ رہا تھا اور وہ بہت زیادہ تکلیف میں مبتلا تھیں۔اداکارہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جس دن انہیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا اس کے چند روز بعد ہی ان کا پروڈیوسر سے دوبارہ سامنا ہوا اور اس وقت ہاروی وائنسٹن کا کہنا تھا کہ یہ راز صرف میرے اور ان کے درمیان ہی رہے گا۔

اینابیلا شیورہ کے مطابق اس واقعے کے بعد سے ہاروی وائنسٹن انہیں جنسی پراساں کرتے رہے، 1997 میں کانز فیسٹیول کے دوران بھی ہاروی وائنسٹن نے ہوٹل میں ان کے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہ اتنی خوفزدہ تھیں کہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے اداکارہ سے سوال کیا کہ انہوں نے اس وقت پولیس کو یہ سب کیوں نہیں بتایا جس پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ بےحد خوفزدہ تھیں اور سمجھتی تھیں کہ چپ رہنا ہی واحد حل ہے۔

دوسری جانب 67 سالہ ہاروی وائنسٹن نے ان تمام الزامات کو بے بنیادقرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ نیویارک کی کورٹ میں ہاروی وائنسٹن کے خلاف 6 جنوری 2020 سے 2 خواتین کے ’ریپ‘ کے اہم کیس کی سماعت شروع ہوچکی ہے اور اگر ان پر دونوں الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں 28 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

مزید : تفریح