ورلڈ اکنامک فورم میں جن نکالنے کا مظاہرہ؟ اس خاتون کو سٹیج پر لٹا کر کیا کیا جارہا ہے؟ دیکھ کر آپ بھی دنگ رہ جائیں

ورلڈ اکنامک فورم میں جن نکالنے کا مظاہرہ؟ اس خاتون کو سٹیج پر لٹا کر کیا کیا ...
ورلڈ اکنامک فورم میں جن نکالنے کا مظاہرہ؟ اس خاتون کو سٹیج پر لٹا کر کیا کیا جارہا ہے؟ دیکھ کر آپ بھی دنگ رہ جائیں

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں گزشتہ دنوں ورلڈ اکنامک فورم کا انعقاد ہوا، جس دوران لوگوں نے وہاں ایک ایسا کام بھی دیکھا کہ ہر ایک دنگ رہ گیا۔ یہ کام ’انرجیٹک ٹریٹمنٹ‘ (Energetic Treatment)کے نام سے رائج طریقہ علاج کا مظاہرہ تھا۔ ورلڈ اکنامک فورم کے سٹیج پر گوینتھ پیلٹرو نامی ماہر نے معروف امریکی اداکارہ و گلوکارہ جولیان ہف پر اس طریقہ علاج کا مظاہرہ کیا۔

اس طریقے سے علاج کچھ اس طرح کیا جاتا ہے جیسے کسی شخص پر آسیب کا سایہ ہوتا ہے اور اس کا جن نکالا جاتا ہے۔گوینتھ پیلٹرو 31سالہ گلوکارہ کو سٹیج پر موجود مساج ٹیبل پر لٹا دیتا ہے اور پہلے وہ اوندھے منہ لیٹ کر کافی دیر تک اپنی ٹانگیں اور پیٹ تک کا اوپری دھڑ اوپر اٹھائے رکھتی ہے اور پھر بے سدھ ہو کر گر جاتی ہے۔ پھر گوینتھ اس کی گردن، کمر، بازوﺅں اور جسم کے دیگر حصوں کو مختلف انداز میں حرکت دیتا ہے۔ اس دوران جولیان کی حالت بالکل ایسے ہو جاتی ہے جیسے واقعی اس پر جن حاوی تھا اور اب اسے نکالا جا رہا ہے۔اس کی آواز اور جسم کی حرکات بالکل کسی ایسے شخص جیسی ہو جاتی ہیں جس پر آسیب کا سایہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق جولیان پر اس طریقہ علاج کا مظاہرہ کرتے ہوئے گوینتھ پیلٹر بتاتا ہے کہ کس طرح انسان کے جسم کی مختلف حرکات سے اس کے اندرجمع شدہ جذبات کی لہروں کو جسم سے نکالا جا سکتا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ اب جولیان کا جسم ’ری ڈائریکٹ‘ ہو رہا ہے اور جمع شدہ توانائی خارج کر رہا ہے جس کے بعد اس کا جسم نئی توانائی کے لیے موافق ہو جائے گا۔ پھر وہ جولیان کی کمر سے کوئی کھینچ کر باہر نکالنے جیسی حرکات کرتا ہے جس پر جولیان چیخیں مارنا شروع کر دیتی ہے۔

اس علاج کے بعد جولیان بتاتی ہے کہ ”می خود کو پہلے سے کہیں زیادہ ہلکا محسوس کر رہی ہوں۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے میرے اندر کوئی بوجھ تھا جو اتر گیا ہے۔ میں اندر سے آزاد ہو گئی ہوں۔ اب میں خود کو پہلے سے کہیں زیادہ خوداعتماد محسوس کر رہی ہو اور میں وہ بول سکتی ہوں جو میں بولنا چاہتی ہوں۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اب میں اپنے دل کی بات کہتے ہوئے اپنے جذبات کی پابند نہیں رہی ہوں۔“

مزید : بین الاقوامی