3000 سال پہلے مرنے والے آدمی کی آواز پھر سے گونجنے لگی، آپ بھی سن سکتے ہیں

3000 سال پہلے مرنے والے آدمی کی آواز پھر سے گونجنے لگی، آپ بھی سن سکتے ہیں
3000 سال پہلے مرنے والے آدمی کی آواز پھر سے گونجنے لگی، آپ بھی سن سکتے ہیں

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں سائنسدان 3ہزار سال قبل مرنے والی آدمی کی پھر سے آواز نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ آدمی ایک ایک مذہبی رہنماءتھا جس کا نام ’نیسیامون‘ تھا۔ یہ شخص مصر میں فرعون ریمسس گیارہم (Ramses XI) کے دور میں زندہ رہا۔ مرنے کے بعد اس کی لاش کو حنوط کرکے ممی بنا دیا گیا جو 1824ءمیں دریافت ہوئی ہوئی تھی اور اسے برطانیہ کے شہر لیڈز کے میوزیم میں رکھا گیا تھا۔کچھ عرصہ قبل لیڈز ہسپتال کے ماہرین نے اس پر تجربات شروع کیے۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس ممی کے جسمانی اعضاءحیران کن طور پر بہتر حالت میں تھے۔ اس کے سافٹ ٹشو تاحال اپنی اصل حالت میں ہونے کی وجہ سے اس کی آواز نکالنا ممکن ہوا۔ سائنسدانوں نے اس ممی کے منہ اور گلے سے سی ٹی سکینر اندر بھیجے اور اس کے اندرونی اعضاءکی ایک نقل تیار کی۔ یہ نقل پلاسٹک سے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے بنائی گئی اور پھرممی کی اس نقل سے آواز نکالی گئی۔ اس نقل کے ناک، منہ اورآواز سے منسلک اندرونی اعضاءچونکہ ہوبہو ممی جیسے تھے چنانچہ اس نقل سے آواز بھی بالکل اسی کے جیسی نکلی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ممی کی نقل نے جو ’واول‘ (Vowel)حروف جیسی آواز پیدا کی جو ’a‘ اور ’e‘ کے درمیان کی آواز تھی۔واضح رہے کہ رائل ہولووے، یونیورسٹی آف لندن، یونیورسٹی آف یارک اور لیڈز میوزیم کے سائنسدانوں نے اس ممی پر مشترکہ تحقیق کی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس