وزیرقانون کے چیف نے تواستعفیٰ دے دیااب وہ کس پارٹی کے نمائندہ ہیں،مشاہداللہ فروغ نسیم پر برس پڑے

وزیرقانون کے چیف نے تواستعفیٰ دے دیااب وہ کس پارٹی کے نمائندہ ہیں،مشاہداللہ ...
وزیرقانون کے چیف نے تواستعفیٰ دے دیااب وہ کس پارٹی کے نمائندہ ہیں،مشاہداللہ فروغ نسیم پر برس پڑے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنمامشاہداللہ وزیر قانون پر برس پڑے،کہتے ہیں فروغ نسیم کے پارٹی چیف نے تواستعفیٰ دےدیا اب وزیرقانون کس پارٹی کے نمائندہ ہیں؟۔

دنیا نیوز کے مطابق مشاہداللہ نے کہا وزیرقانون نے دھمکیاں دیں کہ تمہیں دیکھ لوں گا، مجھے دھمکیاں دینے پرچیئرمین سینیٹ وزیرقانون سے وضاحت طلب کریں۔ انہوں نے کہا وزیرقانون کون ہوتے ہیں مجھے دھمکیاں دینے والے؟وہ ایوان میں آکرجواب دیں۔انہوں نے سوال کیا کہ وزیرقانون کے چیف نے تواستعفیٰ دے دیااب وہ کس پارٹی کے نمائندہ ہیں۔

خیال رہے کہ 12 جنوری کو خالد مقبول صدیقی وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے، اس لئے کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے، تاہم حکومت کے اتحادی ہیں اور تعاون جاری رہے گا۔

خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے تحریک انصاف کا وفاقی حکومت بنانے میں ساتھ دیا تھا لیکن ہمارے ایک نقطے پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی، حکومت کے اتحادی ہیں اور اس کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے تاہم حکومت میں بیٹھنا اور ڈیڑھ سال تک انتظار کرنا بہت سارے خدشات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری وزارت سے فائدہ ہی نہ ہو رہا ہو تو کابینہ میں بیٹھنا بےسود ہے۔

کنوینر ایم کیو ایم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے 2 معاہدے ہوئے تھے، ایک معاہدہ بہادرآباد اور دوسرا بنی گالہ میں ہوا، جہانگیر ترین بھی ان مواقع پر موجود رہے، ہر مشکل موقع پر حکومت کا ساتھ دیا لیکن سندھ کے شہری علاقوں سے ناانصافی کی جا رہی ہے۔ ہزاروں ارب دینے والےشہر کو ایک ارب نہیں دیا جا رہا، گزشتہ دنوں کہیں اور سے بھی وزارتوں کی بات ہوئی تھی، آج کے اعلان کا اس پیشکش سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف سے 2 وزارتیں مانگی تھیں جن میں سے ایک وزارت آج بھی طلب کرتے رہے۔ وزارت قانون نہیں مانگی تھی، جو 2 نام تحریک انصاف کو دیئے تھے ان میں فروغ نسیم کا نام شامل نہیں تھا۔ حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ آپ کراچی اور سندھ کے لوگوں کو ثابت کریں کہ آپ یہاں کے بھی وزیراعظم اور صدر ہیں۔

مزید : قومی