” ن لیگ کی ڈیل فائنل ہونے کو ہے “ انگریزی اخبار نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ، حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

” ن لیگ کی ڈیل فائنل ہونے کو ہے “ انگریزی اخبار نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ، ...
” ن لیگ کی ڈیل فائنل ہونے کو ہے “ انگریزی اخبار نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ، حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )نجی انگریزی اخبار ” ایکسپریس ٹریبیون “ نے آرٹیکل شائع کیاہے جس میں دعویٰ کیا گیاہے کہ ” ن لیگ ڈیل فائنل کرنے کے کافی قریب پہنچ چکی ہے ، حکومت میں موجود پی ٹی آئی کو چھوڑ کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے گی ، جو کہ معیشت کو استحکام بخشنے اور انتخابی اصلاحات کرنے کے بعد تحلیل ہو جائے گی تاکہ نئے انتخابات کی جانب بڑھا جا سکے ۔“

تفصیلات کے مطابق نجی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نا م نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ن لیگ کے رہنما نے بتایا کہ ” مریم نوازشریف کی مین سٹریم سیاست میں واپسی کے علاوہ باقی تمام مسائل پر ن لیگ اور اسٹبلشمنٹ ایک ڈیل کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔“انہوں نے بتایاکہ ” پارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل فائنل کرنے کے کافی قریب پہنچ چکی ہے ، ایک مرتبہ سب کچھ طے ہو جائے پھر ن لیگ کے صدرشہبازشریف ان ہاﺅس تبدیلی کے عمل کو شروع کرنے کیلئے ممکنہ طور پر پاکستان واپس آئیں گے ۔“ان کا کہناتھا کہ” حکومت میں موجود پی ٹی آئی کو چھوڑ کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے گی ، جو کہ معیشت کو استحکام بخشنے اور انتخابی اصلاحات کرنے کے بعد تحلیل ہو جائے گی تاکہ نئے انتخابات کی جانب بڑھا جا سکے ۔“شہبازشریف اپنے بھائی نوازشریف کے ہمراہ نومبر میں لندن گئے تھے اور اس وقت سے وہیں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما کا کہناتھا کہ ” صرف ایک چیز ہے جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے اور وہ ” مریم نواز کی مین سٹریم سیاست میںواپسی سے متعلق ہے ۔“”اسٹبلشمنٹ فی الحال نہیں چاہتی کہ باپ اور بیٹی دونوں سیاست میں واپس آئیں جیسا کہ ماضی کے سالوں میں دونوں نے اسٹبلشمنٹ کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا تھا بہر حال شریف فیملی یہ چاہتی ہے کہ مریم نواز سیاست میں واپس آئے ۔“ ”پارٹی نوازشریف اور مریم نواز کی واپسی کو فلیش پوائنٹ نہیں بننے دے گی، اگر اس پر اتفاق نہیں ہوتا پھر مریم کو پارٹی کے مستقبل کے مفاد میں لمحہ بھر کیلئے کڑوا گھونٹ پینے کیلئے کہا جا سکتا ہے ۔“

اخبا ر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مریم نوازشریف نومبر 2019 میں ضمانت ملنے کے بعد سے مسلسل خاموش ہیں اور ان کی خاموشی کو ڈیل کا حصہ سمجھا جارہاہے تاکہ مزید رعایت حاصل کی جا سکے ۔ن لیگی رہنما کا کہناتھا کہ ”مسلم لیگ ن بقیہ مدت کیلئے حکومت بنانے کا انتخاب نہیں کرے گی جیسا کہ ایک ہنگ پارلیمنٹ ان ہاﺅس تبدیلی کے دہانے پر کھڑی رہتی ہے ۔“انہوں نے بتایا کہ ” اگر چیزیں منصوبے کے مطابق ہوتی ہیں پھر ہم مولانا فضل الرحمان سے راستے باقاعدہ الگ کر لیں گے جیسا کہ وہ محاذ آرائی کا راستہ اختیارکرنا چاہتے ہیں ، لیکن اگر معاملات پلان کے مطابق نہیں چلتے تو پھر پارٹی فضل الرحمان کی تحریک کو سپورٹ کرنے کے بارے میں غور کرے گی ۔“

ان کاکہناتھا کہ ” ہمیں بتایا گیاہے کہ کنگ میکرز وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تجربات کر کے اب تھک چکے ہیں ، آنے والے مارچ کا مہینہ حکومت کو اس کے اختتام کے قریب لے جائے گا“ ۔انہوں نے کہا کہ ” پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے خلاف بننے والے کیسز اور مرکز اور پنجاب میں پڑنے والی دراڑوں کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل نہیں ہے ۔“

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ آئندہ انتخابات میں ن لیگ کی ٹکٹ ملنے پر پی ٹی آئی کے بہت سے رہنما اور آزاد اراکین اسمبلی پنجاب اور مرکز میں اپنی سپورٹ کی یقین دہانی کروا رہے ہیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں